کولمبو// سری لنکا کے صدر متھری پالا سریسینا نے ایسٹر دھماکوں کے حوالے سے ممکنہ انٹیلی جنس اطلاعات پر غفلت برتنے پر سیکریٹری دفاع اور پولیس چیف سے استفعیٰ مانگ لیا۔ رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے صدر متھری پالا سریسینا نے ایک روز قبل ٹی وی خطاب میں واضح کیا تھا کہ انہوں نے 24 گھنٹوں کے اندر اندر دفاعی فورسز کے سربراہان کو ہٹانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کولمبو میں بم دھماکوں میں 350 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی تاہم حکام کی جانب سے ان کے ملوث ہونے پر تذبذب کا اظہار کیا گیا تھا۔ سری لنکن حکام کا کہنا تھا کہ حملوں کے لیے غیرملکی دہشت گردوں کی جانب سے مالی اور دیگر تعاون حاصل تھا۔ سری لنکا کے نائب وزیردفاع نے کہا کہ حملہ آور انتہائی پڑھے لکھے اور اچھے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے تھے۔ رووان ویجیاردھنے کا کہنا تھا کہ 'وہ تعلیم یافتہ تھے جن میں سے ایک کے پاس قانون کی ڈگری تھی اور دیگر نے برطانیہ اور آسٹریلیا سے تعلیم حاصل کی تھی'۔ انہوں نے ملک کی سیکیورٹی کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسٹر دھماکوں سیقبل چند انٹیلی جنس یونٹس کے پاس ممکنہ اطلاعات تھیں۔ امریکی سفیر علینا ٹیپلیٹز نے صحافیوں کو بتایا کہ 'یہ واضح ہے کہ نظام میں ناکامی ہے ۔