جموں// یونیورسٹی کے قواعدکے مطابق کالجوںمیں طالب علموں کو آزادنہ طورپر داخلہ دینے کی صورتحال کو یقینی بنانے کی مانگ کو لیکرکثیر تعداد میں جموں جوانئٹ سٹوڈنٹس فرنٹ کارکنوںنے یونیورسٹی کیمپس کے علاوہ جی جی ایم سائنس کالج جموں میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ۔ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق جموں خطے سے وابستہ دوردراز سے آئے ہوئے کثیر تعداد میں جے جے ایس ایف کی قیادت میں طلباء نے برائے سال2018-19 کے دوران کالجوںمیں مختلف کورسوں کیلئے برتی جارہی کوتاہیوں اور اندیکھیوںکے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ۔ طلبا نے ریاستی انتظامیہ پر الزام لگایاہے کہ انتظامیہ تاناشاہی کارویہ اپنائے ہوئے اور طالب علموں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیاجارہا ہے جو ناقابل برداشت ہے۔ انہوںنے اس برس کالجوں میں بے ترتیب طورپر عملائی جارہی داخلہ نظامیہ پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس برس طالب علموں کو داخلہ لینے سے محروم کیاجارہاہے جو باعث تشویش کامقام ہے۔احتجاجی جلوس میں ایم ایم کالج اورایس پی ایم آرکالج آف کامرس کے علاوہ کئی دیگر مقامی کالجوں سے وابستہ طالب علموں نے شمولیت کی۔ فیڈریشن کے صدر پشویندر سنگھ نے الزام لگایاہے کہ یہ بدقسمتی کامقام ہے کہ اس سال داخلہ نظام میں بہت حد تک کمی کی جارہی ہے ہرسال 15000 ہونہار طالب علموں کیلئے داخلہ کا انتظام ہوتا تھا لیکن اس برس داخلہ نظام میں کٹوتی کرکے 6100سیٹوں کی تخفیف کیا ہے جس سے طالب علموں کی پریشانیوںمیںاضافہ ہوچکاہے۔