لندن// طبرطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی حامی وزیر ایمبر رد نے پارلیمنٹ کی جانب سے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاہدے کو مسترد کیے جانے سے قبل ہی اس حوالے سے ’پلان بی‘ پیش کردیا۔ تھریسا مے یورپی یونین سے کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدے پر قائم ہیں، جو یورپی یونین سے علیحدگی کا واحد حل تصور کیا جاتا ہے، جس کے لیے انہوں نے اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ یورپی یونین سے کیے گئے معاہدے کو مسترد کیے جانے کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے، جن کے تحت برطانیہ یورپی یونین سے ’کسی معاہدے کے بغیر‘ علیحدہ ہوگا ۔ تاہم، برطانوی وزیراعظم کی پارٹی سمیت دیگر پارلیمانی اراکینکامعاہدے کو مسترد کیے جانے کے قوی امکانات ہیں جس کے تحت برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے باوجود قریبی تعلقات رہیں گے۔ برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے، اس معاہدے کو مسترد کیے جانے کا اقدام، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کو غیر یقینی کی صورتحال میں مبتلا کردے گا۔ یورپی یونین سے بریگزٹ معاہدے پر تھریسا مے سے اتفاق کرتے ہوئے برطانوی وزیر برائے ورک اینڈ پنشن ایمبر رد نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم ایمبر رد کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یورپی یونین کے ساتھ ناروے کی طرز کے تعلقات قائم کرنے سے حالیہ ڈیڈ لاک سے نکلنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ انہوں نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا تھا کہ ’اگر برطانوی وزیراعظم کا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا تو یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے عوام کے ووٹ اور ناروے پلس کے آپشن موجود ہوں گے‘۔