جموں//کثےر اللسانی ادبی تنظےم ادبی کُنج جے اےنڈ کے جموں کے ادبی مرکزکڈذی سکول تالاب تِلّوجموں مےں گذشتہ روز خصوُصی طور پر اےک ادبی و ثقافتی نِشست کا اِہتمام کِےا گےا۔ جِس کی صدارت کے فرائض ہِندی و پنجابی زبان کے جانے مانے شاعر ایم اےس کامرا نے سر انجام دِئے۔ جبکہ اِس بار نِشست کی نِظامت کے فرائض تنظےم کے شاعر و گلوکار چمن سگوچ نے انجام دِئے۔ جِس مےں اُردوُ زبان کے شہرہ آفاق شاعر مالک سنگھ وفا سنگدِل نے گُذرے وقت کا اےک سچّا افسانہ ’کالی جھنڈی‘ سُنا کر حاضرےن کی توجّہ چُرا لی۔ جِسے سب نے جی بھر کر سراہا۔ اِس کے ساتھ ہی اُنھوں نے ےومِ آزادی کی اہمےّت اور اِس کے قومی وقار پر سےر حاصل روشنی ڈالی۔ جبکہ16اگست کوہوئی سابق وزےر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی وفات کے سِلسِلے مےں خراجِ عقےدت کے طور پر اُنھوں نے سوگ و ےاس مےں ڈوُبی ہوئی اپنی اےک غزل ےوںپےش کِی۔’ زندگی کےا ہے اِک فسانہ ہے۔جےنا مرنا تو اِک بہانہ ہے۔‘ تنظےم کے گلوکار چمن سگوچ نے دےش بھگتی کا اےک گےت ’بھارت مےرے کی شان نِرالی ہے دوستو ‘ گاکر سب کو پُر سروُر کر دِےا۔اِس نِشست مےں حِصّہ لےنے والے دےگر شعراءمےں جواں سال شاعر عبدال جبّار بٹ کی غزل تھی ’دفعتاً ہم سے جو مِلا ہے کوئی ، اپنا احساس دے گےا ہے کوئی ۔‘ بِشن داس خاک کی غزل تھی ’ نہ دِل جےتنے کی ادا ہم مےں ےارو، ہمےں آج تک دِل لگانا نہ آےا‘ مہاراج کرشن کی کشمےری نظم کا لب و لُباب تھا ’بھگوان مےری سُنو سُنو، مُجھ کر سب اچھائےاں دےدو‘۔ آرش دلموترہ کی نظم تھی، ’برس اِکہتّر ہوئے جب بھارت کو آزادی مِلی ،ختم انگرےزی حکومت ہوئی بڑی بربادی مِلی‘۔ نِشست کے صدر اےم اےس کامرا کی واجپئی کےلئے خراجِ عقےدتی نظم تھی، ’تےرے گےّت ہواﺅں مےں ہونگے، تےرا نام فِضاو¿ں مےں ہوگا۔ نِشست کے آغاز مےںتنظےم کے چئیرمےن آرش دلموترہ نے حاضرےن کو مطلع کِےا کہ اس سال ادبی کُنج کے 44وےںےوُمِ قےام کا پروگرم کے اےل سہگل ہال کی بُکنگ کے مطابق 27 اگست کے روز4 بجے شام منعقد کِےا جائے گا۔ چئےرمےن نے تنظےم کے صدر شام طالب کی صحت ناساز ہونے کی وجہ بےان کرتے ہوئے بتاےا کہ آج وہ اِس وجہ سے نِشست مےں شامل نہ ہو سکے ہےں۔ نِشست کا اِختتام تنظےم کے چئےرمےن آرش دلموترہ کی طرف سے شعراءکیلئے پےش کی گئی شُکرےہ کی تحرےک سے ہوُا۔