مسئلہ کشمیر کا پرامن وپائیدار حل
بھارت عمران کی پیشکش کا مثبت جواب دے : پیپلز مومنٹ
راجوری// جموں کشمیر پیپلز مومنٹ نے نئی دلی پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمر ان خان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے مذاکرات کی پیش کش کا مثبت جواب دے تاکہ اس دیرینہ مسئلے کا پر امن اور پائدار حل تلاش کیا جا سکے۔ سینئر حریت رہنما اور پیپلز مومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے اپنے ایک بیان میں پاکستان کے متوقع وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم پاکستان کی نومنتخب قیادت سے امید کرتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ان کی آرزو¿ں اور خواہشات کے مطابق حل کرنے کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔ انہوں نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ اس کی جانب سے اختیار کی گئی ہٹ دھرمی مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔میر شا ہد سلیم نے کہاکہ جنوبی ایشیا میںاس وقت تک پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ تعمیر و ترقی ممکن ہے جب تک کشمیر کا 70 برس پرانا تنازعہ کشمیری قوم کی آرزو¿ں اور تمناو¿ں کے عین مطابق حل نہیں ہوتا۔ حریت رہنما نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کے متعلق ہمیشہ ہٹ دھرمی اور غیر منصفانہ موقف اختیار کئے رہا جس سے اس مسئلے کا کوئی بھی حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ظلم و زیادتی اور جبرو استبداد کے ذریعے کشمیری عوام کی مبنی بر صداقت اس تحریک کو کسی بھی طور دبایانہیں جاسکتا۔
تحریک انصاف پارٹی کی کامیابی پر فریڈم مو¿ منٹ کی مبارک باد
جموں//عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کی شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے فریڈم موومنٹ نے عمران خان کی قوم کے نام اپنی پہلی تقریر میں مسئلہ کشمیر کے حوالے کو قابل تحسین عمل قرار دیا۔پریس کے لئے جاری ایک ریلیز کے مطابق عباس منزل شہیدی چوک جموں حرےت کانفر س کے سینئر لیڈروجموں کشمیرفریڈم موومنٹ کے چیرمین محمدشریف سرتاج نے اُمید ظاہر کی کہ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کئے جانے کے لئے ہندستان کے ایک قدم آگے بڑھائے گا۔ پاکستان کی طرف سے دو قدم آگے بڑھانے کی پیش کش کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندستان کو اس مخلصانہ اور سنجیدہ پیش کش کا مثبت جواب دے کر مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدارحتمی حل کے لئے آگے آنا چاہیے، تاکہ برصغیر کی خراب زمینی صورتحال کو ٹھیک کیا جاسکے۔ تاکہ گزشتہ ستر سالوں سے یہاںجاری خونخرابے کاخاتمہ ہو۔ فریڈم موومنٹ کے چیرمین نے مسئلہ کشمیر کو انتہائی حساس مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ہندستان اور پاکستان کے درمیان کئی خونین جنگوں کے علاوہ دوطرفہ مذاکرات کے درجنوں ادوار کی ناکامیوں کے آئینے میں اس رستے ہوئے ناسور کو حل کرنے کی جانب آج مظلوم کشمیری عوام کی امنگوں اور تمناو¿ں سے لبریز نظریں پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان کی طرف لگی ہوئی ہیں۔1947ءسے اب تک ریاست جموں کشمیر میں سات لاکھ نفوس کو قتل وغارت گری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔انہوںنے پاکستان کے متوقع وزیر اعظم سے یہ اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مضبوط پاکستان کو فروغ دینے کے لئے نہ صرف پوری دنیا کے ساتھ اپنے خوشگوار سفارتی تعلقات کو مزید بڑھاوا دینے کی مخلصانہ کوششیں جاری رکھیں گے، بلکہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی اپنی پہلی توجہ مرکوز کریں گے۔
ناجائزتجاوزات ہٹانے کےلئے ریاستی سرکار سرگرم
صوبائی کمشنر کی متعلقہ محکموں کو
سرکاری اراضی واگزار کروانے کی ہدایت
جموں// سرکاری زمینوںپرناجائز تجاوزات کو ہٹانے کےلئے ریاستی سرکار نے اٹھوس اقدامات کرتے ہوئے ایک سرگرم عمل مہم کی شروعات کی ہے اس بات کی جانکاری آج یہاں ڈویژنل کمشنر سنجیوورما نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اورجموںمیونسپل کارپوریشن محکمہ پولیس اورفلڈ کنٹرول کے اعلی افسران کے ساتھ بلائی گئی خصوصی میٹنگ میںدی۔قابل ذکرہے کہ ریاستی اسمبلی میں انکشاف ہوا تھاکہ ریاست بھر میں 1510ایکڑ کی زمینوں پرناجائز قبضہ کیا گیاہے جبکہ جموں میونسپل اتھارٹی نے6818 ایکڑ زمین کی شہری ترقی کےلئے اب تک نشاہدی کی ہے اورسال 1973ءسے اب تک ریاستی سرکار نے 9479ایکڑ کی زمین جموںڈویلپمنٹ اتھارٹی کے نام پرمنتقل کی ہے جس میں6818 ایکڑ زمینوںکی اب تک نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔
بھلہ گورنرانتظامیہ سے مطمئن،جموں کے مسائل حل کر نے پرزوردیا
جموں// گورنر این این ووہرا کی انتظامیہ کی سراہنا کرتے ہوئے سابق اورسرکردہ کانگریس لیڈر رمن بھلہ نے شری امرناتھ کی مقدس یاترا کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کےلئے اٹھائے گئے اقدام کا خیرمقدم کیاہے۔ انہو ں نے کہاہے کہ ریاست بھر میں وارد ہورہے ملک بھر سے بھاری تعداد میںیاترایوںکے باعث سیاحتی شعبے کو فروغ ملا ہے اوراس دوران یاتریوں کی سہولیات کےلئے اٹھائے گئے اقدام قابل تعریف ہےں۔ انہوںنے امید ظاہرکی ہے کہ اگر ریاست میں ملک بھر سے بھاری تعداد میں یاتری درشنوں کےلئے آئیں گے اس نہ صرف ریاست کو سیاحت شعبے فروغ ملے گا بلکہ ریاست کے لوگوں کی مالی حالت میں بھی سدھار ہوگا۔ انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہربرس لاکھوں عقیدت پسند ماتا ویشنو دیوی کے درشنوں کےلئے ملک کے ہرکونے سے آتے ہیں جس سے جموں خطہ کی مالی حالت کافی مستحکم ہوتی ہے۔ یہاں پرجاری پریس بیان میں انہوںنے ریاستی گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ تمام ہندو دھرم کے مقدس مقامات کے دروازے کھولنے کےلئے قدم کریں تاکہ شیو کھوڑی،چنڈی ماتا،سرتھل ماتا جیسے مقدس مقامات پردرشنوں کےلئے لاکھوںیاتریوں کی آمد ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے جس سے ریاست کے سیاحتی شعبے میں نہ صرف فروغ نصیب ہوگا بلکہ ریاست کی مالی حالت بھی مستحکم ہوجائے گی۔
پلس ٹو لیکچرروں کاوفود گورنرکے مشیر سے ملاقی
جموں//آل جموںوکشمیر پلس ٹو لیکچر روں کا وفد دیپک شرما کی قیادت میں آج ریاستی گورنر کے صلاحکار خورشید احمدگنائی سے ملاقی ہوا اورلیکچراروں کو پیش آرہے مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے ایک میمورنڈم پیش کیا۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق اپنے پیش کردہ میمورنڈم میں وفد نے لیکچر اروں کی زیرالتوا میں ترقیوں کے معاملہ پر ازسرنو غورکرنے کی مانگ کی ۔ انہوںنے کہا کہ برسراقتدار سرکاروں کے نظر انداز رویہ کے سبب پلس ٹو لیکچر ارمایوسی کا شکار ہو گئے ہےں ۔ انہوںنے لیکچرار وں کی تنخواہوں میں تمام ترتفاوتوں کو دورکرنے کی بھی اپیل کی ۔ انہوںنے کہاکہ ریاستی ملازمین کے بیورکروٹیس جن میں کے ایس اورکے پی ایس افسران شامل ہیں ، کو ریاستی سرکار سے تمام تر سہولیات اور مراعات مل رہی ہے جن میںترقیاں وغیرہ بھی شامل ہیں لیکن بدقسمتی کامقام یہ ہے کہ پلس ٹوکے لیکچرر اروں سے سوتیلی ماں کاسلوک کیاجارہاہے جو نہ صرف لیکچراروں کی بلکہ عوام کی بدقسمتی ہے جن کی امیدیں طبقہ سے وابستہ ہیں۔ اس موقع پروفد نے کے اے یس اورکے پی ایس کے بنیادوں پر تمام ترسہولیات فراہم کرنے کا مًطالبہ کیاہے۔
مرکزی پنشنروں کے وفدکا نارائنہ ہسپتال کٹرہ کا دورہ
جموں//مرکزی سرکار کے پنشنروں کا ایک گروپ گزشتہ روز شری ماتا ویشنو دیوی نارائنہ سپر سپیشلٹی ہسپتال کٹرہ میں گیا اور وہاں مرکزی سرکار کے پنشنروں کو مہیا کروائی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔ حال ہی میں مرکزی سرکار نے نارائنہ ہسپتال کو اپنے پنشنروں کے علاج کے فہرست کئے ہسپتالوں کی لسٹ میں شامل کیا ہے ۔ نارائنہ ہسپتال ریاست کا واحد ایسا ہسپتال ہے جسے اس قسم کی سہولیات کی فراہمی کے لئے چنا گیا ہے ۔ وہاں گئے وفد میں 23پنشنر شامل تھے جنہوں نے ہستپال کے حکام کے ساتھ بات چیت کر کے ان سے موجود سہولیات کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں ۔وفد نے ہستپال کے او پی ڈی ، ایمرجنسی وارڈ، پرائیویٹ وارڈاور مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور وہاں دستیاب سہولیات کے بارے میں بات کی۔
جگٹی میں نشہ کی بدعت کے متعلق پر بیداری پروگرام
ڈرگ مافیا سرگرم، اﺅر ڈوز 2 جوانوں کی موت باعث تشویش
جموں//حال ہی جگٹی ٹا¶ن شپ میں دو نوجوانوں کی پراسرارطورپر ہوئی ہلاکت پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے ٹیم جموں نے کہا ہے کہ پاکستان ہمارے نوجوانوں کو نشے کے عادی بنانے میں جٹا ہوا ہے اورڈرگ مافیہ اندر ہی اندر بدستور اپنا کام کررہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ڈر گ مافیا کی سرگرمیوں کے چلتے حال ہی جموں شہرسے 12کلومیٹر کی دوری پر واقع جگٹی ٹاون شپ میں2 نوجوان لڑکوں کی پراسرار طورپر موت واقع ہوچکی ہے۔ انہوںنے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرگ مافیا پر پوری طرح سے نظر رکھیں کہ آیا وہ کس طرح سے اپنے خدمات سرانجام دیکر علاقہ میں غیرقانی طورپر پابندی عائد شدہ نشیلے ادویات کو سمگلر کرکے سپلائی کرتے ہیں اور ہمارے نوجوانو ں کے ذہنوںمیں برے اثرات پیدا کرکے ان کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے۔انہوںنے مزید کہا ہے کہ دکھ کامقام یہ ہے گزشتہ 10 دنوں کے اندر جگٹی ٹاون شپ میںاب تک دو نوجوان لڑکوں کی پراسرار طورپر موت واقع ہوتی ہے اورکہیں سے بھی کسی کانوں تک کسی کو خبر نہیںہے۔ نشے کی بدعت پر قابو پانے کی غرض سے آج جگٹی ٹاون شپ میں بیداری کیمپ میں لگایاگیا تاکہ نشے کے آدی لوگوں کے ذہنوں میںیہ بھی اتر جائے کہ نشے سے زندگی چھن جاتی ہے ۔ زوراور سنگھ مطالبہ کیاہے کہ انتظامیہ یہاں کے مقامی نوجوانوں کا تعاون دے کر سمگلنگ ہورہے منشیات پر فوری طورپر قدغن لگائے ۔ نشہ کے بدعت کے خاتمہ کےلئے لگائے گئے بیداری کیمپ میںہزاروںکی تعداد میں مقامی لوگوںکے علاوہ جگٹی ٹاون شپ سے وابستہ نوجوانوںنے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ اس موقع پر ایس ڈی پی او‘نگروٹہ‘یش بیر سنگھ سلاتھیہ‘ ایس ایچ او نگروٹہ انسپکٹر دیپک پٹھانیہ موجود رہے۔ نشہ کے خلاف عنوان پر اپنے خیلات اظہار کرنے والے گیارہویں و بارہویںجماعت کے طلبا ءاورطلبا¶ں میں انعامات تقسیم کئے جن میں انکیا باغاتی‘میگا پنڈت‘ ونود زتشی‘ نیم گوسوامی‘راجندر دھر‘ روپ کرشن بھٹ ‘ دیپک ‘راکیش جموال‘ ارون سادھو ‘شبن‘اکشے ‘روی اور رمیش کمار وغیرہ شامل ہیں۔
سعا دت حسن منٹو کی کہانی”بانجھ“پر مبنی ناٹک پیش
جموں// ایتوار کے روز تھیٹر سیریز کے طورپر نٹ رنگ ڈرامہ نگار نے سعادت حسن منٹو کی مشہو رکہانی ” بانجھ“ پر مبنی ڈرامہ پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر بپن گپتا ڈائریکٹر کی جانب ڈرامہ اس انداز میں پیش کیاگیا کہ سامعین کے آنکھوں میںرونق اورنئی ہلچل دوڑنے کو ملی ہے۔کہانی کار سعا دت حسن نے اپنی تحریر کردہ کہانی میں لکھا ہے کہ ایک دن ان کی ذاتی طور پر سمندر کے ساحل پر کسی اجنبی سے ملاقات ہوتی ہے جو کافی اچھے آدمی ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر عجیب جذبات ہوتے ہیں جوان کو کافی پسند آتے ہیں۔اور کئی دیر تک ساحل پر دونوں محبت کے پروانوںکی باتیں کرنے لگے اورآخر محبت کیا چیزہے اورمحبت کو دراصل تصور کیا اور پیار کے بغیر دنیا کو بے مطلب سی دنیا اور لافانی بتایا۔کہانی کے دوسرے مرحلے کے دوران منٹو ایک دن اجنبی کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ محبت کے عنوان پر مزید چرچاکی جاسکے۔ آخرکار کہانی کار اپنے خیالات کو اظہار کرنے کی تلاش کو ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اورسانحہ والی پیار کی کہانی میں عجوبہ آدمی کے خیالات کو بیان کیا جس میں ایک ہیرو کے طورپر کام کرتے رہے ۔کہانی میں ایک ڈرائیورکے طورپر ان کا پیار ان ہی کی ماسٹر کی بیٹی کے ساتھ ہوتاہے کیونکہ دل فریبی ہے اور دونوں میں آپسی تال میل اور اتفاق ہوتا ہے اور وہ دونوں متفق ہو جا تے ہیں۔ آخرکار دونوں فرارہوکر شادی رچا تے ہیں لیکن حسین جوڑے کی کسی لاعلاج بیماریوں کے باعث کچھ ہی وقت کے بعدموت ہوجاتی ہے ۔ آخرکار سعادت حسن کی کہانی دراصل جذبات پرمبنی اور چھوٹے پردے پر کافی مشہورہوئی۔ دکھائے گئے ڈرامے میں اہم کردار نبھانے والے بپن گپتا‘ گوتم شرما µ گوتم کمار‘ آشلے مہتا اورششناک سنگھ چاڑک‘ جبکہ روشنی کا انتظام برجیش اوتار جبکہ موسیقی نگار راہیل شرما اور شو سنگھ کے علاوہ محمد یاسین تعاون کار نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی۔
بھاجپا ہرمحاذ پرناکام : سلاتھیہ
جموں کی عوام کے جذبات کیساتھ کھلواڑکرنے کا الزام
جموں//جھوٹے وعدے اورجھوٹے بلند بانگ دعو¶ں کے بناءپر جموں کے عوام کی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے الزام میں سابق وزیر اورنیشنل کانفرنس کے لیڈرسرجیت سنگھ سلاتھیہ نے بھاجپا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاہے کہ بھاجپا نے اپنی سیاسی مفاد کی خاطر جموں کی عوام کے ساتھ زبردست دھوکہ کیا ہے۔ سلاتھیہ نے کہا کہ بھاجپا صرف تین سالوں میں ہی ریاست بھرمیں کھوکھلا ہوچکی ہے اوراپنی ذاتی مفاد کی خاطر لوگوں کو بربادی کے دہانے پرپہنچادیاہے۔قابل ذکرہے کہ سلاتھیہ آج بڑی براہمناں میں پارٹی ورکروں سے خطاب کررہے تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے مزید بتایاہے کہ بھاجپا نے جموں کی عوام کےلئے کچھ نہیں کیا ہے بلکہ ماسوائے سیاسی نفرت آمیز انتظامیہ کامظاہرہ کرکے لوگوں کو دکھ او درد میںمبتلا کیا ہے۔سلاتھیہ نے مزید بتایاہے کہ بھاجپا نے اپنے حقیر سیاسی مفادات اور تنگ نظری کوددھیان میںرکھتے ہوئے جموںخطہ کو نظراندا ز کیاہے جس کےلئے جموں کی عوام اس پارٹی کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوںنے مزید کہاہے کہ دورافتادہ اور سرحدی علاقو ں میں لوگوں کی صورتحال جوں کی توں بنی ہوئی ہے اورکئی پیچیدہ مسائل سے دو چار ہیں۔ عام شہری بنیادی سہولیات سے محروم اورمہنگائی کی شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہاہے کہ بھاجپا ہرمحاذ پرناکام ہوچکی ہے اوراپنے دوراقتدار کے دوران لوگوں کو بے قوف بناکر کافی گمراہ کیاہے جوکہ باعث تشویش اوردکھ کامقام ہے۔قابل ذکرہے منعقد میٹنگ میں پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ بھاری تعداد میںلوگوں نے شرکت کی۔
جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کا چھیالیسواں سالانہ اجلاس
سرینگر //جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ نے اپناچھیالیسواں یومِ تاسیس و سالانہ کانفرنس اتوار۹۲ جولائی۸۱۰۲ءکو مرکزی دفتر باراں پتھر ہفت چنار سرینگر کے آڈیٹوریم میں نہایت ہی پُر وقار انداز میں منایا۔ یہ تقریب ٹرسٹ کے بانی سرپرست مرحوم ٹاک زینہ گیری کے تیئں خراج عقیدت ادا کرنے کی خاطر بھی منعقد کی گئی۔ تقریب میں جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف سے آئے ہوے لاتعداد ممبران اور رضاکاراں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے اپنی شمولیت سے مجلس کی رونق بڑھائی۔ جسٹس بشیر احمد کرمانی صاحب بطورمہمان خصوصی جبکہ غلام محمد ڈار ڈپٹی کمشنر پلوامہ، محمد فاروق وانی اور ظریف احمد ظریف بطورِ مہمانِان ذی وقار شامل رہے۔تقریب کی صدارت ٹرسٹ کے سرپرست ظہور احمد ٹاک صاحب نے انجام دی۔ مجلس کا آغاز قران کریم کی چند مقدس آیات کی تلاوت بشمول ترجمہ کے ساتھ ساتھ نعت سے ہوا یہ مبارک اور متبرک فریضہ ٹرسٹ کے زیر کفالت بچوںنے اپنی پر اثر، میٹھی اور درد بھری آواز میں انجام دیکر سامعین کے من موہ لئے۔ ادب، ایڈمنسٹریشن اور سماجی خدمات میں نمایاں اور فقیدالمثال کارکردگی کے اعتراف میں بالترتیب محمد فاروق وانی، غلام محمد ڈار اور ظریف احمد ظریف کو ٹاک زینہ گیری میموریل ایوارڈ برائے سال۸۱۰۲۔۷۱۰۲ سے نوازا گیا۔ اسکے علاوہ ٹرسٹ کے بارہ یتیم خانوں میں زیرِ کفالت۶۳ بچوں اور بچیوں کو ڈسپلن صفائی اور تعلیم میں نمایاں اور امتیازی کارگردگی کی بناءپر اسناد اور تحائف سے نوازکر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ پروفیسرمحمد فاروق وانی نے شکریہ کے ساتھ ایوارڈ حاصل کرتے ہوے ٹرسٹ کی چھیالیس سالہ بے لوث خدمتِ محتاجگاں کی ستائش کی۔ انہوں نے مستحق طلباءکی اعلیٰ تعلیمی کاوشوں میں اپنا تعاون دینے کی یقین دہانی کرتے ہوے جموں کشمیر یتیم ٹرسٹ کو اسکی فلاحی کوششوں میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ ظریف احمد ظریف نے ان کو شعر و ادب اور سماجی خدمات میں ٹاک زینہ گیری ایوارڈ کے انتخاب کیلئے شکریہ ادا کرتے ہوے کہاکہ وہ مرحوم ٹاک زینہ گیری کی ان دردمندانہ سماجی خدمات سے بہت حد تک متاثر رہے ہیں۔جن سے انہیں خود بھی غریبوں،محتاجوں اور بیواو¿ںکو مدد پہنچانے کیلئے زبردست تحریک ملی۔ پچھلے چھیالیس سالوں سے مفلوک الحال، مسکینوں و بیواو¿ں، اور دیگر مستحقین کی دلجوئی کرنے پر جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کے موجودہ سرپرست ظہور احمد ٹاک صاحب کی تعریف کرتے ہوئے موصوف نے ٹرسٹ کیلئے نیک دعاو¿ں اور تمناو¿ں کا اظہار کیا۔ سید عبد الرو¿ف جنرل سیکریٹری نے جلسے کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے۸۱۔۷۱۰۲ کے لئے ٹرسٹ کی تمام فلاحی سرگرمیوں کا خاکہ اور مکمل تفصیل سالانہ رپورٹ کی صورت میں پیش کیا اور سامعین کو ان تمام پروگراموں کی جانکاری دلائی ۔مقرریں نے مرحوم ٹاک زینہ گیری کے تیئں گلہائے عقیدت نچھاور کرتے ہوے فرمایا کہ مرحوم ریاست اور بلا امتیازا سکے عوام کیلئے ایثار و خلوص کے پیکر تھے۔یوں تو ایک سرکاری آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے انتظامیہ میں بھی لگن ، محنت اور دیانت سے کام کیا لیکن سماجی خدمت کے حوالے سے انہوں نے ایسی چھاپ چھوڑی جو ہر ایک ذی شعور کے دل میں مرتے دم تک نقش رہے گی۔اپنے مخصوص انداز میں جسٹس بشیر احمد کرمانی نے ٹرسٹ کی چھیالیس سالہ سماجی خدمات کو سراہتے ہوے ٹرسٹ کے بانی جناب مرحوم عبدالخالق ٹاک زینہ گیری کے تئیں خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے زکوٰة کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوے اصحاب ثروت پر زوردیا کہ وہ اپنے صدقات و زکوٰة ادا کرکے ٹرسٹ کے خیراتی و فلاحی کاموں میں شرکت کریں تاکہ دکھی انسانیت کا بھلا ہو۔اپنے صدارتی خطبے میں ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ ظہور احمد ٹاک نے شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوے قران و حدیث کی روشنی میں سماجی خدمت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے منفرد اور پرکشش انداز میں سامعین اور عوام الناس سے یتیموں، بیواو¿ں اور محتاجوں کی خدمت کی خاطر ٹرسٹ کیلئے دست تعاون مانگا۔ ٹرسٹ سے وابستہ رضاکاروں اور ان کے جذبہ¿ ایثار و ہمدردی کیلئے شکریہ ادا کرتے ہوے انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں فرصت سے بیٹھے رہنے اور خوش فہمی سے اجتناب کرتے ہوے عجز و انکساری سے فلاحی کاموں کو سرگرمی سے انجام دینے کی فکر کرنی چاہیئے۔اور اس سلسلے میں کسی بھی زہر آلودہ تنقیص سے پریشان ہوے بغیر خدمت خلق میں منہمک رہنا چاہئے۔