اپنے ملک کشمیر کے پولیس والے شش و پنچ میں ہیں کہ یہ کشمیری جوان کس قدر جوشیلے اور پھرتیلے ہیں کہ پولیس حراست میں مارے جانے کے بعد بھی بھاگ جاتے ہیں،جبھی تو رضوان پنڈت نے جو دم توڑ نے کے بعد بھاگنے کی کوشش کی ، ٹاس پٹاس فورس نے اس پر گولی نہیں چلائی، کہتے ہیں وہ بلیٹ پیلٹ چلانے سے گریز کرتے ہیں اور برابر ۲۰۱۰ سے ایسا کرتے آئے ہیں۔خیر ہم تو یہ سوچ کر خوش تھے کہ پولیس کا سربراہ کچھ بولے گا تو سچ ہی بولے گا اور اس کی کہانی پر بھروسہ کرنا کوئی مشکل نہیں ۔اس لئے ہم نے یہ بات گانٹھ باندھ لی تھی کہ لوگوں کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ڈی جی صاحب نے کہہ دیا کہ سیکورٹی صورت حال بہتر ہے تو بہتر ہے ،کیونکہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب جناب ڈی جی پی نے اس بات کا یقین بھی دلایا تھا،لیکن ہوا یہ کہ چنائو کے شور و غوغا میں پرنسپل رضوان پنڈت کو ٹاس پٹاس فورس نے اپنی تحویل میں جاں بحق کردیا کہ ساتھ میں ہم پر واضح کردیا کہ اونتی پورہ کا جواں سال اُستاد مر گیا ۔ تب جاکر ہما رے بیجے میں بات اتری کہ ڈی جی پی کی لکشمن ریکھا کا اطلاق وردی پوشوں پر نہیں ہوتا ۔ مطلب کسی کو یہ شک نہ رہے کہ ٹاس پٹاس فورس والوں نے مارا، بھلا وہ کوئی ایسی غلطی کرنے والوں میں سے ہے کیا؟ہاں اگروہ تفتیش کے نام پر ہلکے سے ڈنڈے ایک آدھ بار مارتے ہیں ، تھوڑا بہت بجلی کا کرنٹ پاس کرتے ہیں ، تھوڑا سا اُلٹا لٹکاتے ہیں ، مرغا بناتے ہیں ،کچھ دیر پنڈلیوں پر رولر چلاتے ہیں ،تواس کے سبب پورے جسم کا مساج ہوتا ہے اور مفت میں تھکاوٹ بھی دور ہوتی ہے۔اب اگر تھکاوٹ دور کرنے کے بعد رضوان پنڈت کی میت گھر پہنچی تو بھلا اس میں ان کا کیا قصور؟اور قصور وار ڈھونڈنے کے لئے ہی تو انکوائری بٹھائی گئی تاکہ وردی پوشوں کو نک ٹائی پوش اس جرم سے آزاد کرنے کا سرٹیفیکٹ فراہم کردیں ؎
نکلو گے تو ہر موڑ پر مل جائیں گی لاشیں
ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
ہم کچھ نہیں کہہ سکتے حالانکہ ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں ،بلکہ ہاتھ میں قلم بھی دبائے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ قلم دوات پر جملہ حقوق کسی اور نے چرائے ہیں اور وہ اسی کے دم پر ہماری ہی چھاتی پر مونگ دِلتے ہیں اور اگر ہم آہ کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام ۔ وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا، کیونکہ انہیں اپنا قصور کسی اور سر تھوپنے کا من موہناہنر آتا ہے ۔ اس لئے کہ اپنے دور میں مارے ہوئے افراد کو وہ اس طرح چھپاتے ہیں کہ انسان نہ ہوں بس آنکڑے ہوں، جنہیں گنتی شمار میں رکھا تو رکھا ۔اس پر ہل والے بھی پیچھے نہیں اپنے دور کے ذبح شدہ لوگوں کو وہ بقولِ اہل کشمیر اُنتیس کے ساتھ ڈال کر تن تنا نن کر دیتے ہیں ۔مطلب اپنا دامن سپر رِن یا سرف سے دھو ڈالتے ہیں تاکہ کہیں کوئی داغ نہ رہ جائے اور کوئی تھرتھراتی اُنگلی بھی ان کی طرف نہ اٹھائے۔ اُن کی دھلائی صابن پاوڈر فیس بک اور ٹویٹر فراہم کرتا ہے۔بھارتیہ سپہ سالار نے پہلے ہی فرمان جاری کیا ہے کہ کاٹتے چلو مارتے چلو، سُرکشا بل پیچھے ہو رام تو بھلی کرے گا۔ کسی قتل ، کسی خون ناحق کا، کسی عزت ریزی کا، کسی مارا ماری کاچرچا ہو بھی جائے تو بس اخباری سرخی ایک دو دن اسے سجاتی ہے ،رجھاتی ہے، اور پھر بھلاتی ہے ۔یقین نہ آئے تو وہ ساری سرخیاں یاد کریئے جن کو بھلانے کا ریکارڈ بھی ہم توڑ دیا ۔ یہاںبزبانِ سرکار بنامِ خلقِ خدا تحقیقات کے اعلان در اعلان ہوئے مگر کھودا پہاڑ نکلی چوہیا،اسی چوہیا نے ان تحقیقاتی رپورٹوں کو مزے سے اپنی غذا بنایا۔جناب عالی! ملک کشمیر میں اتنے Probes کے اعلانات ہوئے جتنی یہاں معلوم ونامعلوم قبریں ہیں ۔ ہم کبھی کبھی مغالطے میں آتے ہیں کہ ہم ملک کشمیر کے باشندے ہیں یا پروبستان کی خلقت۔ کول کمیشن بھی سجایا گیا، سنوارا گیا اوراب اس کی سفارشات منظر عام پر نہیں لانے دیتے اور ہم ہیں کہ نعرہ مستانہ لگا کر اپنا من موجی بناتے ہیں لیکن کیا کریں ادھر سے ٹو جی، تھری جی، فور جی بلکہ پارلے جی پر بھی پابندی لگ جاتی ہے۔یوں ہماری زبان بند، سوچیں زیر قفل ہوں،حرکات و سکنات پر قدغن ہو اور زبان سے سلطا نی ٔ مودی کے زمانہ پر عش عش کر نا پڑتا ہے ؎
ٹوٹے ہیں مجھ پہ قہر بھی میں نے پیا ہے زہر بھی
میری زبان ِتلخ کا اتنا بھی اب بُرا نہ مان
لو جی بھائی لوگو! عیش کرو بلکہ موج منائو اور خوشی سے جھومو ،ناچو ،گائو ،ونہ وُن، روف پر تھرک تھرک جاؤ ۔جنہیں ونہ ون نہیں آتا وہ ڈی جے والے بابو کی مغربی دھن پر ناچے ۔ بھارت ورش میں بیماری کی مانند پھیلے چوکیداری کے موسم میں اپنے ملک کشمیر میں چوکیداری کا انفیکشن ہوگیا ہے ۔اس انفیکشن کے چلتے ساری سیاسی پارٹیاں اُچھل کود میں لگ گئی ہیں کہ سیاسی بیماری کی اہم نشانیوں میں’’ راج کرے گا تاج کرے گا، آگے بڑھو ہم تمہارے ساتھ ہیں ، اب کی بار اپنی سرکار‘‘ جیسا شور مچانا بھی شامل ہے۔اس کے ساتھ ساتھ وہی وعدے دہرانا بھی لازم ہے جو ماضی میں کرنے کے بعد بھول جانا کارگر دوائی کے طور بھی استعمال ہوتاآیا ہے۔ اسی لئے ہم نے خصوصی پوزیشن ، ۳۷۰ اور ۳۵؍۱لف کو ایک مضبوط سیف میں محفوظ رکھ دیا اور اس کے گرد اگرد چوکیداروں نے اپنی اپنی چونگی چوکی قائم کی ہے تاکہ کہیں سے کوئی ناگپوری ڈاکو یہاں ڈاکہ ڈالنے نہ آئے۔عمر چوکیدار ، فاروق چوکیدار ، سجاد چوکیدار، محبوبہ چوکیدار اور اب فیصل چوکیدار چاق و چوبند کھڑے ہیں کہ کوئی اس کی چونگی کے قریب بھی نہ پھٹکنے پائے۔کسی نے اندرونی خود مختاری کی توپ، کسی نے سیلف رول کا نیزہ، کسی نے تبدیلی کا باجہ ، کسی نے خاندانی راج کے خاتمے کی ڈگڈگی ہاتھ میں لی ہوئی ہے ۔ ایک صاحب نے Achievable Nationhood کا فائٹر جہاز مونچھوں والے ابھی نندن کی طرح سنبھالا ہے ، کسی نے بدلی ہوا کی سوکھی گھاس جمع کر رکھی ہے۔اس ذاتی دنگل کے اکھاڑے میں شامل پتلی کمروالے اور ترچھی نظر رکھنے والے پہلوانوں کو ایک دوسرے سے ملنا چاہئے تھا لیکن ملک کشمیر کا چونکہ باوا آدم نرالا ہے، اسلئے یہ کہَن را و مژ گاو (گیارہ افراد کے بیچ گائے کا گم ہونا) کے مصداق اپنے اپنے کوچے میں دربدر پھر رہے ہیں ۔نہ چوکیداری ساتھ دیتی ہے نہ مشترکہ گائے دکھائی پڑتی ہے۔وہ جو مرشد کاملؒ نے سا ری سم تَو ا کِس رَزِ لم تَو(سارے مل کر ایک ہی رسی کھینچو) کا پیغام دیا تھا، وہ خلفشار کے ان مریدوں کے پلے کہاں پڑنے والا؟ بقول دانایان کشمیر لالچی انسان تو سوکھی ندی میں بھی ڈوب جاتا ہے ۔
ادھر مفتیان بیج بہاڑہ نے ایک نیا فتویٰ جاری کردیا ہے ۔ابھی ہم مرد مومن کے خواب کی تعبیر ہی ڈھونڈھ رہے تھے کہ سارے اہل قلمدان مجاہدین بلکہ حقیقی مجاہدین قرار پائے۔وہ ایک مرد مومن جس نے قطبین کا ملاپ کیا اور پھر ایسا جوڑ بنایا کہ فیویکول جوڑ شرمندہ ہواکیونکہ قطبین کا جوڑ اصل میں ناگپوری نٹ بولٹ والا تھا کہ کب ٹائٹ کرنا اور کب ڈھیلا چھوڑنا ،وہ ہدایت تو دلی دربار سے ہی آتی رہی۔جبھی تو ابھی سر نہیں منڈوایا کہ اولے گرے ۔اور ہولے ہولے نہیں بلکہ ایک دم گرے جب مودی نے خیالی چھپن انچ کا سینہ اور بھاری ڈولے دکھائے ۔ملک کشمیر کی ہی سر زمین پر ملک کشمیر کے حل پر ایسی سرزنش کی کہ مرد مومن کا خوب چکنا چور ہوا ۔ مرد مومن نے تو نیم خوابیدہ آنکھوں سے کانچ کے ٹکڑے سمیٹ کر اپنے محل خانے میں محفوظ رکھے کہ ان کے ہی سبب کرسی اپنی جگہ قائم تھی۔مرد مومن نے کرسی کا رُخ اپنی جانب ہمیشہ کے لئے موڑنا چاہا مگر وائے کم نصیبی گٹھ بندھن نے جغرافیہ میں تبدیلی لائی،یعنی قطبین کا ملاپ سرکار کے فلاپ پر منتج ہوا۔کنول کی آبیاری کرتے کرتے قلمدان کی سیاہی خشک ہو گئی ؎
حقیقت کیا چھپائی ہم سے اس کی سیاست نے
جسے خیر خواہ سمجھ بیٹھے وہ دشمن ِجان نکلا
ادھر ہل والے نیشنلیوں اور اہل قلم دان کے بیچ ملک کشمیر کی حصہ داری کے موضوع پر ٹھن گئی ہے ،جبھی تو دودھ ٹافی آنٹی نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ جموں کشمیر و لداخ ہل والوں کی ذاتی جاگیر نہیں کیونکہ اگر ہے تو وہ فوراً ملکیت کے تصدیق شدہ کاغذات پیش کرے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کشمیر کی ساری زمینیں ہل والوں کی ہیں جبھی تو اس پر ہل جوتنے کے سارے حقوق انہیں دئے گئے ہیں اور قلم دان تفویض کرنے کے سبب تمام اسکول کالج ، دانش گاہیں اور دفاتر مفتیان بیج بہاڑہ کی ذاتی ملکیت قرار پائے ہیں۔اس لئے ہم ببانگ دہل اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ دونوں خاندانوں کے نام ملک کشمیر تقسیم قرار پایا ہے ۔کوئی اعتراض اُٹھائے گا تو اپنے سرو سامان کا خود ذمہ دار ہوگا ۔اس بیچ نیشنلی قائد ثانی نے اپنے فرزند کی بے روزگاری کا رونا رویا ،بھلا کیوں نہیں بیٹے کی روزی روٹی کا سوال بھی تو ہے۔ تین سال پہلے جو سی ایم کی کرسی چھنی، بڑی مشکل سے ایک اسمبلی حلقہ ہاتھ آیا جس کے سبب گھر کچن چلتا رہا، نہیں تو صبح شام کھانا نہیں ملتااور اب کی بار اگر کچھ تنخواہ کا انتظام نہ ہوا تو دال چاول بھی نصیب نہیں ہو گا ۔بچوں کی فیس تک ادا نہ ہوگی ، ڈاکٹر کے پاس جانا مشکل ہوگا کہ دوائی کے لئے پیسے سے جیب خالی ہوگی۔اس لئے ہمارے غریب خاندان پر رحم کھائو، ترس کھاؤ ۔ آپ کا آشیر واد حاصل ہو تو مفلس عمر سی ایم بنے گا اور میں نادار ممبر لوک سبھا پر گزار ہ کرلوں گا۔مطلب بے روزگار بیٹے کو کچھ کام دو ڈیلی ویجر ہی سہی اور مجھے بھی بے کار نہ چھوڑو۔
چوکیداری موسم میں سب لوگ چوکیدار بنے پھرتے ہیں ۔مودی چوکیدار، امت شاہ چوکیدار، ارون جیٹلی چوکیدار، مطلب اپنے یہاں وزرا ء کا قحط تو پڑ ہی گیا مگر چوکیداروں کی بھر مار ہو گئی اور چوکیدار بھی ایسے کہ ان کے اوپر زیڈ پلس سیکورٹی لوگ چوکیداری کر تے ہیں، یہ واچ مین کی طرح محل کے باہر نہیں بلکہ نصیبوں والے چور چوکیدار کی طرح محل کے اندر مفت کے کیش پر عیش کر تے ہیں ۔سنا ہے کہ بے چار ے نیپالی چوکیداروں کی نوکریوں وغیرہ کے بھی لالے پڑ گئے ہیں کہ ان کی سستی نوکریوں پر بادشاہ لوگ قابض ہو گئے۔ایک طرف نوجوانوں کی جابس پر ڈاکہ ڈالا ، دوسری طرف شاحب جی کہنے والے بہادر اور تھاپا بے چارے کام سے گئے ۔ چوکیدار شاحب (صاحب) کو ایک طرف بھارتی معیشت کی فکر ہے ، اس لئے بنکوں اور معاشی خزانوں کی رکھوالی چوکیداری کرتے رہتے ہیں ۔چلو مانا کبھی نیند سوار ہوئی تو نیرو مودی وجے مالیا وغیرہ ہزاروں کروڑ پر ہاتھ صاف کرکے وشال دیش سے خوش حال بنے فور چکر ہو گئے ،یا یہ کہ کبھی جان بوجھ کر نکلنے دیا کہ چلو تم بھی کیا یاد کرو گے کہ میرے جیسے چور چوکیدار سے واسط پڑا ۔اتنا ہی نہیں اپنا چوکیدار اب اردو زبان پر بھی چوکیداری کرنے نکلا ہے ۔جبھی تو مودی سرکار شاہ رُخ خان ، سلمان خان اور کترینہ کیف جیسے لوگوں سے ویلن اردو کی ہیروئین جیسی پروموشن کروائے گی۔ واہ مودی جی واہ!کترینہ تو انگریزی ماحول میں پلی بڑھی ہے ،بڑی مشکل سے اردو ہندی ڈائیلاگ بول پاتی ہے ۔ چلتے چلتے ہم نے کترینہ سے اردو میں بات چیت کی ۔سنئے اور سر دُھنئے
ہم: سنا ہے آپ اردو کی پروموشن کرنے والی ہیں ؟
کترینہ: یس یس ، ہم کو ارڈُو کا پروموشن جاب ملا ہے
ہم : میڈم جی! آپ کو اردو زبان کیسی لگتی ہے ؟
کیٹرینہ : یہ سب کانٹیننٹsub continent کی ہی نہیں پورے ورلڈ میں سپیک ہوٹی ہے۔اس کے چاہنے والے ہر ٹرف پھیلے ہیں۔یہ بہت سویٹ لنگویج ہے۔
رابط ([email protected]/9419009169)