جموں// بی جے پی مائیگرنٹ سیل نے نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈتوں کی املاک پر ناجائز قبضہ کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ مائیگرنٹوں کی وادی میں چھوڑی گئی جائیدادوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے ۔ آج پارٹی ہیڈ کوارٹر پر ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے پردیش نائب صدر گردھاری لال رینہ ایم ایل سی نے کہا کہ وادی کشمیر کے اندر ان کی غیرمنقولہ جائیدادپر ناجائز قبضہ کیاجارہا ہے جس کے تحفظ کے لئے انتظامیہ موثر اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ کشمیری پنڈت برادری کو وادی کشمیر کے اندرایک منظم طریقہ سے سماجی، اقتصادی اور سیاسی طور کمزور کیاگیا۔ جب کشمیری پنڈت کشمیر سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تو اربوں کھربوں کی غیرمنقولہ اراضی اپنے پیچھے چھوڑ آئے لیکن انتظامیہ اس جائیداد کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی، اس کے لئے کوئی موثر اقدامات نہیں اٹھائے جارہے، نتیجہ کے طور پر مافیا اراضی پر قبضہ کر رہاہے اور اس عمل میں بقول ان کے سرکار بھی ملوث ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے اندر مندروں اور شرائین کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں جس سے کشمیر کی ثقافت کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کو ریشیوں ،منیوں نے سخت تپسیا کے بعد حاصل کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کے لئے سال 2004سے وزیر اعظم پیکیج نافذ العمل ہے لیکن وہ عمل تک مکمل نہیں ہوپایا۔ اس کے تحت اہداف کی حصولی میں تاخیر کی جارہی ہے۔ جولوگ پیکیج کے تحت کشمیر گئے ان کی رہائش کا وہاں انتظام نہیں، چھ ہزار رہائشی کوارٹر بنائے جانے تھے جن میں سے ابھی تک پانچ سو بھی نہیں بنے ہیں۔مرکزی وریاستی سرکار کی طرف سے چلائی جارہی متعدد فلاحی اسکیموں کا بھی فائیدہ کشمیری پنڈتوں کو نہیں مل رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ کشمیری پنڈتوں کے لئے وادی کشمیر کے اندر مائنارٹی ویلفیئر بورڈ بنایاجائے۔انہوں نے غیر منقولہ جاائیداد پر غیر قانونی قبضہ کو جلد ہٹانے،مندروں اور شرائین کے تحفظ کے لئے قانون لانے ، روزگارپیکیج کی تیزی کے ساتھ عمل آوری کا مطالبہ کیا۔یواین آئی
کشمیری پنڈتوں کیلئے ’پوسٹل بیلٹ‘نظام ختم کرنے کی مانگ
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی نے الیکشن حکام سے ’پوسٹل بیلٹ‘نظام ختم کر کے ان کی چناؤ میں موثر اور معنی خیز شرکت کو یقینی بنانے کی مانگ کی ہے۔بھاجپا ایم ایل سی جی ایل رینہ نے پریس کانفرنس میں کہاکہ پہلے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں کشمیری پنڈتوں کو شامل ہی نہیں کیاگیاتھا، اس کے خلاف آواز اٹھائی ، اب ان کی چناؤ میں شمولیت تو یقینی بنای ہے لیکن جوطریقہ کار اپنایاجارہاہے وہ غیر قانونی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کے پوسٹل بیلٹ کے ذریعہ ووٹ لئے جارہے ہیں ، جس میں دھاندلیوں کا احتمال رہتاہے۔ یہ جموں وکشمیر ری پرنزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ایم فارم ضرورت کو ختم کرنے کے لئے ان کی بامقصد شرکت انتخابات میں یقینی بنائی جائے۔انہوں نے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کو جمہوری عمل میں معنی خیز شرکت سے دور رکھاگیاہے، جوطریقہ کار اپنایاجارہاہے وہ محض آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔پورے نظام کو بدلنے اور اس کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔