نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی مرکز میں اپنی حکومت کی پانچ سالہ مدت مکمل کر چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نوٹیفکیشن کے مطابق اپریل11؍2019ء کو لو ک سبھا انتخابات کا پہلا مرحلہ منعقد ہوگا۔پورے ملک میں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے ووٹروں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے الیکشن مہم زور شور سے جاری ہے مگر کوئی لہر ابھی تک ناپید ہے۔ سات مراحل پر مشتمل انتخابات شیڈول کم و بیش دو مہینوں میں اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ شیڈول کے مطابق ان انتخابات کے نتائج مئی کے آخری ہفتہ سے متوقع ہے ۔2014ء لو ک سبھا انتخابات کے دوران پورے بھارت میں کانگریس کی بدعنوانیوں، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے عوامی مسائل کومو دی مودی مودی کی گونج برپا کی تھی۔ مودی نے وقت کی نبض شناسی کر کے سب کا ساتھ سب کاوکاس اور اچھے دنوں کے خواب دکھا کر ووٹروں کو بھاجپا کی طرف رجھایا اور پارٹی کو انتخابات میں بھاری اکثریت سے کا میابی حاصل ہو ئی۔ مودی کے نعروں میں عام لوگوں کے لئے کشش تھی، خاص کر سب کا ساتھ سب کا وکاس ، ملک کے بے روزگار نوجوانوں کوروزگار کی فراہمی ، کسانوں کی آمدن کو دوگنا کرنے کے وعدے، کالے دھن کو بیرونِ ملک بنکوں سے واپس بھارت لاکر ہر بھارتیہ شہری کے بنک کھاتے میں پندرہ لاکھ فی کس جمع کر نے کا وعدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے الیکشن منشور کا اہم اور بنیادی حصہ رہے ۔ ان ہی خوش نما وعدوں پر ملک کے عوام سے مودی نے منڈیٹ حاصل کیا ۔ آج یہ سوالات رائے دہندگان کے ذہن میں لازماً کلبلانے چاہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حکومت کی پانچ سالہ مدت میں اپنے وعدوں کا ایفاء کر نے میں کامیاب رہی ؟ عام لو گوں کے معیارِ زندگی میں مودی سرکارمیں کوئی بہتری واقع ہو ئی ؟ملک ترقی کی تیز گام رفتار پکڑسکا ؟ملک کی سماجی حالت میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما ہو گئی ؟ داخلہ اور خارجہ محاذوں پرحکومتی پالیسیاں ملک اپنی اندرونی صورت حال اور بیرونی شبیہ بہتر بنا سکیں؟ نوٹ بندی سے عام لوگوں کا کوئی بھلا ہوا؟ ا س اقدام سے تجارتی طبقہ پر کوئی اچھا اثر پڑ ا ؟ ملک میں جی ایس ٹی لاگو کرنے کے حکومتی فیصلہ سے تجارتی اور کاروباری حالات سدھر گئے؟ گزشتہ پانچ سالہ عرصہ میں ملک کی کثیر سماجی شناخت ، مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم اہنگی کے اصول و روایات کی کوئی آبیاری ہوئی؟ یہ وہ چند بنیادی سوالات ہیں جن کی پانچ سالہ مدت مکمل ہو نے پر ملک کے سنجیدہ حلقے جواب چاہتے ہیں۔ ان سوالوں کے آئینے میں مودی حکومت کی کاکرکردگی بھارتی عوام کے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند ہے ، ا نٹرنیٹ اور مواصلاتی انقلاب کے اس دور میں حقائق زیادہ دیر زیرپردہ نہیں رہتے۔ عوام الناس آنے والے دنوں میں اپنے ووٹ کا استعمال حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر کرتے ہیں یا نت نئے نعروں کی گونج میں بہک جاتے ہیں، یہ بتانا دشوا ر ہے۔
جمہوریت میںووٹ کا صحیح اور موزوں استعمال ہی وہ پہلا قدم ہو تا ہے جو کسی ملک یا قوم کو خوشحالی و ترقی کی طرف لے جانے میں معاون و مددگار بن جاتاہے۔ بھارتی عوام کے لئے از بس لازم ہے کہ وہ ایک سو پچیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کی مر کزی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کو سا منے رکھ کر ہی اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر ڈالیں ۔اس وقت پورے ملک میں الیکشن مہم جاری ہے۔ قومی سطح پر ہر سیاسی پارٹی لوگوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کو ششوں میں تن من دھن مصروفِ عمل ہے۔ الیکشن گہماگہمی ہر سُودیکھی جارہی ہے، بھاجپا اپنی کامیابیوں کا ڈھونڈورا پیٹ رہی ہے اور کا نگریس بشمول اپوزیشن سرکار کی نا کا میوں ، خالی خولی نعروں اور تشنہ ٔ تکمیل وعدوں کا عوام میں مذاق اُڑارہی ہے ۔ چونکہ پلوامہ کے بعد ہندپاک فضائی جھڑپوں کے باوجود آنے والے لوک سبھا انتخابات میں کوئی لہر تادم تحریر پیدا نہ ہوئی،اس لئے یہ کہنا مبصرین کے لئے دشوار ہورہاہے کہ انتخابات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ۔لوک سبھا الیکشن کے حوالے سے یہ بھی ایک غو ر طلب پہلو ہے کہ تادم تحریر اپوزیشن بہار کا مہاگھٹ بندھن جیسا انتخابی اتحاد معرض ِ وجود میں نہ لاسکی ۔حالانکہ قبل ازیں پانچ ریاستوں میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں لوگوںکے موڈمیں بھاجپا مخالف بدلاؤ کا عندیہ مل چکا تھا لیکن لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بارے میںا بھی حتمی طور وثوق کے ساتھ کوئی رائے زنی نہیں کی جاسکتی ہے۔
اُدھر ریاست جموں و کشمیر میں 2019 پارلیمانی انتخابات کو لے کر علاقائی اور قومی پارٹیوں کی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ کانگریس اور نیشنل کا نفرنس کے د رمیان کئی دن تک چلے تبادلۂ خیال کے بعد لو ک سبھا انتخابات مشترکہ طور لڑنے پر اتفاق ہوا مگر نیشنل کانفرنس نے وادیٔ کشمیر کے تینوں پارلیمانی نشستوں کے لئے اپنے اُمیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ۔پی ڈی پی ، بی جے پی، پیپلز کانفرنس اور دیگر چھوٹی علاقائی پارٹیاں بھی الیکشن اکھاڑے میں قسمت آزمائی کے لئے سرگرم ہو چکی ہیں۔ شاہ فصیل کی نئی پارٹی لوک سبھا میں حصہ نہیں لے رہی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق ریاست جموں و کشمیر کی چھ نشستوں میں وادی کی تین ،جموں کی دو اور لداخ کی ایک سیٹ کے لئے چھ مر حلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ریاست کی تمام علاقائی پارٹیوں کو اپنی اپنی الیکشن مہم کے دوران دفعہ 370؍اور 35A؍کی ہر حال میں تحفظ کا دعویٰ رہے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال جموں وکشمیر میں منعقدہ میونسپل اور پنچایتی الیکشنوں میں ریاست کی دو بڑی علاقائی پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے ان میں شرکت کرنے سے انکار کیا تھا۔ ا س ضمن میں وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ مرکزی سرکار دفعہ35A؍اور 370؍کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کررہی ہے اور جب تک مرکزی حکومت انہیں ریاست کے خصوصی پوزیشن کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کرنے سے گریز کرنے کی یقین دہانی نہیں دیتی ہے تب تک وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتے۔ پو چھا جاسکتا ہے کہ کیا انہیں مرکزی حکومت سے اس ضمن میں کوئی یقین دہانی حاصل ہوئی ہے کہ اب کی بار وہ انتخابی عمل میں کود پڑی ہیں۔ ریاست کے خصوصی درجے کی ضامن بھارتی آئین کی ان دفعات کی حفاظت یہاں کے عوام کے لئے ایک مستقل چلنج بنا ہواہے۔ یہ بات چنداں تشریح طلب نہیں کہ مرکز میں بھاجپاحکومت ان خصوصی دفعات کو آئین سے کالعدم کرانے کی تاک میں بیٹھے ہے اور اسے اپنے الیکشن منشور کا لازمی حصہ بنائے ہوئی ہے۔ جہاں مرکز میں بھاجپا اور اس کی ہم خیال فرقہ پرست پارٹیاں ان دفعات کو کالعدم کرانے کے لئے عوام سے ووٹ بٹورنے کی کوشش کریں گی، وہیں یہاں کی علاقائی پارٹیاں ان دفعات کی حفاظت کرنے کے لئے یہاں کے عوام سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریں گی۔ اگر بالفرض یہاں کی علاقائی پارٹیاں بھارتی آئین کی ان دفعات کی حفاظت کا کارڈ کھیل کر نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گی تو کیا وہ مرکزی حکومت کو ان آئینی دفعات کے ساتھ کوئی چھیڑ خوانی کرنے سے دور رکھ پائیں گی؟یہ ایک ایسا اہم سوال ہے جس کا جواب شاید ہی یہاں کی کوئی سیاسی پارٹی دینے کی پوزیشن میں ہے۔ کشمیر میں عوام کو سیاسی طور تقسیم درتقسیم کر نے کی پالیسی کے عین مطابق وقفے وقفے سے وادی ٔکشمیر میں نئی نئی سیاسی پارٹیاں منصہ شہود پر لانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس سے اور کچھ ہوتا ہو یا نہیں مگر لازمی طور یہاں کا ووٹ منقسم ہو تا جائے گا۔اس کے نتیجہ میں ریاست کی خصوصی پو زیشن اور بھارتی آئین میں ریاست کو ملی انفرادیت کی مخالف قوتوں کوتقویت اور انتخابی فوائد ملنے کے مواقع اور امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر ریاست کے مجموعی مفاد اور شناخت کے تحفظ کو لے کریہاں کی الیکشن لڑنے والی تمام پارٹیاںاپنی فکرمندی کا اظہار کررہی ہیںاور ہر حال میں اس کی حفاظت کرنے کا بلند بانگ دعوے میں سچی ہیں تو ان کے لئے لازم بنتاہے کہ ا س بارے میں اپنی آواز میں ہم آہنگی اور یک رنگی پیدا کریں۔ بھارتی آئین کی مذکورہ دفعات کا دفاع کرنے ان کی اولین ذمہ داریوںمیں شامل ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ اسی نام سے اپنی سیاسی روٹیاں سینکی ہیں۔ انہیں پارٹی مفاد سے بالاتر ہو کربیک زبان ریاست کی خصوصی پوزیشن کو بھاجپا اور اس کی ہم نوا ذیلی قوتوں کی سیاسی یلغار سے محفوظ رکھنے میں آگے آنا ہوگا۔ یہاں یہ سوال بھی ان پارٹیوں کے لئے درد سر بناہوا ہے کہ لوک سبھا الیکشن میں یہ کیا وعدے وعید لے کر اور کس چیز کی اُمیدیں دلاکر لو گوںسے ووٹ مانگ لیں گی، خاص کر جب مرکزی حکومت کشمیر کے تئیں سخت موقف اختیار کئے ہوئی ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ میں ریاست کے لئے مخصوص خصوصی دفعات کے خلاف عرضیاںزیر سماعت ہیں۔ بار ایسویشن کشمیر کی طرف منتخب وکیلوں کی ٹیم مسلسل دہلی جاکر عدالتی کاروائی کی پیروی کررہے ہیں۔یہاں کی الیکشن نواز پارٹیاں اس حوالہ سے غیر متعلق دکھائی دے رہی ہیں اور بھارتی آئین میںدرج ر یاست کے لئے خصوصی دفعات کو لاحق خطرات کے بجائے وہ الیکشن مہم میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ دوسری طرف یہاں کے حالات پچھلے کئی سال سے زیادہ آج اذیت ناک بنے ہوئے ہیں۔ ریاست کی ایک معروف سماجی اور دینی تنظیم جماعت اسلامی کو ممنوعہ قرار دینے کے بعد اب یاسین ملک کی قیادت والی لبریشن فرنٹ کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ان پارٹیوں کی لیڈر شپ کو قید وبند کی نذر کیا گیا ہے ا ور کارکنوں پر کریک ڈاون جاری ہے ۔ کئی دیگر دینی تنظیموں کے لیڈر اور اسلامی اسکالر بھی جیلوں میں بند کئے جارہے ہیں۔ ان گھمبیر حالات میں الیکشن حامی پارٹیوں کا لوگوں کے سامنے ووٹ مانگنے جانا بہت مشکل معاملہ بنا ہواہے۔ بایں ہمہ جس وعدے پر وہ لو گوں کو اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے میں کا میاب ہوسکتے ہیں وہ ہے بھارتی آئین کی دفعہ35Aاور 370کی حفاظت کی یقین دہانیاں ۔ وجہ ظاہر ہے کہ ریاستی عوام کسی بھی صور ت ان دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی روادار نہیں لیکن ساتھ ہی اس ٹھوس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کے545 ممبروں کی بھاری تعداد میں کشمیر سے منتخب شدہ دو تین ممبروں کی آوازنقار خانے میں طوطے کی آواز بن کر رہ جاتی ہے اور شاذ و نادر ہی لوک سبھا ممبران ایوان میں اپنی بات منوانا تو دور اسے سامنے لانے میں بھی شاذ ونادر کامیاب ہوتے ہیں۔
وادی کے زمینی حالات الیکشن کے پس منظر میں جموں اور لداخ سے نہ صرف حساس بلکہ مشکل ترین ہیں ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت اور الیکشن مخالف پارٹیوں نے پارلیمانی انتخابات میں لوگوں کو بائیکاٹ کرنے کی کال دے دی ہے۔ حالانکہ حریت اور دیگرمزاحمتی لیڈر اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد الیکشن سے پہلے ہی جیلوں اور پولیس تھانوں میں پابند سلاسل ہیںاور کئی ایک اپنے ہی گھروں میں نظر بند کردئے گئے ہیں۔ وادی میں الیکشن کے تعلق سے زمینی حالات اس قدر حساس اور نازک بنے ہوئے ہیں کہ جنوبی کشمیر کی لوک سبھا نشست کے لئے شیڈول کے مطابق تین مرحلوں میں ووٹنگ ہو گی۔ اس اہتمام سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہو تا ہے کشمیر میں الیکشن کا انعقاد سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے کس قدر دردسر بنا ہواہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں ریاست کی چھ سیٹوں میں کشمیر کی تین سیٹیوں پر پی ڈی پی اور جموں ولداخ کی تین سیٹوں پر بی جے پی کو کا میابی حا صل ہوئی تھی ، سرینگر بڈگام سیٹ پر پی ڈی پی لیڈر طارق حمید قرہ 42,280 کے مارجن سے کا میاب قرار پائے تھے ، جب کہ بارہمولہ سیٹ پر مظفر حسین بیگ اور اسلام آباد(اننت ناگ) سیٹ پر محبوبہ مفتی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ جولائی 2016ء کو حزب کمانڈر برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد برپا ہونے والی عوامی مزاحمتی تحریک میں شہری ہلاکتوں پر بطور احتجاج طارق حمید قرہ پارلیمنٹ ممبر کے عہدے اور پی ڈی پی کی بنیادی رُکنیت سے مستعفی ہوکر بعدازاں کانگریس میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے بعد 2017ء میں پارلیمانی نشست کے حلقۂ انتخاب سرینگر کے لئے ضمنی چناؤ کرائے گئے جن میں شرح ووٹنگ محض سات فیصد رہی۔ الیکشن کے دن پولیس اور فورسز کی فائرنگ سے کئی معصوم شہری ہلاک ہوئے اور فاروق احمد ڈار نامی ایک شہری کو بیروہ گاؤں میں ووٹ ڈالنے کے بعدآرمی نے فوجی جپسی کے ساتھ باندھ لوگوں کو خوف زدہ کرنے کے لئے کئی علاقوں میں نمائشی طو گھمایا۔ اس پر کشمیر کے اندراور بیرون ِ کشمیر نئی دلی کے خلاف رائے عامہ برہم ہو ا۔انہی ناگفتہ بہ حالات میں اور برائے نام شرح ووٹنگ کے چلتے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کوپارلیمانی حلقہ انتخاب سرینگر بڈگام کے لئے کامیاب قراردپائے۔ 2015ء میں ریاست میں مفتی سعید کی قیادت میں پی ڈی پی بھاجپا مخلوط حکومت قائم کی گئی ۔چونکہ محبوبہ مفتی پارلیمنٹ کے لئے حلقہ انتخاب اسلام آبا د (اننت ناگ) سے منتخب ہوئی تھیں اوراپنے والد مفتی سعید کی وفات کے بعد مخلوط حکومت میں وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے سا تھ ہی پارلیمانی نشست سے انہیں مستعفی ہو ناپڑا ۔ اس کے بعد2016 ء کے پس منظرمیں جنوبی کشمیر میں الیکشن کے لئے حالات نا موافق ہونے کی بناء پر آج تک پارلیمانی حلقہ اننت ناگ خالی رہی ۔آج کی تاریخ میں بھی یہاں حالات بالکل نامساعد ہیں، آئے روز فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین معرکہ آرائیوں میں ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں۔ایک طرف پُرتشدد واقعات ، گرفتاریاں اور ہلاکتیں معمول بنا ہواہے ، دوسری طرف الیکشن کا انعقاد کیا جارہاہے، ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں لوگ مخمصے میں ہیں کہ کون سی راہ اختیار کر یں۔ بہرصورت الیکشن کا انعقاد کر نے کے ساتھ ساتھ گورنر انتظامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں کے جان و مال کی ہر حال میں حفاظت یقینی بنائی جائے ۔ پولیس اور دیگر فورسز ایجنسیوںکو اس حوالے سے وادی بھر میں عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہو گا، با لخصوص الیکشن عمل کے دوران یہاں کے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جانا چاہئے ۔ کسی ریاست میں الیکشن کا انعقاد بنیادی طور مفاد عامہ میں ہوتا ہے یعنی پانی بجلی نالی سڑک کے
لئے اسے عمل میں لایا جاتا ہے،اس لئے طر فین کو چاہیے کہ اس عمل سے کوئی اور چیز مراد نہ لیں ۔ 2019ء پارلیمانی انتخابات کے نتائج جو کچھ بھی ہوں لیکن یہ بات حتی المقدور یقینی بنائی جائے کہ اس عمل کے دوران خون خرابہ کے امکانات معدوم ہو جائیں۔ اس بیک گراؤنڈ میںانتظامیہ، پولیس اور فورسزکی اہم ترین مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ عوام کے ساتھ ڈیل کر تے وقت وہ بیک بینی ودوگوش صبر وتحمل کادامن کسی حال مین نہ چھوڑیں تاکہ کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما ہو کر مر نے مارنے کا نیا سلسلہ شروع نہ ہو ۔ ����