علم تاریخ کے بابا آدم ابن خلدون نے اپنے شہرہ آفاق ’’مقدمہ ‘‘ میں لکھا کہ واقعات کے ظہور میں سائنٹیفک ربط و ضبط پایا جاتا ہے ۔اگر ایک واقع رونما ہوتا ہے تو اس کی پشت پر اس کے ظہور کی وجوہات موجود ہوتی ہیں اور حال و مستقبل کی آبیاری بھی کر رہا ہوتا ہے یعنی ماضی ،حال اور مستقبل ایک تاریخی تسلسل کی کڑیاں ورباہم مربوط کڑیاں ہوتی ہیں ۔اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کو ریاست اسرائیل کا حصہ قرار دے دیا ہے، جسے امریکہ نے تسلیم بھی کر لیا ہے۔ عرب ممالک نے امریکی فیصلے پر صرف کڑی تنقید کی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ شام کے مقبو ضہ علاقے پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنا اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں اور عالمی برادری کے طے شدہ موقف کی توہین ہے۔1981میںسلامتی کو نسل نے قرارداد 497منظور کر کے اس خطے کی قانونی حیثیت بارے تمام ابہام دور کر دئے تھے اور طے پا یاتھا کہ یہ خطہ اسرائیل کا حصہ نہیں بنے گا ۔اسرائیل ، امریکی سر پرستی میں دہائیوں سے من مانیاں کرتا چلا آرہا ہے، اس سے پہلے امریکہ نے یروشلم کو ریاست اسرئیل کا دارالحکومت بنانے کے اعلان کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اپنا سفارت خا نہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر کے سیکورٹی کونسل کی متفقہ قرارداد اور اقوامِ متحدہ کی اکثریتی قرارداد کا مذاق اڑایا تھا ۔ریاست اسرائیل کا قیام بذات خود ایک عالمی سازش کا نتیجہ ہے جسے برطانوی حکمرانوں نے قائم کیا اور امریکی حکمران اور روس اس کی پر ورش اور پر داخت کرتے رہے ۔ گزرے71 سال سے مشرقِ وسطیٰ میں رونما ہونے والے واقعات ایک بڑے مربوط منصوبے کا تسلسل ہیں ۔گریٹر اسرائیل کی تعمیر حتمی منزل ہے ۔ 2500 سال کے بعد مشرقِ وسطٰی میں اسی جگہ ریاست اسرئیل کا قائم ہونا کو ئی اچانک حادثہ نہیں ہے ، جہاں یہ روزِ اول قائم کی گئی تھی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ رب العزت کے حکم سے جہاں یروشلم میں ایک بستی بنائی ، ایک عبادت گاہ کی تعمیر کا آغاز کیا جسے ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے مکمل کیا ، اس عبادت گاہ کو ہیکل سلیمانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔بنی اسرائیل اپنی نا فر مانیوں اور رُوگردانیوں کے باعث اللہ کے عذاب کے مستحق قرار پائے ، اوران کی ریاست مع ان کی عظمت کھو گئی ،انہیں اپنی بداعمالیوں نے دنیا بھر میں منتشر کر کے رکھ دیا اور پھر سلسلہ رُشد وہدایت قرار دیا گیا ۔ 15صدیو ں سے رُشد و ہدایت بنی اسماعیل ؑ کی طرف لو ٹا دیا گیا اورآخری نبی حضرت محمدﷺ انسانیت کے لئے حتمی پیغام رُبانی کے ساتھ مبعوث کئے گئے، مکۃ المکرمہ میں واقع کعبہ کو مر کز رُشدو ہدایت باذن اللہ قرارپایا۔صدیوں سے رشدو ہدایت کا یہ سلسلہ چلتے چلتے کمزوریو ں کا شکار ہو چکا ہے، اقوام عالم کے 192ممالک میں 62مسلم ممالک شامل ہیں ،لیکن ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، خاص کر نائین الیون کے بعد جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کو جابہ جاسر تاپاکچل کر رکھ دیا گیا ہے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا جہنم دھکا کر بہت کچھ بھسم کر دیا گیا ہے تاکہ ’’گریٹر اسرائیل ‘‘کی تعمیر کا صیہونی منصوبہ روبہ عمل آسکے ۔واقعات کا ظہور ، تبدیلی کا عمل ایک مسلسل سلسلۂ حادثات ہوتا ہے ،واقعات کڑیوں کی صورت میں باہم دگر جڑے ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ایک تاریخی تسلسل ہے کہ عالمی غنڈوں کے ایکا کے باوجود اورمسلم اُمہ نیوزی لینڈ جیسی عیسائی دہشت گردی اور غزہ جیسی صیہونی ماردھاڑ کے باوجود ایک نئی دنیا غیر محسوس انداز میں اُبھر رہی ہے ۔نیوزی لینڈ میں ہونے والے المیے کے بعد وہاں جو حالات پیدا ہوئے ، وہاں سوگوار مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا جس والہانہ انداز میں اظہار ہو رہا ہے، وہ یقیناً اسی نئی دنیا کی جانب اشارہ کر ہی ہے ۔ یہ بات قابل فہم ہے کیونکہ تاریخ میں پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ اہل اسلام ایسے حالات سے گزرے کہ ظاہر بین نگاہوں کو لگا کہ اب کلمہ خوان قصہ ٔ پارینہ ہونے کے ہیں مگر مسلمانوں نے بدترین ناموافق حا لات کا سامنا جوں توںکیا ۔ بہرحال اب گولان کی پہاڑیوں پر امریکہ اور اس کے بغل بچے اسرائیل تاریخی تسلسل میں اگر واقعات کی کڑیوں کو جوڑا جائے تو ایک نئی بڑی عالمی جنگ کی صورت پیدا ہو رہی ہے جس کا محور اور مرکز مشرق وسطٰی بننے جا رہا ہے۔ہیکلِ سلیمانی کی 2500سالہ پرانی بنیادوں پر تعمیر کے لئے مسجداقصٰی کو شہید کیا جانا بھی اسی تاریخ کا تسلسل ہی ہو گا۔ اور یہ آخری جنگ آج نہیں تو کل ہو نی ہی ہے۔