جموں میں3روزہ مہا اُتسو شروع
بویک ماتھر
جموں //ریاستی گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے جموں کی ثقافت و تمدن کو اجاگر کرنے کے سلسلہ میںمنعقد ہو نے والے مہا اُتسو کا افتتاح کیا ۔جنرل زورآور سنگھ آڈیٹوریم میں تین دنوں تک چلنے والے مہا اُتسو کے سلسلہ میں جانکاری فراہم کرتے ہوئے محکمہ سیاحت کے سیکریٹری رگزن سمپل نے کہاکہ اس مہا اُتسو کو منعقد کرنے کا اصل مقصد ڈوگرہ ثقافت کو ملک کے دیگر حصوں تک پہنچانا ہے تاکہ ریاست میں سیاحتی شعبہ کو مزید فروغ دیا جاسکے ۔اپنے خطاب کے دوران انہوں نے محکمہ سیاحت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ مالی برس گور نر انتظامیہ نے مبارک منڈی کمپلیکس کی بحالی کیلئے 65کروڑ روپے جبکہ رگھو ناتھ منڈی کی بحالی کیلئے 2کروڑ روپے وگزار کئے گئے ۔جموں گنڈولہ پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس میں آئی تکنیکی خرابی کے بعد دوبارہ سے بحال کر دیا گیا ہے تاکہ زائر ین مذہبی مقامات کے ساتھ ساتھ سیاحتی مقامات پر آسانی سے آسکیں ۔3روزہ جموں مہا اُتسو کے دوران مقامی اور پنجابی گلو کاروں کی جانب سے کٹرہ بس اسٹینڈ ،مانسر ،چائی چائی ماتا مندر سانبہ ،بائیو فورٹ ،مبارک منڈی ،سچیت گڑھ ،آر ایس پورہ اوربھگواتی نگر میں تمدنی و ثقافتی پروگراموں کے علا وہ لوک گیت بھی پیش کئے جائینگے ۔اس سلسلہ میں ڈائریکٹر محکمہ سیاحت او پی بھگت نے کشمیر عظمیٰ کوجانکاری فراہم کرتے ہوئے کہاکہ مہا اُتسو کے دوسرے دن ڈوگری زبان کے معروف گلو کار حبہ ہنزورہ اور آدتیہ برادرز ،جیون شرما اور ڈاکٹر دیپالی وتل اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرینگے جبکہ تیسر دن پنجابی گلو کار شری مان اور سونالی ڈوگرہ پروگرام پیش کریںگی ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلہ میں انتظامیہ کی جانب سے ریاستی اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے سلسلہ میں اسٹال بھی لگا ئے گئے ہیں ۔انہوں نے مز ید کہاکہ انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ فیسٹیول کے دوران بس اسٹینڈ کٹرہ ،مبارک منڈی ،سچیت گڑھ وغیرہ میں کلچرل پروگرام کا اہتمام کیا جائے گا ۔
متعدد تنظیموں کی این ایچ ایم ملازمین کے مطالبات کی حمایت
جموں //نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی جانب سے گزشتہ کئی دنوں سے کی جارہی ہڑتال کی وجہ سے پید ا شدہ صورتحال اور مریضوں کو درپیش مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ،سیول سوسائٹی فورم کشمیر،کشمیر اکنامک الائنس و ڈاکٹر نے مشترکہ طور پر ملازمین کی مانگوں کو جلداز جلد حل کرنے اور مریضوں کو سہولیات فراہم کر نے کی اپیل کی ہے ۔اس سلسلہ میں مذکورہ تنظیموں کے اراکین نے ایک اجلاس کے بعد مشترکہ طور پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ملازمین کی مانگوں پر سنجیدگی کامظاہرہ کر تے ہوئے ان کو سہولیات فراہم کر ے تاکہ ملازمین کی خدمات سے دوبارہ سے استفادہ کیا جاسکے ۔ان تنظیموں نے نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے سلسلہ میں اپنا کام دوبارہ سے شروع کرئیں ۔
نارتھ زون آرتھوپیڈک ایسو سی ایشن کی 38ویں سالانہ کانفرنس کا افتتاح
جموں//گورنر کے مشیر کے ۔ وِجے کمارنے جی ایم سی جموں کے آڈیٹوریم میں منعقدہ نارتھ زون اور آرتھوپیڈکس ایسو سی ایشن کی 38ویں سالانہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔کانفرنس کا انعقاد جی ایم سی جموںکے پوسٹ گریجویٹ ڈیپارٹمنٹ آف آرتھوپیڈکس نے 8 سے 10فروری 2019ء تک جے کے آئی او اے کے اشتراک سے کیا ہے ۔پرنسپل جی ایم سی جموں ڈاکٹر سنندا رینہ ، سیکرٹری این زیڈ او اے ڈاکٹر ہرپال سنگھ ، ایچ او ڈی آرتھوپیڈکس جی ایم سی جموں ڈاکٹر انیل گپتا ،بیرون ممالک کے ڈیلی گیٹس ، فیکلٹی ممبران اور طلباء اس موقعہ پر موجود تھے۔سالانہ کانفرنس کم ورکشاپ کا عنوان ’’ سلوشنز ٹو انٹرو ورسیز ‘‘ رکھا گیا تھا جو آرتھو پیڈکس کے شعبے میں اہم معاملات کے بارے میں قیمتی اطلاعات فراہم کرے گا۔کانفرنس کے دوران ملک بھر کے اور بیرون ممالک سے تعلق رکھنے والے معروف فیکلٹی ممبران منتخب عنوان پر روشنی ڈالیں گے ۔ اسرائیل، یوکے ، تھائی لینڈ اور ملک کے کئی حصوں سے تعلق رکھنے والے ڈیلی گیٹ کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیںجو آتھوپیڈک شعبے سے متعلق اپنے تجربات سے شرکأکو روشناس کریں گے۔طبی ماہرین سے خطاب کرتے ہوئے صلاح کار نے کہا کہ آج کے دور میں علم کو بانٹنا انتہائی اہم عمل ہے اور اس کانفرنس کے ذریعے شرکأکو متعلقہ شعبے میں درج کی گئی ترقی اور تجربات کو دوسروں تک پہنچانے کا اہم موقعہ فراہم ہوگا۔ انہو ں نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں پوری دنیا میں مختلف شعبوں میں درج کی گئی ترقیوں کے بارے میں جانکاری حاصل ہوبالخصوص طبی شعبے میں مریضوں کے علاج و معالجہ کے سلسلے میں مختلف دریافتوں اور ایجادات کے بارے میں عام لوگوں تک رسائی حاصل ہو۔ کانفرنس کے لئے کامیابی کی دعا کرتے ہوئے صلاح کار امید ظاہر کی کہ آرتھوپیڈک کے شعبے میں جدید تکنیک کے بارے میں آپسی خیالات کا تبادلہ کرنے کا بہترین موقعہ ملے گا۔ مشیر موصوف نے تمام ڈیلی گیٹوں کو اس کانفرنس میں حصہ لینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ان ڈیلی گیٹوں کے ساتھ مختصر بات چیت کی اور آرتھوپیڈک کے شعبے میں عالمی سطح پر درج کی گئی کامیابیوں کے بارے میں سیر حاصل بحث کی۔بعد میں انہوں نے جی ایم سی جموں کے میڈیکل طلباء کے ساتھ بات چیت بھی کی۔
شکائتی سیل نے47298 شکایات کا نپٹارہ کیا
جموں//ریاست میں 20جون 2018 سے گورنر رول کے نفاذ سے گریوینس سیل نے47943شکایات وصول کیں جن میں سے47298 شکایات کو نمٹارے کے لئے متعلقہ محکموں کو بھیجا گیا جبکہ 645شکایات کو نمٹانے کا عمل جاری ہے۔اسی طرح گورنر کی ہدایات پر تمام صلاحکار سرینگر اور جموں میں لگاتار لوگوں کے ساتھ میٹنگیں منعقد کرتے ہیںا ور وفود و افراد کی شکایات سُنتے ہیں۔ اس کے علاوہ صلاحکار ان شکایات کے نپٹارے کا باقاعدہ جائیزہ بھی لیتے ہیں۔
محکمہ تعمیرات عامہ کا جائزہ اجلاس
زیرالتواء پروجیکٹوں کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر مکمل کیاجائیگا: خورشید شاہ
جموں//کمشنر سیکرٹری تعمیرات عامہ خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ گورنر انتظامیہ وہ ریاست کے طول و ارض میں رہنے والے لوگوں کو بہتر سڑک رابطے فراہم کرنے کی وعدہ بند ہے اور اس سلسلے میں التواء میں پڑے تمام آر اینڈ بی پروجیکٹوں کو ایک سال کی مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔صوبہ جموں کے محکمہ آر اینڈ بی کی کارکردگی کا جائیزہ لیتے ہوئے خورشید احمد شاہ نے التواء میں پڑے اور نبارڈ پروجیکٹوں کی تفصیلات طلب کیں۔میٹنگ کے دوران کمشنر سیکرٹری نے کئی مرکزی و ریاستی معاونت والے پروجیکٹوں کی موجودہ صورتحال کا جائیزہ لیا۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ التواء میں پڑے247 پروجیکٹوں میں ہائی پاورڈ کمیٹی کی جانب سے منظور شدہ403.27 کروڑ روپے کی لاگت کے72 پُل شامل ہیں۔انہیں مزید بتایا گیا کہ مارچ2019 تک25 پروجیکٹ مکمل کئے جائیں گی اور باقی ماندہ پروجیکٹ ایک سال کے اندر مکمل ہوں گے۔کمشنر سیکرٹری کو مزید بتایا گیا کہ نبارڈ کے تحت652.79 کروڑ روپے کی لاگت سے جاری224 پروجیکٹوں پر کام جاری ہے جن میں سے45 پروجیکٹ اب تک مکمل کئے گئے ہیں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ مختلف مرکزی و ریاستی معانوت والی سکیموں کے تحت دیہی علاقوں کے لئے کئی سڑک پروجیکٹ تشکیل دیئے گئے ہیں۔خورشید شاہ نے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی کہ وہ ان پروجیکٹوں کو ایک سال کی مدت کے اندر مکمل کریں تا کہ عوام ان سے مستفید ہوسکیں۔خورشید شاہ نے افسروں کو مزید ہدایت دی کہ وہ متعلقہ سائٹوں پر ذاتی طور جاکر زمینی سطح کی صورتحال کا جائیزہ لیا کریںاور کام کی رفتار میں تیزی لائیں۔انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ اپنی افرادی اور مشینری قوت کو بروئے کار لاتے ہوئے محکمہ کے ورک کلچر میں مزید بہتری لائیں۔چیف انجنیئر آر اینڈ بھی سدھیر شاہ، ڈائریکٹر فائنانس مظہر خان، ڈائریکٹر پلاننگ اطہر قادری اور دیگر اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
چیف سیکریٹری نے پی ایم کسان کی عمل آوری کاجائزہ لیا
چھوٹے کسانوں کو 6ہزار روپے کی مالی معاونت فراہم کرنیکی ہدایت
ضلع ترقیاتی کمشنر 22 فروری تک مستحقین کی فہرست تیار رکھیں
جموں//چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم نے آج ضلع ترقیاتی کمشنروں کے ساتھ ایک ویڈیو کانفرنس منعقد کر کے ریاست میں پردھان منتری کسان سمان ندھی سکیم( پی ایم ۔کسان) کی عمل آوری کے سلسلے میں تیاریوں کا جائزہ لیا۔کمشنر سیکرٹری مال ، ڈویژنل کمشنر جموں ، سیکرٹری زراعت و باغبانی ، سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایتی راج ، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ، سپیشل سیکرٹری خزانہ ، ڈائریکٹر نیشنل انفارمیٹکس سینٹر اور کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔ڈویژنل کمشنر کشمیر نے میٹنگ میں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔پی ایم کسان کے تحت اُن کاشت کار کنبوں کوجن کے پاس دو ہیکٹر تک قابل کاشت اراضی ہو کو سالانہ 6ہزار روپے کی براہ راست مالی معاونت دی جائے گی۔یہ مالی معاونت براہِ راست مستحق کسانوں کے بینک کھاتوں میں دو، دو ہزار روپیوں کی تین قسطوں میں جمع کرائی جائے گی۔یہ پروگرام یکم دسمبر 2018 ء سے لاگو مانا جائے گا اور 31؍ مارچ 2019 ء تک کی مدت کی پہلی قسط مارچ 2019ء میں ہی ادا کی جائے گی۔مرکزی سرکار نے ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ 25فروری 2019ء تک ضلع وار مستحقین کی حتمی فہرست پی ایم کسان پورٹل پر اَپ لوڈ کریں۔چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ وضع کئے گئے فارمیٹ کے مطابق دیہات میں موجود مستحق کسان کنبوں کا ڈیٹا بیس تیار کر کے 22؍ فروری 2019ء تک تصدیق کر کے اسے این آئی سی جموں وکشمیر کو بھیج دیں۔اس سے پہلے چیف سیکرٹری نے متعلقہ انتظامی سیکرٹریوں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران ریاست میں وضع کئے گئے رہنما خطوط کے عین مطابق پی ایم کسان کی عمل آوری کے تعلق سے خد و خال کو حتمی شکل دی۔
خورشید گنائی نے قبائلی امور محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لیا
جموں//تعلیم کو سماج کی بہتری کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے گورنر کے صلاح کار خورشید احمد گنائی نے کہا ہے کہ قبائلی اور دیگر پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بہبود اور تعلیمی ضروریات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہون نے کہا کہ قبائلی نوجوانوں کی سماجی و اقتصادی زندگی میں بہتری لانے کے لئے سرکاری تعلیم سمیت دیگر شعبوں کو فروغ دے رہی ہے۔اُنہوں نے ایک جائزہ میٹنگ میں ان خیالات کا اظہار کیا جس میں قبائلی طبقوں کی بہبود سے متعلق مختلف پروجیکٹوں کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں محکمہ کے سیکرٹری / ڈائریکٹر ، سپیشل سیکرٹری ، سیکرٹری گجر ایڈوائزری بورڈ ، ڈائریکٹر فائنانس اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ 2018-19ء میں مرکزی سرکار نے ایس سی اے ، ڈی ایس ایس اور دفعہ 275(1) کے تحت 5801.59 لاکھ روپے واگزار کئے جبکہ قبائلی امور کی وزارت نے اس مدت کے دوران 16نئے کلسٹر ماڈل ولیجز کے علاوہ پانچ مِلک ولیجز کے قیام کو بھی منظوری دی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ رفیع آباد اور پنج نارہ میں ہیلتھ سینٹروں کا تعمیراتی کام جاری ہے جبکہ زرعی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے 60لاکھ روپے واگزار کئے گئے ہیں۔قبائلی آبادی کے لئے روزگار کے مواقع پید ا کرنے کے لئے صلاح کار نے نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں ہنرمندی کی تربیت فراہم کرنے اور مختلف علاقوں میں ہوسٹلوں اور سکولوں کی تعمیر پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ طبقے کی سماجی و اقتصادی حالت میں بہتری کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کی جارہی ہے ۔انہوں نے افسران کو مختلف علاقوں میں ترقیاتی ضروریات کے حوالے سے جامع منصوبہ تشکیل دینے اور مختلف سکیموں کی مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کے احکامات دئیے ۔انہوں نے قبائلی نوجوانوں کو مختلف بہبودی سکیموں کے بارے میں جانکاری دینے اور مختلف ہوسٹلوں میں تعلیمی معیار میںبہتری سمیت بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے محکمہ کے ڈائریکٹر کو ذاتی طور مختلف پروجیکٹوں کی بروقت عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے ان کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ترقیاتی کاموں کو دوام بخشنے کے لئے صلاح کار نے محکمہ کو ڈپٹی کمشنر کی سربراہی والی ضلع سطحی کمیٹی تشکیل دینے اور مختلف علاقوںمیں ترقیات کے کاموں کے منصوبوں کے لئے مقامی پنچایتوں کو شامل کرنے کی ہدایت دی۔اکلاویہ ماڈل سکولوں کے کام کا جائزہ لیتے ہوئے صلاح کار کو بتایاگیا کہ اننت ناگ میں یہ کام مکمل کئے گئے ہیں جبکہ 2018-19ء میں 1600 لاکھ روپے مالیت والے تین نئے ایسے سکولوں کے قیام کو منظوری دی گئی ہے ۔میٹنگ میں پری اور پوسٹ میٹرک سکالر شپ پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔
ریوینو ریکارڈ کو مستحکم کرنے کیلئے ڈیجیٹائزیشن بے حد اہم: سکندن
جموں//گورنر کے صلاح کار کے۔ سکندن نے کہا ہے کہ ریوینو ریکارڈ کو مستحکم کرنے کے لئے ڈیجیٹائزیشن عمل بے حد اہم ہے تاکہ عوام کو بہ آسانی مختلف خدمات دستیاب کرائی جاسکیں۔انہوں نے سینٹرل ریوینو ریکارڈ روم ، ریوینو ٹریننگ انسٹی چیوٹ اور ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ریکارڈ س کے دفاتر میں لینڈ ریکارڈ ماڈرنائزیشن پروگرام کی عمل آوری کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔اس موقعہ پر فائنانشل کمشنر ریوینو ڈاکٹر پون کوتوال ، صوبائی کمشنر جموں سنجیو ورما ، ڈپٹی کمشنر جموں / سانبہ / اودھمپور / ریاسی / کٹھوعہ اور دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔فائنانشل کمشنر ریوینو نے ڈیجیٹائزیشن پروگرام کی تفصیلات پیش کیں ۔ صلاح کار نے افسران کو مذکورہ پروگرام کو بنا کسی غلطی کے وقت پر مکمل کرنے کے احکامات دئیے ۔ معائینے کے دوران انہوں نے ان دفاتر کے مختلف سیکشنوں کا دورہ کیااور کمپیوٹرائزیشن اور ریوینو ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کا جائزہ لیا۔دریں اثنا صلاح کار نے ایک میٹنگ میں ڈیجیٹل اِنڈیا لینڈ ریکارڈس ماڈرنائزیشن پروگرام کا ریم ٹیک سافٹ وئیر انڈیا نامی کمپنی کے عہدہ داروں کے ساتھ جائزہ لیا ۔ مذکورہ کمپنی کو لینڈ ریکارڈ س کی ڈیجیٹائزیشن کا کام سونپا گیا ہے۔صلاح کار نے متعلقہ محکمہ اور عمل آوری ایجنسی کو کامن سروس سینٹروں کی خدمات حاصل کرنے کے حوالے سے تجاویز پر غور کرنے کی صلاح دی۔ انہوں نے مذکورہ عمل کا جائزہ لینے کے لئے ایک ٹیم تشکیل دے کر ایک ہفتے کے اندر رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی۔انہیں بتایا گیا کہ 6کروڑ دستاویزات میں سے ابھی تک 2.89 کروڑ دستاویزات کی سکیننگ کی گئی ہے جبکہ ڈی جی پی ایس سروے کو بھی مکمل کیا گیا ہے ۔انہیں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے کے تحت جموں اور سری نگر اضلاع کے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل مکمل کیا جائے گا۔انہیں بتایاگیا کہ یہ عمل اردو ، ہندی اور انگریزی زبانوں میں مکمل کیا جائے گا۔اس موقعہ پر لینڈ ریکارڈس کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے ڈاکیومنٹری بھی چلائی گئی۔