ہندوستان بھر میں پارلیمانی انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ بی جے پی نریندر مودی کو دوبارہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان دیکھنے کے لئے ہر طرح کے دائوپیچ آزمارہی ہے تو دوسری جانب حزب مخالف، بشمول کانگریس بھی لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اُتر آئی ہے۔ نریندر مودی نے 2014 کے انتخابات میں عوام سے بڑے ہی خوبصورت اور دل لبھانے والے وعدے کئے تھے۔ لوگ بھی یوپی اے سرکار کی لگاتار دس سالہ کار کردگی سے اُوب چکے تھے ۔ سکینڈلوں پر سکینڈل طشت از بام ہورہے تھے۔ ایسے میں نریندر مودی کی شکل میں ہندوستانی عوام کو ایک نئی امید نظر آئی۔ نریندر مودی نے میڈیا اور سوشل میڈیا کا استعمال اس حکمت اور دانشمندی سے کیا کہ ملک بھر میں فقط اُن کے گجرات ماڈل کی باتیں ہونے لگیں۔ کسی نے بھی یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر کار یہ گجرات ماڈل ہے کیا۔ میڈیا اور سوشل میڈیا نے مودی کی Larger than life تصویر ایسی اُبھاری کہ عام ہندوستانی کو لگا کہ مودی کے اوتار میں کوئی مسیحا آرہا ہے جوBlack money یا کالا دھن باہر کے بینکوں سے واپس لاکر ہندوستان کی جنتا میں بانٹے گا، جو وزیر اعظم بنتے ہی ہندوستان سے غریبی اور بُھک مری کا خاتمہ کر دے گا ، جو روزگار کے سارے بند دروازے ایسے کھول دے گا کہ ملک بھر میں کوئی بھی شخص بیروزگار نہیں رہے گا۔ ایسی ہی امیدیں باندھے لوگوں نے مودی کو ایک تاریخی مینڈیٹ دے کر وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیا۔
پہلا سال۔ لوگ مودی کی 56 انچ چھاتی پر سر رکھ کر آرام سے اچھے دنوں کا انتظار کرتے ر ہے، دوسرا سال۔ لوگ مودی، مودی نعروں کی گونج پر ہی رقص کرتے رہے، تیسرا سال۔ لوگ دبے الفاظ میں الیکشن میں کئے گئے وعدوں کی یاد دہانی کرانے لگے، چوتھا سال۔ لوگ کھل کر مودی سرکار سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے لگے، پانچواں اور آخری سال۔ چوکیدار چور ہے کی گونج ہر طرف سنائی دینے لگی۔
Black money یا کالا دھن عام جنتا کے بینک کھاتوں میں تو نہیں پہنچا، ہاں رافیٗل گھوٹالے کی چرچا ہر سو ہونے لگی۔ بُھک مری اور غربت کا خاتمہ تو نہیں ہوا لیکن GST اور نوٹ بندی کے گھائو عوام کو سہنے پڑے۔ مودی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ سرکار میں آتے ہی ہر سال ایک کروڑ لوگوں کو روزگار مہیا کریں گے لیکن ان کے دور اقتدار میں بیروزگاری کی شرح مزید بڑھ گئی۔لوگوں نے اب کھل کر مودی پر جھوٹے وعدے کرنے کا الزام لگانا شروع کردیا۔ اور لوگوں کے ان الزامات کی اُس وقت تصدیق ہوگئی جب بی جے پی کے ایک قد آور لیڈر نیتن گڈکری، جو کہ مودی سرکار میں ایک سینئر وزیر ہیں،نے اعتراف کیا کہ ’ہم نے الیکشن میں کچھ ایسے وعدے کر ڈالے جن کو پورا کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ہمیں یقین نہیں تھا کہ ہماری سرکار بن پائے گی‘۔
نریندر مودی کو اب احساس ہونے لگا کہ اُن کے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگی ہے۔ عوامی جلسوں میں تو پہلے والے دبدبے سے ہی بولتے رہے لیکن اندر ہی اندر اُنہیں یہ احساس ہو چکا تھا کہ اُن کی پول کھل چکی ہے۔لوگوں کا اُن پر سے بھروسہ اُٹھ چکا ہے۔ وہ کسی چمتکار کے لئے اند ر ہی اندر بھگوان سے پرارتھنا کررہے تھے۔ اُنہیں کوئی ہتھیار چاہیے تھا، کوئی چمتکار چاہیے تھا اپنی لُٹتی نیا کو ڈوبنے سے بچانے کے لئے۔ لیکن بھگوان نے اُن کی کچھ نہ سنی۔ اُلٹا ’چوکیدار چور ہے‘ کے نعرے اُن کے کانوں کے پردوں کو پھوڑتے رہے۔ اور پھر اچانک اللہ نے اُن کی سن لی۔ کلمہ گو جیش محمد کے ایک متوالے نے خود کش بمبار بن کے لیتہ پورہ کے پاس چالیس سے زائید سی آرپی ایف کے جوانوں کو ہلاک کردیا۔ مودی جی کی جان میں جان آئی۔اُن کے بھگوان نے تو اُن کی سنی نہیں، لیکن اللہ کے ایک متوالے نے اپنی جان قربان کرکے اُن کیلئے سیاسی آکسیجن فراہم کردیا۔ اُن کی سانسیں ایک بار پھر سنبھلنے لگیں، نبض کی رفتار قابو میں آگئی، دل سلیقے سے دھڑکنے لگا۔2014 کے مودی کا نیا جنم ہو گیا۔ لوگ جھوٹے وعدوں کو بھول گئے، غریبی ہٹائوکے نعروں کو بھول گئے،Black money اور روزگار کے نعروں کو بھول گئے۔’انتقام اور بدلہ‘، ’گھروں میں گھس گھس کے مارنا‘، ’چن چن کے مارنا‘۔۔۔۔ مودی نے ایکدم سے نئے نعرے ایجاد کر دئے۔اور جب دیش بھگتی کی بات آتی ہے تو پیٹ کی بھوک ، کچھ ہی لمحوں کیلئے صحیح، پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ ویسا ہی ہوا۔مودی نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے اندر جا کر جیش محمد کے ٹھکانوں کو بالا کوٹ میں نشانہ بنایا۔ لوگوں نے جے جے کار کی۔ لیکن لگتا ہے کہ بھگوان کو کہیں نہ کہیں کوئی خندق تھی۔اُس نے پانسہ پلٹ دیا۔
مودی جی کی سرکار ابھی تک یہ ثابت نہیں کرپائی ہے کہ آیا اُن کے حملوں میں جیش کے لوگ مارے گئے یا نہیں لیکن پاکستان نے ثابت کر دیا اُنہوں نے ایک ہندوستانی طیارہ مار گرایا اور اُس کے پائلٹ ابھی نندن کو حراست میںلے لیا۔پاکستانی وزیر اعظم ، جو کہ ایک منجھے ہوئے کرکٹ کھلاڑی رہ چکے ہیں،نے غضب کا پتا پھینکا۔ ابھی نندن کو ہندوستان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو اس طرح مودی جی کا سارا پلان۔۔۔۔ ٹائیں ٹائیں فش۔
لیکن مودی جی بڑے کائیں ہیں۔ وہ اپنی شکست کا کبھی اعتراف نہیں کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُنہوں نے میڈیامیں اچھی خاصی سرمایہ کاری کی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا اپنی وفاداری ثابت کرے۔ہاں میڈیا میں کچھ عقل کے اندھے باغی بھی ہیں۔ اُنہوں نے بغاوت کی، کھری کھری لکھی اور بولی۔ لیکن اُن کے لکھنے اور بولنے کو مودی جی نے پاکستانی پروپگنڈا بتا کرکھری کھری بولنے والوں کو دیش دروہی ثابت کرنے کی کوشش کی۔اور چونکہ مودی جی کی جی حضوری کرنے والے میڈیا نے ایسا ماحول تیار کر رکھا تھا جہاں کوئی سوال برداشت نہیں کیا جاسکتا، مودی جی کو ایک بار پھر یہ اعتماد حاصل ہو گیا کہ وہ دوبارہ لوگوں میں جائیں اور اپنی تقریر ’میتروں‘ سے شروع کریں۔
خیر آمدم بر سر مطلب۔ ہماری ریاست جموں کشمیر میں ہماری دو بڑی علاقائی تنظیمیں مودی جی سے ذرا بھی مختلف نہیں۔ کچھ ہی مہینے قبل نیشنل کانفرنس ادر پی ڈی پی بغلگیر ہوکر کانگریس کی شراکت سے ایک مشرکہ سرکار بنانے کے لئے رضا مند تھیں۔ لیکن آج دونوں ایک دوسرے میں عیب ڈ ھونڈنے کی دوڑ میں لگی ہیں۔منگل، مارچ 12، فاروق عبداللہ نے اعلان کر دیا کہ پی ڈی پی نے بی جے پی سے مل کر ریاست جموں و کشمیر کے تشخص کو نقصان پہنچایا۔ بدھ، مارچ 13، نیشنل کانفرنس کے دویندر رانا نے کہا کہ پی ڈی پی کا ابھی بھی بی جے پی کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ ہے جس کے ہوتے پی ڈی پی جموں صوبے میں بی جے پی مخالف ووٹوں کو بانٹنا چاہتی ہے۔ اور بدھ، مارچ 13 کو ہی، پی ڈی پی کے نعیم اختر نے الزام لگایا کہ بی جے پی جو کہ کشمیر میں ’حرام ‘ مانی جاتی تھی، کو فاروق عبداللہ نے حلال کا درجہ دلایا کیونکہ وہ اپنے بیٹے، عمر عبداللہ کو مرکز میں بی جے پی سرکار میں وزیر بنانا چاہتے تھے۔
دو پارٹیاں ، جو کچھ ہی مہینے پہلے ایک ساتھ آکر سرکار بنانے کی سوچ رہی تھیں، آج ایک دوسرے کو کشمیر کا دشمن گردان رہی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ دونوں پارٹیاں بہت ہی زیادہ مودی سیاست کے زیر اثر ہیں۔
ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر