جموں//کٹھوعہ معاملہ میں استغاثہ نے اپنے اس دعویٰ کے حق میں سائنسی ثبوت پیش کئے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم وشال جنگوترہ جرم کے وقت میرٹھ میں موجود نہ تھا۔ ضلع و سیشن عدالت پٹھانکوٹ نے وشال ،جو کہ ملزم میرٹھ کے ایک کالج میں بی ایس سی ایگریکلچر کا طالب علم ہے ،اس کے نابالغ کزن، والد سانجھی رام اور ایس پی او دیپک کھجوریہ کے خلاف 8سالہ بچی اور قتل کے معاملہ میں فرد جرم عائد کر رکھی ہے ۔ چارج شیٹ کے مطابق وشال جو کہ بچی کی عصمت ریزی کا ملزم ہے ، نے جائے واردات سے غیر حاضر ہونے کے لئے فرضی ثبوت پیش کرنے کی کوشش کی تھی ۔اس کی امتحانی جوابی کاپیاں اور حاضری شیٹ ماہرین خطاطی کے پاس بھیجے گئے تھے جس میں ماہرین نے واضح کر دیا ہے کہ 12اور 15جنوری کو حاضری شیٹ پر وشال کے دستخط اس کے ہینڈ رائٹنگ سے میل نہیں کھاتے ہیں۔ بچی 10جنوری کو اغواء کی گئی تھی اور 13جنوری کی رات اس کا بے رحمی کے ساتھ قتل کر کے اس کی نعش کو وشال، اس کے نابالغ کزن اور دیپک کھجوریہ نے پھینک دیا تھا۔ جس کے بعد14جنوری کو وشال ایک ٹرین میں سوار ہو کر میرٹھ چلا گیا، بچی کی نعش 17جنوری کو برآمد ہو ئی تھی۔ ماہر خطاطی نے رائے ظاہر کی ہے کہ 12اور15جنوری کو دستخط کا پہلا لفظ ’وشال ‘ملزم کے خط سے میل نہیں کھاتا وہیں اس میں لکھا گیا دوسرالفظ’ جنگوترہ‘بعد ازاں جوڑا گیا لگتا ہے ۔کرائم برانچ نے ملزم کی طرف سے 9جنوری کو تحریر کردہ جوابی کاپی کے ساتھ ساتھ 12اور 15کی جوابی کاپیاں بھی ضبط کی ہیں ، استغاثہ کا ماننا ہے کہ موخر الذکر دونوں تاریخوں کے جواب نامے ارتکاب جرم کے بعد لکھے گئے ہیں۔ماہر خطاطی کا کہنا ہے کہ 9تاریخ اور 12و15جنوری کی تحریر میں بھی واضح فرق پایا جاتا ہے جو لکھنے والے کے ذہنی انتشار کا غماز ہے ۔ کرائم برانچ کا کہنا ہے کہ 15جنوری بعد دوپہر میرٹھ پہنچنے کے بعد ملزم شدید ذہنی دبائو میں تھا۔ چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ فورینسک ماہرین نے واضح کیا ہے کہ حاضری شیٹ میں ہیر پھیر کیا گیا ہے ، ملزم 12اور15کے امتحان کے دوران میرٹھ میں موجود نہ تھا اور اسے بعد ازاں حاضری شیٹ فراہم کئے گئے تا کہ وہ قانون کے پنجے سے بچنے کے لئے فرضی ثبوت پیدا کر سکے ۔