جموں//شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی اورڈین سٹوڈنٹس ویلفیئر کے اشتراک سے منعقدہ جشن گلزارکے دوسرے روز ”گلزار۔حیات وخدمات “کے عنوان سے پروفیسرگیان چندجین سیمینار ہال شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی میںبین الاقوامی سیمینارکاانعقاد کیاگیا ۔ سیمینار میں فلم ساز، ادیب ،ڈائریکٹر اورشاعرگلزارمہمان خصوصی تھے جوطلباء،اسکالرس اورمعززشہریوں کی توجہ کامرکزبنے رہے ۔اس دوران کینڈاسے تعلق رکھنے والے نامورمحقق اورشاعر ڈاکٹرتقی عابدی نے ’گلزار‘کی شاعری اورزندگی کے حوالے سے کلیدی خطبہ پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ اُردومحبتاوربھائی چارے کی زبان ہے اورگلزار اُردوزبان وادب کی ایک علامت ہیں ۔ڈاکٹرتقی عابدی نے کہاکہ اُردوکوکسی مذہب کے ساتھ نہیں جوڑاجاناچاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ اُردومیں گیتا،قرآن ،رامائن اورگوروگرنتھ صاحب کوبھی لکھاگیاہے جس سے ظاہرہوجاتاہے کہ یہ کسی ایک مذہب کی زبان نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اُردوہم سب کی ایک مشترکہ زبان ہے جس نے گلزارجیسے قدآورادیب پیداکئے جنہوں نے اُردوشاعری میں ’تروینی ‘نامی صنف کوایجادکیا۔ڈاکٹرتقی عابدی نے تروینی کی تشریح کے بارے میں بھی شرکاکوجانکاری دیتے ہوئے طلبا پرزوردیاکہ وہ 21ویں صدی کی ضرورت ’تروینی ‘میں طبع آزمائی کریں۔پروفیسرشہاب عنایت ملک نے اپنے صدارتی خطاب میں اعلان کیاکہ ’تروینی ‘کوجموں یونیورسٹی اورکالج کے نصاب میں شامل کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کےلئے گلزارایک تحریک ہیں۔شہاب ملک نے کہاکہ گلزار پاکستان کے دیناگاﺅں میں پیداہوئے اورتقسیم وطن کے دوران ہجرت کرکے ممبئی میں قیام پذیرہوئے۔انہوں نے کہاکہ گلزارایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گلزارنے ناموراداکارسنجیوکمارکے ساتھ بھی کام کیاہے۔ڈاکٹرآصف علیمی، ڈاکٹرفرحت شمیم، ڈاکٹر شہناز قادری اور خالدحسین نے اپنے مقالات پیش کرکے گلزارکی فلم ساز، ادیب ،پروڈیوسر اورڈائریکٹرکے طورپر خدمات کواُجاگرکیا۔مقررین نے گلزارکوایک بلندپایہ شخصیت قراردیااورشرکاءسے ان کی شاعری پرغورکرنے کی تلقین کی گئی۔انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کوگلزارکی ایجادکردہ شعری صنف ’تروینی ‘کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جانناچاہیئے۔سامعین کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے گلزارنے تقسیم وطن کے المیہ پرشعری کلام اورکشمیرسے متعلق نظم پیش کی۔سیمینارکے اختتام پر ڈاکٹر میناکشی کیلم رجسٹرارجموں یونیورسٹی نے شکریہ کے کلمات پیش کئے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹرریاض احمدنے انجام دیئے۔