تہران// ایران کی اعلیٰ ترین سکیورٹی کونسل نے امریکی فیصلے کے رد عمل میں امریکی فوج کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے، امریکا نے گزشتہ روز پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی سرکاری ٹیلی وڑن کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل کونسل نے امریکی ملٹری فورسز کو ایک دہشت گرد تنظیم اور امریکا کو دہشت گردی اسپانسر کرنے والی ریاست قرار دیا ہے۔ ایرانی سپریم نیشنل کونسل کی جانب سے جاری کردہ اعلانیے میں کہا گیا ہے امریکا دہشت گردی کا اسپانسر کرتا ہے اور خطے میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے یہ اقدام واشنگٹن کے غیر قانونی اور احمقانہ فیصلے کیردعمل میں اٹھایا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ امریکا نے یہ فیصلہ اسرائیل مین نیتن یاہو کو سپورٹ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتین یاہو نے ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ عرب ملک بحرین نے بھی امریکی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی شہریوں پر پاسداران انقلاب کے ساتھ کاروبار کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے پاسداران انقلاب ریاستی آلہ کار کے طور پر دہشت گردی کے فروغ میں فعال کردار ادا کررہی ہے، پہلی بار امریکا نے کسی دوسرے ملک کے ریاستی ادارے کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے دہشت گردانہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاسداران انقلاب کو شام، لبنان، یمن اور لیبیا میں استعمال کیا جس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اسلامی پاسداران انقلاب کی بنیاد 1979 میں رکھی گئی تھی جس کا مقصد دشمنان اسلام سے لڑنا اور انقلابی رہنماؤں کی سیکیورٹی تھا اور اب بھی روایتی فوجی یونٹ کے بجائے سیکیورٹی کی ذمہ داری پاسدران انقلاب کی ہے۔ ایرانی صدر نے ایک مرتبہ پھر سوالات اٹھائے کہ ’آج کون پروپیگنڈا اور دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے، کون داعش کو بطور آلہ استعمال کررہاہے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’امریکا دہشت گرد تنظیموں کے رہنماؤں کو پناہ دے رہا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکا نے ہی داعش کے سربراہ کو پوشیدہ رکھا اور اب تو مقامی حکومتوں کو بھی داعش کے سربراہ سے متعلق معلومات دینے پر آمادہ نہیں ہے‘۔ حسن روحانی نے کہا کہ ’امریکا نے جولائی 1988 میں اپنی نیول شپ یو ایس ایس کے میزائل سے ایرانی مسافر بردار طیارے 655 کو نشانہ بنایا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکا نے ہر وہ قدم اٹھایا جو کی توقع کی جا سکتی تھی، خلیج فارس کے سمندر سے مسافر بردار طیارے کو کس فورسز نے نشانہ بنایا‘۔ ایرانی صدر نے کہا ’امریکا کے اقدامات محض ایران کو دھمکانے کے لیے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکا، ایرانی قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ ان کے نزدیک کوئی ریڈ لائن نہیں اور بچوں اور خواتین کو بھی قتل کرسکتے ہیں‘۔