جموں کی مسلم بستیوں کی ووٹرفہرستوں کی درستگی کامطالبہ
ووٹرلسٹوں کیساتھ چھیڑچھاڑناقابل قبول :عاشق خان
جموں//بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے چلتے جموں میونسپل کارپوریشن کی حدودمیں آئی مسلم بستیوں کی ووٹرفہرستوں میں ہیراپھیری کی شکایات پرشدیدردِعمل ظاہرکرتے ہوئے شیعہ فیڈریشن جموں کے صدر عاشق حسین خان نے ضلع انتظامیہ جموں سے تلقین کی کہ وہ اقلیتی طبقہ کے آئینی حقوق سلب کرنے والوں کی نشاندہی کرے اور ووٹرفہرستوں کیساتھ چھیڑچھاڑکی کسی کواجازت نہ دے بصورت دیگرجموں مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے سڑکوں پراُترنے سے گریزنہ کرے گا۔یہاں جاری ایک پریس بیان میں عاشق حسین خان نے ایک اخباری رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ سنجواں اوربٹھنڈی کے کئی دیہات کے ووٹ دوسری وارڈوں میں منتقل کئے گئے ہیں یاپھرکئی رائے دہندگان کے نام ووٹرفہرست سے غائب ہیں۔اُنہوں نے خدشہ ظاہرکیاکہ مسلم بستیوں سے بلدیاتی اِداروں میں نمائندگی کے امکانات کومعدوم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں اورایسی بستیوں کونشانہ بنایاجارہاہے جہاں مسلم آبادی ہے۔اُنہوں نے چواہدی کے مکینوں کی شکایات پراپنے ردِعمل میں کہاکہ چواہدی کے رائے دہندگان کو دوسری وارڈمیں منتقل کرنے کے پیچھے چواہدی میں مسلم بستیوں کی بلدیاتی اِداروں تک رسائی ناممکن بناناہے۔اُنہوں نے کہاکہ جموں میونسپل کارپوریشن کی حدودبڑھاکراس میں نئے گائوں شام کرناخوش آئندقدم ہے اوریہ اس لئے بھی حوصلہ افزافیصلہ ہے کیونکہ کئی مسلم آبادی والے گائوں میونسپل حدودمیں آئے ہیں جس سے جموں کی اقلیتی آبادی کی آواز بلدیاتی اِداروں میں گونجنے کی اُمیدجاگی تاہم فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے اس آوازکودباکراقلیتوں کے آئینی حقوق سلب کرناچاہتے ہیں جوکسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔عاشق حسین خان نے ضلع انتظامیہ،جموں میونسپل کارپوریشن کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ وارڈوں کی حدبندی کے اغلاط کودرست کرنے کے اقدامات اُٹھائیں اور عوامی شک وشبہات کوختم کرے تاکہ امن کے گہوارے جموں میں اقلیت۔اکثریت کی تفریق کاکہیں احساس نہ ہواوریہاں کی صدیوں پراناآپسی بھائی چارہ یونہی پروان چڑھے اورسماج کے ہرطبقے کوزندگی کے ہرشعبے میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع مل سکیں۔اُنہوں نے کہاکہ جمہوری اورآئینی حقوق سلب کرنے جیسے اقدامات نامسائدحالات کاشکاراس ریاست میں تاریکی ،بے چینی اورغیریقینیت کادائرہ اوروسیع کرتے ہیں،حکام کوچاہئے کہ وہ ریاست میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کومستحکم بنانے والے اقدامات اُٹھائیں، جمہوری اِداروں کوکمزوربنانے اورعوام کاجمہوری اِداروں پرسے اعتماد ختم کرنے کیسی سازشیں ہرگزکامیاب نہیں ہونے دینی چاہئے۔
پروفیسربھیم سنگھ کا گجرات کادورہ منسوخ
جموں//گجرات کے پاٹیدار لیڈر ہاردک پٹیل کو، جو گزشتہ 25اگست سے کسانوں اور گجرات کے لوگوں کی مانگوں پر احمد آباد کے نزدیک اپنے فارم ہاوس میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے،آج ہڑتال کے 14ویں دن طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے پولیس نے جبراًً اسپتال منتقل کردیا۔ ہاردک کو گجرات سے لیکر ملک ہر کونے سے نوجوانوں ، کسانوں اور ورکنگ کلاس کی حمایت مل رہی ہے۔اس تحریک کی شروعات پاٹیدار انامت آندولن سمیتی(پاس ) نے کیا جس کی قیادت 25 سالہ نوجوان ہاردک پٹیل کررہے ہیں جنہوں نے اپنی بھوک ہڑتال کے 13ویں دن(6 ستمبر) کو پھر سے پانی پینا چھوڑ دیا تھا ۔ تحریک کے لیڈر نے کہاکہ بی جے پی حکومت کسانوں کے مسائل کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی اور ہماری تحریک جیت ملنے تک جاری رہے گی۔نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی، سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اور اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے ایکزکیوٹیو چیرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے گزشتہ25 اگست سے اپنی کمیونٹی کے لئے سرکاری ملازمت میں ریزرویشن اور تعلیم اور کسانوں کے قرض معافی کے مطالبات پر غیرمعینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہاردک پٹیل کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ پارٹی کی جنرل سکریٹری محترمہ انیتا ٹھاکر کے ساتھ ہاردک پٹیل سے ملاقات کے لئے احمدآباد جانے والے تھے اور اس کے تعلق سے انہوں نے احمدآباد کے ڈائرکٹر جنرل آ ف پولیس اور چیف سکریٹری کو بھی مطلع کردیا تھا لیکن پولیس کے ذریعہ زبردستی ہاردک پٹیل کو اسپتال منتقل کئے جانے کے بعد انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کردیا۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ گجرات بی جے پی حکومت کے ذریعہ ہاردک پٹیل اور ان کے ساتھیوں سے بات چیت کرنے کے بجائے انہیں زبردستی اسپتال منتقل کئے جانے پر حیرت اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی پر احمد آباد میں گاندھیائی طریقہ سے بھوک ہڑتال پربیٹھے ہاردک کے معاملہ میںذاتی مداخلت کرنے کے لئے زور دیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور ٹریڈ یونینوں سے مہاتما گاندھی کی زمین پر کسانوں کی اس تحریک کی مکمل حمایت کرنے کی اپیل کی۔انہوں نے کہاکہ جو لوگ انصاف کے لئے پرامن طریقہ سے احتجاج کرتے ہیں میں ان کی حمایت میں وہ ملک کے ہر کونے میں جانے کو تیار ہیں۔
اساتذہ انصاف کے حصول تک جدوجہدجاری رکھیں گے:ٹیچرس فورم
مطالبات کی حمایت کرنے والی تنظیموں کابھی شکریہ اداکیا
جموں// جموں کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم ریاست کے چالیس ہزار کے قریب رہبر تعلیم اساتذہ کے حق میں ابھی تک ساتویں پے کمیشن کی سفارشات لاگو نہ کر نے کیخلاف سراپااحتجاج ہے اورفورم کے بینرتلے جموں اورسرینگرمیں سلسلہ واربھوک ہڑتال جاری ہے۔جمعہ کے روزبھی اساتذہ نے مطالبات کے حق میں دھرنے پربیٹھے ٹیچروں نے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔فورم نے اساتذہ برادری کی طرف سے اْٹھائی گئی آواز کے ساتھ اظہار یکجہتی کر نے والی تمام سیاسی مذہبی و سیاسی لیڈران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دیگران سے بھی اس معاملے میں اُساتذہ برادری کی جائز مانگوں کو لاگو کر نے میں ان کی مدد کریں – یہاں جاری ایک پریس بیان کے مطابق فورم ترجمان نے کہا ہے کہ ریاست کے ساڑے چار لاکھ کے ملازمین کو ساتویں پے کمیشن کی مراعات سے نواز کر اس میں سے چالیس ہزار کو اس سے بلاجواز مستثنیٰ رکھنا کہاں کا انصاف ہے -اُنہوں نے کہا کہ ابھی تک سروس بکس بننیکے بعد چھٹے پے کمیشن کے علاوہ دیگر ریاستی ملازمین کی طرح تمام سرکاری مرعات دی جانے کے بعد ساتویں پے کمیشن کو روک کر ریاست کے چالیس ہزار اساتذہ کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے – اُنہوں نے سماج کے دیگر مذہبی ،سیاسی و سماجی لیڈران نے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اساتذہ کے ان جائز حقوق کو واگذار کرنے کے لئے اساتذہ کی مدد سے لئے سامنے آئیں -اْنہوں نے کہا ہے اساتذہ قوم کے معمار ہوتے ہیں اور ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پہلے قوم کے اساتذہ کے حق میں ترجیحی بنیادوں پر تمام مراعات دی جانی چاہیئے تھی لیکن چار مہینہ کاعرصہ گذر نے کے بعد بھی ساتویں پے کمیشن کو روک کر رکھنا ریاست کے عظیم پیشے سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے ساتھ کھلواڑ ہے -پریس بیان میں مزید انتظامیہ اور اور متعلقہ محکمہ جات کے نگراں سے اپیل کی گئی ہے وہ ساتویں پیے کمیشن کو لاگو کر یں تاکہ اْنہیں مزید پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے -اْنہوں نے کہا ہے کہ وہ گذشتہ چار مہینوں سے سراپا احتجاج ہیں اور اس جائز مطالبے کو فوری طور پورا کر کے اساتذہ کو سکولوں میں چین سے قوم کے غریب والدین کے طلباء کو بہتر تعلیم سے آراستہ کرنے کا موقع فراہم کر یں – اْنہوں نے کہا ہے کہ اگر اْن کے مطالبات کوپورا نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج جاری رکھیں گے جس کی ذمہ داری انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ جات کے افسران اور نگرانپر عائد ہو گی – اْنہوں نے کہا ہے کہ ان اساتذہ نے رضاکارانہ طور پر پندرہ سو سے لیکر تین ہزار کی قلیل اْجرت پر اس قوم کی پانچ سال تک خدمت کی ہے اور آج بھی محو جستجو ہے – اْنہوں نے مزید کہا ہے کہ جب تک نہ ان کے اس جائز مطالبے کو پورا نہ کیا جاتا ہے – ریاست کے 65 ہزار ریبر تعلیم استاد جن میں چالیس ہزار کا پے کیمشن بنا کسی جواز کے روک دیا گیا ہے جنہوں نے زنگ آلودہ سکولوں کے تالوں کو کھول کر ریاست کے نظام تعلیم کو ایک نئی جہت بخشی ہے اور پہلے پانچ سال تک ریاست کے نظام تعلیم کو رضاکارانہ طور اور کم قلیل اْجرت پر اپنی زندگی کے اہم ترین قیمتی پانچ سال دے ہیں وہ اپنے جائز حق کے لئے جدو جہد جاری رکھیں گے-
غیر جانبدارانہ طور پنچایتی ومیونسپل چناؤ کیلئے اسمبلی تحلیل کی جائے:منکوٹیا
یو این آئی
اودھم پور// جموں وکشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے ریاستی صدر اور سابقہ ایم ایل اے اودھم پور بلونت سنگھ منکوٹیا نے غیر جانبدارانہ طور مجوزہ پنچایتی ومیونسپل انتخابات کے انعقاد کے لئے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں منکوٹیا نے کہاکہ پینتھرز پارٹی ہمیشہ میونسپل انتخابات کے حق میں رہی ہے لیکن تین ماہ سے خلاف ِقانون معطل رکھی گئی اسمبلی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی کو معطل رکھنا سراسرغیر قانونی ہے۔اگر ایسی صورتحال میں چناؤ کرائے گئے تو میونسپل اور پنچایتی چناؤ صاف وشفاف طریقہ سے نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے گورنر پرزور دیاکہ غیر جانبدارانہ طورپنچایتی ومیونسپل انتخابات کے انعقاد کے لئے فوری طور اسمبلی تحلیل کی جائے، اگر اسمبلی کو معطل رکھ کر ہی چناؤ کرائے جاتے ہیں تو پھر بھارتیہ جنتا پارٹی ودیگر جماعتوں سے وابستہ ممبران متعلقہ حلقوں میں اپنا اثر رسوخ اور دبدبہ قائم کرنے کی کوشش کریں گے ۔یو این آئی
یوگینڈاکالج آف ایجوکیشن میں تقریری مقابلے کااہتمام
جموں//یوگینڈاکالج آف ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے سٹوڈنٹ ورکنگ فار ایڈوانسمنٹ ،کلب آف کمپیوٹراینڈآئی ٹی ،انجینئرنگ شعبہ کی جانب سے انٹرنیشنل لٹریسی ڈے کے موقعہ پر 5ویں سمسٹربین محکمہ جاتی تقریری مقابلہ کااہتمام کیا۔مقابلے کامقصد طلباء میں بولنے کی صلاحیت کوفروغ دیناتھا۔اس دوران تقریری مقابلے کے دوران 07طلباء نے ’لٹریسی انکریسز ویلیو ڈکریسز‘‘کے موضوع پرتفصیلی خیالات کیا۔اس دوران پہلی اوردوسری پوزیشن پانچویں سمسٹرکمپیوٹرانجینئرنگ کی چمن دیپ کور اورمہرین نے حاصل کی۔اس موقعہ پر مہمان خصوصی ڈاکٹرارون دیواگن ،ڈائریکٹروائی سی ای ٹی تھے۔فیکلٹی ممبران کمپیوٹراینڈآئی ٹی کے علاوہ انجینئردانش گپتا (ایچ اوڈی کمپیوٹراینڈآئی ٹی انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ) نے استقبالیہ پیش کیا۔اس موقعہ پر چیف کوآرڈی نیٹر وائی سی ای ٹی انجینئر بی آرورما اورخوشبوسنگھ ٹریننگ اینڈپلیس منٹ آفیسرتھے۔اس دوران شکریہ کی تحریک انجینئر روبن کمارنے پیش کیا۔اس دوران پروگرام کوکوآرڈی نیٹر انجینئر انوپریت (ایس ڈبلیواے ٹی )تھے۔
ڈسٹنس ایجوکیشن جموں یونیورسٹی میں اُردوطلباء کیلئے توسیعی لیکچر
جموں//ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹنس ایجوکیشن جموں یونیورسٹی کی جانب سے ایم اے اُردواول اورسوم سمسٹرکے فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت زیرتعلیم طلباء کیلئے توسیعی لیکچرسیریزکاسلسلہ شروع کیاگیاہے۔اس دوران پہلے لیکچرکے تحت صدرشعبہ اُردو ممبئی یونیورسٹی پروفیسرصاحب علی نے ایم اے اُردو ڈائریکٹوریٹ آف ڈسٹنس ایجوکیشن کے طلباء کے ساتھ روبروہوئے اورموجودہ دورمیں طلباء کی سماجی،سائنسی،معاشی اورتعلیمی ترقی کی اہمیت کے بارے میں پرمغز لیکچرپیش کیا۔اس دوران سوالات وجوابات کاسیشن بھی منعقدکیاگیا۔اس موقعہ پر مہمان مقررپروفیسرصاحب علی کے علاوہ ڈائریکٹرڈی ڈی ای ۔ڈاکٹرلیاقت علی،ڈاکٹر فرحت شمیم اورڈاکٹر محمدعلی شہبازودیگران نے بھی خیالات کااظہارکیا۔