سرینگر//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں نئے اسمبلی او ر لوک سبھا انتخابات سے قبل ریاست میں حلقوں کی نئی حدبندی کرائی جائے۔پنتھرس پارٹی کے بانی پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہاکہ یہ آئینی المیہ ہے کہ جموں وکشمیر کی حکومت نے ریاست کے اسمبلی حلقوں کی 2026تک حد بندی کو روکتے ہوئے اسمبلی انتخابات کرائے جانے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ پنتھرس پارٹی نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کررکھی ہے جسے گورنر پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ کیونکہ یہاں کوئی منتخب حکومت نہیں ہے جوریاست کے اسمبلی حلقوں کی حدبندی کرانے سے متعلق فیصلہ کرسکے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کا اپنا آئین ہے جو گورنر کو آئین کے کسی بھی کلاز میں ترمیم اوراسمبلی انتخابات سے پہلے حدبندی کرانے کا اختیا دیتا ہے ۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ریاست میں 1985سے حد بندی نہیں ہوئی ہے اور نئے اسمبلی انتخابات سے قبل حد بندی کرایا جانا آئین کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا رقبہ تقریباًً 12000اسکوائر کلومیٹر ہے اور اس میں 46اسمبلی سیٹیں اور تین لوک سبھا حلقے ہیں جبکہ جموں صوبہ کا رقبہ 28000اسکوائر کلومیٹر ہے اور آخری مردم شماری کے مطابق جموں کی آبادی بھی کشمیر سے زیادہ ہے۔پنتھرس سربراہ نے کہاکہ یہ بہت بڑا امتیاز ہے کہ جموں میں 2لوک سبھا حلقے ہیں اور کشمیر میں 3۔ دوسرے الفاظ میں جموں میں دو اور کشمیر میں چار۔ اس کے علاوہ کشمیر میں 46اسمبلی سیٹیں ہیں جبکہ جموں میں صرف 37اسمبلی سیٹیں ہیں۔یہ جموں کے ساتھ امتیاز ہے اسی وجہ سے ریاست میں اسمبلی انتخابات سے قبل حد بندی کرائی جانی ضروری ہے اور گورنرکو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ بلاتاخیر انصاف کرسکیں۔پنتھرس سپریمو نے پنتھرس پارٹی کا ریاست کی تقسیم کئے بغیر جموں وکشمیر فیڈریشن بنائے جانے کا موقف دہرایا۔یہی واحد راستہ ہے کشمیر اور جموںمیں علاقائی اسمبلی /حکومت کے قیام کا جس سے تینوں خطوں کے لوگوں کے ساتھ انصاف مل سکے گا۔پریس کانفرنس میں موجود دیگر لوگوں میں پی کے گنجو، انیتا ٹھاکر، شنکر سنگھ چھپ اور نرمل کشور شامل ہیں۔