واشنگٹن/ماسکو//امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کئی برس سے معاہدے پر عمل نہیں کررہا اس لئے معاہدہ معطل کررہے ہیں۔ڈونلڈٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ روس کئی برسوں سے معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے ، ہم روس کو ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے ، انہوں نے سابق امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں کہ صدر اوباما نے معاہدہ ختم کیوں نہیں کیا۔دوسری جانب روس نے امریکہ کی جانب سے ایٹمی معاہدہ ختم کرنے کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا میں واحد عالمی سپر پاور بننے کا خواب دیکھ رہا ہے ۔روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ امریکہ کا واحد عالمی طاقت بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں سے متعلق ایک تاریخی معاہدے سے دستبردار ہوجائے گا۔صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس نے 1987 کے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے کی 'خلاف ورزی' کی ہے ۔معاہدے کے تحت زمین سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں پر پابندی ہے ۔ یہ فاصلہ 500 سے 5500 کلومیٹر ہے ۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ روس کو ان ''ہتھیاروں کی اجازت نہیں دے گا جبکہ ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے ''۔نویڈا میں ایک ریلی کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ''مجھے نہیں معلوم کہ صدر اومابا نے اس پر بات چیت کیوں نہیں کی یا اس سے کیوں نہیں نکلے ۔ وہ بہت برسوں سے اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔'' 2014 میں سابق صدر اوباما نے روس پر آئی این ایف کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا جب اس نے مبینہ طور پر زمین سے مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ براک اوباما نے مبینہ طور پر اس معاہدے سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ یوروپی رہنماؤں کے دباؤ پر کیا تھا جن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے ۔روس کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے ایک ذرائع نے امریکہ کے اس اقدام کو 'واحد قطبی دنیا کے خواب' کا شاخسانہ قرار دیا ہے جہاں صرف ایک ہی سپر پاور ہو۔امریکہ کا اصرار ہے کہ روسیوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 'نویٹر 9M729' نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تیار کیا ہے ، جسے ناٹو میں ایس ایس سی- 8 کے نام سے جانا جاتا ہے ۔بی بی سی کے مطابق اس کی مدد سے روس ناٹو ممالک کو بہت کم وقت میں نشانہ بنانے کے قابل ہو سکتا ہے ۔روس نے اس نئے میزائل کے بارے میں بہت کم بات کی ہے تاہم انھوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس ایسے ہتھیاروں کو روایتی ہتھیاروں کے سستے متبادل کے طور پر دیکھتا ہے ۔امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو لکھا تھا کہ امریکہ مغربی بحرالکاہل میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے مقابلہ میں اس معاہدہ سے نکل جانے پر غور کر رہا ہے ۔قیاس ہے کہ قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن آئندہ ہفتے ماسکو میں مذاکرات کے دوران روس کو اس معاہدہ سے دستبرداری کے بارے میں مطلع کریں گے ۔انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدہ کیا ہے ؟* 1987 میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کم فاصلے اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری اور غیرجوہری میزائلوں پر پابندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس میں سمندر سے مار کرنے والے ہتھیار شامل نہیں تھے ۔*امریکہ سوویت یونین کی جانب سے ایس ایس- 20 میزائل سسٹم نصب کرنے پر فکر مند تھا اور اس کے جواب میں اس نے یوروپ میں پیرشنگ اور کروز میزائل نصب کیے تھے ، جس کے ردعمل میں بڑے مظاہرے ہوئے تھے ۔* 1991 تک تقریباً 2700 میزائل تباہ کیے گئے ۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت تھی۔* 2007 میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ یہ معاہدہ اب روسی مفادات میں نہیں ہے ۔ روس کی جانب سے یہ اعلان امریکہ کے 2002 میں اینٹی بیلسٹک میزائل معاہدہ سے نکل جانے کے بعد سامنے آیا تھا۔یو این آئی