سرسید احمد خان کی تاریخ پیدائش ۱۷؍ اکتوبر ۱۸۱۷ء ہے ۔ آپ بمقام دہلی ایک معز ز ومحترم گھرانے میںتولد ہوئے ۔سرسید احمد خان کی تعلیمی بیداری علی گڑھ تحریک کی بنیادہے ۔ زمانہ گواہ ہے کہ سرسید کی زندگی میں ایسے نشیب و فراز کثرت سے آئے جنہوں نے ان کی شخصیت کو تعمیر بھی کیا اور متاثر بھی کیا۔ اُ ن کی زندگی کا پہلا دوروہ ہے جس میں سرسید نے آنکھیں کھولیں۔ یہ زمانہ تاریخی تہذیبی اور اقتصادی غرض پر لحاظ سے ہنگامی و ہیجانی تھا۔ یہ ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم اور سخت موڑ تھا۔ یہ زمانہ مغل شاہی حکومت کی تیززوال پذیری۔ پرانی تہذیب کی ٹوٹتی بکھرتی ہوئی قدروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کا زمانہ تھا۔ اقتصادی سرگرمیاں جو اب تک زمینوں اور جاگیروں کا مرکز تھیں، اپنی جگہ سے ہٹ رہی تھیں۔ مغل شاہی حکومت کی آخری ہچکیاں اور سرمایہ دارانہ نظام اور انگریزی کا تسلط اپنے پاؤں جمار ہاتھا اور شاہان ِ مغل کی عظمت و شان کا سکہ مع قدیم تہذیب غدرکی ہنگامہ خیز صبح کے ساتھ ستارہ بھی ڈوب گئی ۔اس صورت حال کا سرسید کے دل و دماغ پر بے حد اثر ہوا۔ انہوں نے ملک کو ذہنی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا دیکھا ، اپنے ہم وطنوں اور ہم مذہبوں کو بدحال اور مجبور پایا اور ملک کی صنعت و حرفت اوردولت بربا د و پامال ہوتے دیکھا۔ انہوں نے محسو س کیا کہ مذہب کی اصل روح رسوم و رواج اور تحریف شدہ عقائد کی زنجیروں میں مقید ہے۔ ان تمام حادثات نے ان کے قلب وجگر کو ملک و قوم کے تئیں درد اور بے چینی سے چھلنی کردیا۔ انہوں نے دیکھ لیا کہ سرکاری عتاب کو ٹھنڈا کرکے پرامن و ساز گا ر فضااور سرکار و عوام میں رابطہ ضروری ہے جس سے ہندوستانیوں کو آگے بڑھنے کانئے سرے سے موقع مل سکتا ہے۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ ملکی آزادی و ترقی کے لیے قومی بیداری اور قومی بیداری کے لیے زمانے کے تقاضوں کے پیش نظر اعلیٰ تعلیم اور نئے اقدار کوا پنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی مثبت سوچ کے تحت ان میں ہمت اور عزم و حوصلہ بیدار ہوا اور ارادے کی پختگی سے اپنی مصلحانہ کوششیں شروع کردیں۔ یہیں سے ان کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ اس دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے مختلف اصلاحات کے لیے کثیرالا طراف قدم اٹھائے ۔ سماجی اصلاح کے بکھرے ہوئے گوشوں پر اپنی فکر و عمل کا زور لگایا۔ ۱۸۶۹ء میں سر سید کا انگلینڈ روانہ ہونے کے وقت سے ان کی زندگی کاتیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی تمام تر توجہ قوم کے بنیادی مرض اور اس کے علاج پر مرکوز کردی۔ سید نے بھانپ لیا کہ ملکی اورملّی ترقی کا راز اعلیٰ مغربی تعلیم کے حصول میں ہے اور ا س کام میں آپ مشکلات کے باوجود حوصلہ مند انسان اورسچے خادم وطن کی طرح سرگرم عمل رہے۔
سرسید احمد خان کا دادھیال اور نانیہال دہلی کے بڑے اور باعظمت خاندانوں پر مشتمل تھے۔ وہ خاندانی سید تھے اور چھتیس واسطوں سے آپ کا سلسلہ ٔنسب رسول اسلامؐ تک پہنچتا ہے۔ آپ کے پرکھوں میں سید برہان الدین دیار اسلام سے منتقل ہوکر دہلی آکر مقیم ہوئے، ان کے بیٹے سید عماد تھے، جن کے بیٹے سید مہدی اور سید ہاوی ہوئے۔ سید ہاوی کے بیٹے میرتقی سرسید احمد خان کے والد تھے ،جو فقیر دوست اور باوضع انسان تھے۔ سرسید کے والد درویش صفت اور صوفی مزاج کے حامل انسان تھے۔ وہ شاہ غلام علیؒ کے مرید بھی تھے اور ان کی خانقاہ سے خاص لگاؤ رکھتے تھے۔ سرسید کے نانیہال میں شاہ ولی اللہ اور شاہ عبد اللہ اور شاہ عبد العزیزرحہم اللہ کی تعلیم اور ان کے خیالات کا خاصااثر تھا۔ ولی اللہ تحریک کے اثر سے ہی انہوں نے مذہب میں تقلید اور رسوم بندی کو دُرست نہ جانا اور ہمیشہ اس کے خلاف جہد کی ۔ زمانے کے رواج کے مطابق سرسید مذہبی عالم نہ بنے مگر اس مذہبی ماحول اور شاہ عبد العزیزؒ کے لگاؤ اور اثر سے ان کی قوت ایمانی پختہ ترہوئی اور ان میں وسیع النظر ی اور جدیدیت نمایاں ہوئی ۔ یہ ان کی شخصی زندگی کا نمایاں وصف ہے۔ سرسید کے ناناخواجہ فرید الدین احمد اور دادا سید ہادی میں اچھے تعلقات تھے۔ وہ اپنے زمانے کی بہت باعزت ہستیوں میں شمار ہوتے تھے اور بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ریاضی میں کمال رکھتے تھے۔ سرسید کی والدہ کا نام عزیزۃ النسا بیگم تھا جو بہت ذہین ،روشن دماغ اور خداترس بی بی تھیں۔ سید کی تربیت میں ان کا بہت کابڑا ہاتھ رہا۔ لائق فرزند کا بیان ہے کہ اُن کی والدہ کے اعتقادات اور اعمال میں وقتی اور رسمی چیزوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ چنانچہ جب اُن کے بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو اس کے کئی روز بعد ان کے کسی قریبی عزیز کے یہاں شادی کی تاریخ تھی۔ اس واقعہ کے بعد اُن لوگوں نے تاریخ بڑھانی چاہی تو سوئم بعد اُن کی والدہ خود ان کے گھر گئیں اور ایسا کرنے سے منع کیا اور خود شریک ہوئیں۔ ایک بار سرسید نے گھر کے بو ڑھے ملازم کو ایک تھپڑ لگایا۔ والدہ کو یہ معلوم ہوا تو سخت ناراض ہوئیں اور جب تک انہوں نے ملازم سے معافی نہ مانگ لی ،انہیں معاف نہ کیا۔ وہ اکثر سر سید کو نصیحت کرتیں کہ جہاں برابر آنا جانا ہو، وہاں کبھی سواری اور کبھی پیدل ہر طرح جانا چاہیے کیونکہ زمانہ یکساں نہیں رہتا ایسا نہ وہ کبھی شرمندگی اٹھانی پڑے ۔
سرسید نے دہلی کے نہایت معزز تعلیم یافتہ مذہبی اور باعزت گھرانے میں آنکھ کھولی، اس لئے یہ سیدکی خوش قسمتی تھی کہ ان کے خاندان میں علم کی روشنی روحانیت اور مذہب کا نور و فیض تیز دنیوی جاہ و حشم سب کچھ جمع تھے۔ سرسید کے خاندانی حالات سے ان نقوش کا پتہ چلتا ہے جو ان کی تعلیم و تربیت میں نمایاں تھے اور جن کے اثرات سرسید کی ذہنیت ان کے کردار اور ان کی عادات و مزاج میں نمایاں تر نظر آتے ہیں۔ سرسید چاہتے تو مغل شاہی دربار میں انہیں درباری عہد ے بآسانی مل جاتے اور وہ بغیر مشقت جاگیر پر گزر بسر کرتے۔ وہ چاہتے تو انگریز حکام کی خوشنودی خالصتاً شخصی مفاد کے لئے کر تے اور اسے اپنی شخصی مطلب براری اور عیش و آرام کے لیے استعمال کرسکتے تھے مگر انہوں نے کبھی ایسا نہ کیا اور غدر کے بعد تو اپنے فکر و عمل کا سارا زور اپنے عہدے اور شخصیت کے تمام فوائد عام مقاصد کے لیے استعمال ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد سرسید کی زندگی میں (جوابھی صرف سید احمد خاں تھے) ایسی انقلاب انگیز تبدیلیاں آئیں جو ان کی اہمیت اور عظمت کی نشان دہی کرتی ہیں۔
غدر ۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستان کی دردناک حالت کسی بھی حسا س دل پر خنجر آزمائی کے لئے کم نہ تھی، خاص کر مسلمانوں کی حالت ا س دوران ناگفتہ بہ تھی۔ ایک طرف ان کا تمام دولت مند اور تعلیم یافتہ طبقہ جو علماء اور جاگیرداروں اور نوابوں پر مشتمل تھا، انگریزی حکومت کے انتقام کا شکار خاص بن کر مٹ رہاتھا، دوسری طرف عام مسلمانوں میں جہالت، مفلسی اور فکری بانجھ پن اپنی انتہا ء کو پہنچ چکی تھی۔ تیسری طرف حکومت کا عتاب خصوصی طور پر مسلمانوں کی طرف اس لئے تھا کہ زمام اقتدار براہ راست انہیں سے چھین لی گئی تھی۔ چنانچہ۱۸۵۷ء جہاں ہندوستان کی تاریخ کا دردناک افسانہ ہے، وہیں یہ ہماری سماجی تاریخ میں اس سے اس دور کا آغاز بھی ہو ا جب ہندوستان اپنی تاریخ میں نیا جامہ پہن رہا تھا۔ مسلمان اس وقت بری طرح ٹھوکر یںکھاکر گویا اندھے کنویں میں جاگرے تھے اور ان کا حال تاریک اور مستقبل نظروں سے اوجھل تھا۔ سرسید نے غدر کی دردناکیوں اور تباہیوں کو بہت غور سے دیکھا بھالا تھا۔ چونکہ وہ نہایت حساس دل رکھتے تھے ، اس لئے ملک و قوم کی اس بے انتہا بربادی پرتڑپ اٹھے، مگر اس پُرآشوب زمانے میں جس عالی ہمت اور ذہن رسائی سے انہوں نے کا م کیا وہ لائق تحسین تھا۔ ان پیچیدہ اور صبر شکن حالات میں جو مصلح اور مفکر اُن کے اندر بیدار ہوا اُس نے قوم کا مرثیہ خواں ہونے کے بجائے قومی رہبری کا فریضہ انجام دینے اور ملت کو بربادی کے گہرے غار سے نکالنے کا پختہ عزم کرلیا۔ سر سید نے مسلمانوں کی تباہی وبربادی کی بنیادی وجوہات پر غور و خوص کر کے ملک و قوم کی ترقی کے لیے عملی قدم اٹھانے شروع کئے۔ یہی سے ان کی زندگی کانیادور شروع ہوا۔ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ حد سے بڑھی جہالت نے مسلمانوںمیں سوچنے اورسمجھنے کی صلاحیت سلب کردی ہے۔ ان کے یہاں جوقدیم طرز تعلیم رائج ہے وہ نئے تقاضوں پر پورا نہیںاُترتا اور جو کوئی جدید زمانے کی تیز رفتاری کا ساتھ نہ دئے وہ صفحہ ٔ ہستی سے معدوم ہوکر رہے گا۔ اسی مرکزی خیال کے پیش نظر سرسید نے کم سے کم وقت میں قوم کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی جد وجہد کو اپنے وقت اور صلاحیتوں کا واحد ہدف چن لیا اور اپنی مصلحانہ کوششوں میں ہردوسری چیز پر تعلیم وتدریس کو ترجیح دی ۔اس کام میں مشکل یہ بھی تھی کہ ہنگامی حالات کو فرو کئے بغیر او ر مسلم قوم کے تئیں حکومت کے عتاب کو ٹھنڈا کیے بغیراس مشن کی تکمیل ممکن نہ تھی۔ عوام میں خوف نکال باہر کر نے اور امن کا دور دورہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی نفرت ختم کرنا ضروری تھا، ساتھ ہی ساتھ ملت کو نئی تعلیم اور جدید سیاست سے آگاہی بھی لازمی تھی۔ سرسید نے سب سے پہلے انہی دشوا ر کاموں کا بیڑا اُٹھایا۔ انہوں نے ۱۸۵۸ء میں’’ اسبابِ بغاوت ہند‘‘ لکھی اور پہلی بار سیاست میں دخل دینے کو ہندوستانیوں کا حق بتلایا ۔ اسباب ِبغاوت کے بارے میںا نہوں نے اپنا جو تجزیہ پیش کیا وہ انگریز حکومت کی تعمیری تنقید اوربے خوف مطالبات پر مبنی تھا ، اس طرح انہوں نے ہندوستانیوں کے حقوق کی جو بے باکانہ وکالت کی ،اس سے وہ عوام وخواص میں بے نظیر بنے۔ یہاں تک کہ غیر ملکی حکام کو اُن کی وزن دار باتوں اور حق بیانیوں کی صحت کا کھلااعتراف ہی نہ کرنا پڑا بلکہ ماننا پڑا کہ سر سید ایک انتھک مصلح تھے او جہد مسلسل ان کا پیمانۂ نظر تھا۔ انہوں نے حکومت اور عوم میں مفاہمت پیدا کرنے اور ربط بڑھانے کے لیے نیز ہندوستانیوں کو مغربی علوم اور خیالات ونظریات سے متعارف کرنے کے لیے ۱۸۶۳ء میں غازی پور ہی میں’’ سائنٹیفک سوسائٹی‘‘ کی بنیاد ڈالی جس میں ہند و ، مسلمان اور انگریزتینوں برابر کے شریک تھے۔ اس سوسائٹی کے جلسوں میں تمدنی تحقیقی مغربی علوم اور سائنس وغیر ہ کے متعلق مفید لکچرز اور مباحثے ہو اکرتے تھے۔’’ سائنٹیفک سوسائٹی‘‘ کے نام سے اس کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا جو بعد کو سوسائٹی کے علی گڑھ منتقل ہونے کے بعد’’ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گڑٹ‘‘ کے نام سے موسوم ہوا۔ سرسید کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ ہندوستانیوں کا انگریزوں اور مغرب سے ایسا ربط وتعلق پیدا ہوجائے کہ جو مغرب و مشرق اور قدیم وجدید کے تاریخی ٹکر اؤکے بجائے ایک مفید اور کارآمد افہام وتفہیم کاسنگ بنیاد بن جائے ۔
سرسید جہاں کہیں بھی ملک وقوم کا فائدہ محسوس کرتے ، فوراًاپنی تحریرات اور مشغولیا ت سے انگریزوں سے دوستی اور مفاہمت کی راہیں قائم کرلیتے اور جب بھی اور جہاں بھی انہیں ملک و قوم کا نقصان محسوس ہوتا تھا، وہ انگریزحکومت کی مہذبانہ تنقید سے کبھی نہ چوکتے تھے۔ سرسید نے آج سے سوسال قبل یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ ابھی ہماری قوم کا ذہن پختہ نہیں اور بجائے اور باتوں پر توجہ دینے کے ہماری ساری کاوشیں تعلیمی اور سماجی ترقی پر صرف ہونی چاہیں کیونکہ تعلیم وتعلم ہی قومی ترقی کا بنیادی زینہ ہے ،بغیر اعلیٰ تعلیم اور پختہ ترقومی ذہن اور بغیر فکر و عمل کی راہ کھولے آگے بڑھنا ایسا ہی ہے جیسے اندھے کو اندھیر ے میں راہ بھٹکنے کے لئے تنہا چھوڑنا ۔ اس کے علاوہ سید نے جس ہمت، عالی ظرفی اور مستقل مزاجی کے ساتھ ملکی اور قومی ترقی کا پر چم بلند کئے رکھا اور جس جانفشانی اور جذبہ ٔ قربانی سے چاروںا طراف کوششوں میں لگے رہے ،وہ ساری سرگزشت اُن کی اولو العزمی اور خلوص و بے لوث ہونے پر دلالت کر تی ہے ۔یوں تیس چالیس سال کی قلیل مدت میں انہوں نے مسلمانوں کی دنیا بدل ڈالی ۔ اس عرصے میں انہوں نے مذہب، عقائد، سیاست ، ادب، رسومات و رواجات اور اقتصادی حالات غرض پوری سماجی زندگی کے گوشہ گوشہ کا تجزیاتی مطالعہ کیا اور ہرجگہ اصلاح طلب باتوں کو چن کر اپنے طورپرخلوص خدمات انجام دیں۔ بلاشبہ تعلیمی ترقی ان کی اصلاحی کاوشوں کا مرکزی جز تھی ،وہ مغربی اور انگریزی تعلیم اس لیے چاہتے تھے تا کہ اس سے جد ید دور میں قومی ترقی کا بند پڑاباب کھل جائے ہو، روشن خیالی عام ہوجائے ، حقیقت پسندی کا بول بالا ہو جائے اور بیدار مغزی ہر شعبہ ٔ حیات میں پیدا ہو۔ اسی جذبہ ٔدروں کے ساتھ لکھنو میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے ایک موقع پرکہا تھا’’اے دوستو! مجھ کو یہ بات کچھ زیادہ خوش کرنے والی نہیں ہے کہ کسی مسلمان نے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کرلی۔ میری خوشی قوم کو قوم بنانے کی ہے۔ ‘‘اُن کا خیال تھا کہ وقتی تقاضوںکے مطابق تمام علوم و فنون کا حصول اُسی وقت ممکن ہے جب تعلیمی ترقی عرو ج وکمال پر ہو کیونکہ ظاہر ہے صرف اُسی صورت میں عام ذہنی سطح بلند اور فکر و عمل کا دائرہ پختہ اور وسیع تر ہوسکتا ہے۔
سرسید کی تمام علمی خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو اس کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ ہماری قومی اور سماجی زندگی کے ناسور کا کون سا حصہ تھا جس پر ان کا نشتر جراحت نہ چلا اور جس کی صحت کے لیے انہوں نے دل وجان سے کوشش نہ کی۔ مختصراً ان کی خدمات کا دائرہ ہی بہت وسیع نہ تھا بلکہ انہوں نے زمانے کی نبض خوب پہچان لی تھی اور نبض شناسی کے ساتھ قوم کے لیے جو نسخہ ٔ عمل تجویز کیا تھا وہ موثر اور کارآمدثابت ہوا۔ انہوں نے وقت کی آواز سنی جس سے قوم کو آگاہ کرنے کی انہوں نے ہر ممکن کوشش کی، چاہے کسی نے یہ اذان سنی یا اس کی اَن سنی کر دی مگر وہ اپنے جان نثارانہ مشن سے وفا کر تے رہے ۔ ان کی مضبوط کوششیں ا ور اخلاص رنگ لایا اور وقت کی رفتار کے ساتھ زمانے کے حالات نے ان کی سوچہ ہوئی تبدیلیوں کا سورج مطلع ٔ ملت پر طلوع کیا ۔ قوموں اور ملکوں کی تاریخ میں بعض اوقا ت ایسا وقت بھی آتا ہے کہ جو ایک دم حالات کو پلٹا دیتے ہیں۔ سرسید کی کامیاب قیادت کے زمانے کو ہم مسلمانان ِ ہند کا تعلیمی نشاۃ الثانیہ کا دور کہہ سکتے ہیں۔ ان کی شخصی عظمت اور ان کی ملّی خدمات کی اہمیت یہ بھی ہے کہ سید نے ایسے بحرانی دور میں ملک و قوم کی خدمت کا بیڑا اُٹھایا جب ہر طرف اندھیرا چھا یا ہو اتھا ۔اُ جا لوں کا یہ سفیر پل پل قوم و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے سرگرم عمل رہا اور اسی کام کوسرانجام دیتے ہوئے یہ عظیم ماہر تعلیم، مفکر قوم، مدبر و منتظم اعلیٰ ، مصنف ، مورخ ، سیرت نگار ، مفسر ، مصلح اور ادیب ودانش ور ۲۷ ؍ مارچ ۱۸۹۸ء کو اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے ۔ دعا ہے کہ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے، اُن کے درجات کو بلند کرے ، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے اور ہمیں ان کے نقوش قدم پر چلنے کی توفیق عطاکرے۔ آمین
رابطہ : محسن احمد اردو پرائمری اسکول، نظامیہ کالونی، اورنگ آباد
9881296564