کٹھوعہ/ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر ڈاکٹر نرمل سنگھ نے دھرم کوٹ سے مالٹی کے راستے سرارہ تک جانے والے5 کلومیٹر لمبی سڑک کے تعمیری کام کا سنگ بنیاد رکھا۔ یہ پروجیکٹ محکمہ تعمیرات عامہ نبارڈ کے تحت اڑھائی کروڑ روپے کی لاگت سے عملارہا ہے۔سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ڈاکٹر سنگھ نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنی ، بلاور اور لوہائی بلاکوں میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت 608کرو ڑ روپے لاگت والے 122سڑک پروجیکٹوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ 928 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کے مقابلے میں اب تک 301کلومیٹر مسافت والے 33سڑکوں کو مکمل کیا جاچکا ہے ۔سپیکر موصوف نے کہا کہ 26کلومیٹر کی مسافت والی 5سڑکوں پر کام شروع کیا جاچکا ہے جس کو نبارڈ کے تحت 23کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جبکہ 16کلومیٹر مسافت والی2سڑکوں پر 40 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی جس کو سی آر ایف کے تحت عملایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جامع ترقی اور مضبوط سڑک رابطوں کے لئے سڑکوں کی تعمیر کے بعد ان کا رکھ رکھاﺅ انتہائی لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ا س عمل میں غفلت برتنے کی وجہ سے خرچ کی گئی رقومات بھی ضائع ہوجاتی ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ بلاور قصبے میں 15کلومیٹر مسافت والی 5 سڑکیں ساڑھے 5 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جائے گی جس سے قصبے میں ٹریفک نظام میں بہتری آئے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دیالہ چک سے چالان کے راستے بلاور کے تک جانے والی 700کرو ڑروپے لاگت والی قومی شاہراہ کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے۔انہوںنے کہا کہ بلاور حلقے میں پی ایم اے وائی کے تحت 55 مستحقین کو مکان فراہم کئے گئے اور 30بستروں والے ہسپتال کو ترقی دے کر 100بستروں والا بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاور میں 700کروڑ روپے کی لاگت والے مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں پر کام جاری ہے۔ڈاکٹر نرمل سنگھ نے کہا کہ بلاور میں 2019ءتک ہر گھر کو بجلی پہنچانے کا 100فیصدی نشانہ بھی حاصل کیا جائے گا۔سپیکر نے کہا کہ انہوں نے محکمہ صحت عامہ سے جڑے کئی مسائل حل کرنے کےلئے اپنے کانسچیونسی ڈیولپمنٹ فنڈ میں سے 80لاکھ روپے کی رقم دی ہے۔بعد میں سپیکر نے بلاور حلقے کے مختلف علاقوں سے آئے عوامی وفود سے ملاقات کی۔