نیویارک// یورپی یونین کے وینزویلا میں شفاف انتخابات کرانے پر زور کے پیش نظر امریکا نے تمام ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ وینزویلا میں ’آزادی کی قوت‘ کے ساتھ کھڑے رہیں۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں بتایا کہ مدورو ’ناجائز مافیا ریاست‘ کے رکن ہیں اور وہ وینزویلا کے بحران کے ذمہ دار ہیں۔ وینزویلا میں آنے والے اس بحران سے غذا اور ادویات کی کمی ہوگئی جس کی وجہ سے 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہورہے ہیں۔ مائیک پومپیو نے تمام ملکوں سے امریکا کے اپوزیشن لیڈر جوان گوائیڈو کو صدر تسلیم کرنے کے فیصلے کی تائید کرنے کو کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب وقت ہے کہ ایک رخ چنا جائے، کوئی تاخیر نہیں، کوئی کھیل نہیں۔ یا تو آپ آزادی کے ساتھ کھڑے ہوں یا مدورو اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ‘۔ مائیک پومپیو نے مدورو کا ساتھ دینے والے ملک چین اور روس پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ اصول نہیں دیکھ رہے بلکہ مالی مفاد کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چین اور روس سالوں میں کی گئی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری واپس ملنے کی امید پر ناکام حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں‘۔ واضح رہے کہ روس نے بھی امریکا کو مداخلت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور سلامتی کونسل کے اجلاس کو روکنے کی کوشش کی تھی تاہم اجلاس میں 15 میں سے 9 ووٹ اس کو جاری رکھنے کے حق میں ملے تھے۔ روسی سفیر ویسیلی نیبینزیا کا کہنا تھا کہ ’وینزویلا امن اور سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہے، امریکا کا مقصد معاملے میں مداخلت کرنا ہے۔ انہوں نے امریکا پر الزام لگایا کہ ’وہ لاطینی امریکا کی قدیم تاریخ کو بدلنا چاہتا ہے اور واشنگٹن نے اس سے گھر کے پچھلے حصے کی طرح برتاؤ کیا ہے جہاں وہ جو چاہے کرسکیں‘۔ تاہم روس نے سیکیورٹی کونسل کے بیانیے، جس میں ’گوائیڈو کی پوری طرح حمایت‘ کا کہا گیا تھا، کو روکنے میں کامیابی حاصل کرلی۔