جموں //بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابقہ ممبراسمبلی اور ریاستی وزیر چوہدری لعل سنگھ آئندہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میںصوبہ جموں سے نئی علا قائی پارٹی متعارف کرسکتے ہیں ۔یاد رہے کہ چوہدری لعل سنگھ کو گزشتہ برس اپریل میںکٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کے معاملہ میں ہندو ایکتا منچ کی جانب سے معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کے سلسلہ میں کی جارہی ریلی میں شرکت کی وجہ سے سابقہ ریاستی مخلوط حکومت کی کابینہ سے مستعفی ہو نے پرمجبور کیا گیا تھا ۔اس سلسلہ میں کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن(DSS) کو پہلے غیر سیاسی تنظیم کے طور پر شروع کیا گیا تھا تاہم حالات کی وجہ سے مذکورہ تنظیم آئندہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں صوبہ کے تمام حقوں سے انتخابات میں حصہ لے گی ۔انہوں نے مزیدکہا کہ پید اشدہ حالات نے صوبہ جموں کی فلاح و بہبود کیلئے ان کو مذکورہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کو پہلے صرف رسانہ عصمت ریزی اور قتل کیس کی سی بی آئی انکوائری کی مانگ کے سلسلہ میں بنایا گیا تھا اور اسی وجہ سے مذکورہ تنظیم نے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی شرکت نہیں کی لیکن انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ معاملہ کی سی بی آئی انکوائری کی جانب سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنے ودیگر حالات سے مجبور ہو کر انہوں نے مذکورہ تنظیم کو سیاست میں داخل کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ ان کی سیاسی تنظیم آئندہ اسمبلی انتخابات میں 37سیٹوں پر اپنے امید وار میدان میں اتارے گی ۔کسی دوسری سیاسی پارٹی کیساتھ اتحاد کے سلسلہ میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ مذکورہ فیصلہ انتخابات کے بعد لیا جائے گا ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کا نام تبدیل کر کے ’ڈوگرہ سوابھیمان پارٹی ‘رکھا جائے گا جبکہ اس کا نشان شیر اور بکری ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہو ئے ہونگے۔تاہم اس کے باوجود ابھی تک بھاجپا کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھا یا گیاہے ۔اس سلسلہ میں بات کرتے ہوئے بھاجپا کے ریاستی صدر رویندر رینہ نے کہاکہ چوہدری لعل سنگھ ابھی تک پارٹی کے ایک رکن ہیں جبکہ پارٹی کی جانب سے ابھی تک ان کو نکالا نہیں گیا ہے اور مستقبل میں ایسا کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ان کو اس بات کی کوئی خبر نہیں چوہدری لعل سنگھ کی جانب سے نئی پارٹی متعارف کرنے کا کو ئی منصوبہ ہے ۔