جموں //نیشنل کا نفرنس نے ریاست میں پارلیمانی انتخابات سے قبل پی ڈی پی اور بھاجپا مابین خفیہ رابطے پر حیرانگی اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ابھی بھی دونوں سیاسی جماعتیںپردے کے پیچھے آپس میں اتحادی ہیں ۔شیر کشمیر بھون جموں میں پارٹی کے سنیئر لیڈران کے اجلاس کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ این سی کے پاس ایسی معقول اطلاعات ہیں کہ پارلیمانی انتخابات میں امیدواروں کو نامزد کر نے کےلئے پی ڈی پی کو بھاجپا کی پشت پناہی حاصل ہے ۔بیاں میں کہا گیا کہ پی ڈی پی جموں پونچھ اور کٹھوعہ ادہم پور پارلیمانی حلقوں سے بھاجپا مخالفین کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کےلئے امید واروں کی نشاندہی کرنے میں مصروف ہے جبکہ اس عمل میں اس پر بھاجپاکی اعلی قیادت کی جانب سے رائے بھی دی جارہی ہے ۔پارٹی لیڈران نے پی ڈی پی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وہ صوبہ جموں کے دونوں پارلیمانی حلقوں میں بھاجپا کو حمایت دینے کےلئے مخالفین کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کےلئے کوششیں کررہی ہے جبکہ پی ڈی پی کی جانب سے بھاجپا کی عوامی سطح پر کی جانے والی مخالفت صرف عوام کے جذبا ت کےساتھ کھلواڑ کرنا ہے جبکہ بھاجپا ایسے امید واروں کے نام منتخب کرنے میں پی ڈی پی کو رائے دے رہی ہے جو ان کے امید واروں کو کامیابی حاصل کر نے میں مدد فراہم کریں ۔این سی لیڈران نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر میں سابقہ ریاستی حکومت میں شامل دونوں اتحادی جماعتوں نے ایک دوسرے کو عوام کے سامنے مضبوط بنانے کےلئے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی تھی لیکن دونو سیاسی جماعتیں ابھی تک آپس میں بطور اتحادی ہی کام کر رہی ہیں ۔این سی لیڈران نے پی ڈپی کو تنقید کا شانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ریاستی عوام کے جذبات کےساتھ کھلواڑ کیا۔انہوں نے پی ڈی پی کا انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ دوہرے معیار اختیار نہ کر ئے جبکہ ریاست کے ووٹرو ان دنوں سیاسی جماعتوں کو کبھی بھی معاف نہیں کرینگے ۔اس اجلاس میں کو پارٹی کے صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا ،سرجیت سنگھ سلاتھیہ ،رتن لعل گپتا ،اجے کمار سدھوترہ ،ٹھا کر رچھپال سنگھ ،ٹھا کر کشمیر ا سنگھ ،سجاد احمد کچلو ،سید مشتاق احمد شاہ بخاری ودیگران بھی موجود تھے ۔