انقرہ// ترکی میں بیلی ڈانسر کو قتل کرکے جسم کے ٹکڑے کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔ ملزم نے 32 سالہ بیلی ڈانسر دائدم اوسلو کو ذاتی وجوہات کی بناء پر قتل کرکے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹنے کے بعدفریج میں بھی رکھا۔ ترکی کے اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 32 سالہ بیلی ڈانسر دائدم اوسلو کو ان کے والد 55 سالہ حسن اوسلو نے ہی قتل کیا، جس نے بیٹی کو قتل کرنیکا اعتراف کرلیا۔ حسن اوسلو بنیادی طور پر کباب فروش ہیں اور وہ شہر کے مصروف علاقے میں گوشت کے کباب بنا کر اپنا گزر سفر کرتے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حسن اوسلو کی دکان سے انتہائی خراب حالت میں انسانی اعضاء کے ٹکڑے ملنے کے بعد پولیس کو ان پر شک ہوا۔ کباب فروش کی دکان سے انسانی اعضاء ملنے کے بعد پولیس کتوں کی مدد اور تفتیش کے بعد یہ پتہ لگانے میں کامیاب گئی کہ ملنے والے اعضاء ایک خاتون کے تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرکے قتل کی گئی بیلی ڈانسر کے والد کو گرفتار کیا، جنہوں نے اپنی بیٹی کو قتل کرنے اور ان کے ٹکڑے جنگل میں دفنانے کا اعتراف کیا۔ بعد ازاں پولیس نے قتل کی گئی ڈانسر کی والدہ اور چھوٹی بہن کو بھی گرفتار کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ ماہ کے وسط میں پیش آیا اور ابتدائی تحقیق کے مطابق بیلی ڈانسر کے کباب فروش والد نے اپنے گوشت کاٹنے کے اوزاروں سے ہی ٹکڑے ٹکڑے کیے۔