جموں//مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خبر دار کیا ہے کہ وادی کشمیر میں کانگریس ،این سی ،پی ڈی پی انتخابی مہم کے دوران خطر ناک علحیدگی سیاست کھیل رہے ہیں۔ ایک پریس بیان کے مطابق ڈاکٹر جتیندر یہاں اتوار کے روز متعدد وفود سے بات کر رہے تھے ،جو ان سے ملاقات کرنے کیلئے آئے تھے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران وادی کشمیر میں ایک خطر ناک کھیل کھیلی جاتی ہے ،جس کا کافی وقت تک اثر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں جیسے کہ پی ڈی پی ،جو کہ ہیلنگ ٹچ کی باتیں کرتے ہیں ،خو بھی کشمیریوں میں الیکشن کی خاطر گہرے زخم دینے کی قصور وار ہے۔ڈاکٹر جتیندر نے این سی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی تین دہائیوں تک اقتدار میں رہی ،جس دوران پارٹی نے آئین ہند کے متعدددفعہ جات جموں و کشمیر میں آسانی سے لاگو کر دئے لیکن اب یہی پارٹی جوان سال کشمیری ووٹروں کے ذہنوں میں 1953 سے قبل کی باتیں کرتے ہوئے علحیدگی پسندی کے بیج بوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی یاد داشت اتنی کمزور نہیں ہے کہ وہ یہ بھول گئے ہیں کہ اٹل بہاری واجپائی نے پہلی ہی نظر میں فاروق عبداللہ سرکار کی جانب سے بھیجے گئے خود مختاری قرار داد کو مسترد کیا تھا ، تاہم والد بطور وزیر اعلیٰ برقرار رہے اور بیٹا مرکزی سرکار میں وزیر مملکت برقرار رہا اور مرکزی سرکا رکی جانب سے قرار داد مسترد کرنے پر خاموش رہے اور اب انتخابات کے دوران بطور اپوزیشن پارٹی اپنا نظریہ بدلا ہے۔انہوں نے کانگریس پارٹی کی لیڈر شپ پر وضاحت کرنے کو کہا کہ وہ اپنی اتحادیوں کے موقف کی حمایت کرکے بطور ایک قومی پارٹی کا دعویٰ کر سکتی ہے۔انہوں نے وادی کشمیر میں کانگریس کی جانب سے نیم۔علحیدگی نعروں کو بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔وفود میں کٹرہ میونسپل کمیٹی کے نائب صدر اجے بورو کی قیادت میں کٹرہ کے مکینوں کا وفد بھی شامل تھے۔جنھوں نے ٹول پلازہ کا مدعا اُٹھایا ۔وزیر نے وفدع کو بتایا کہ انھوں نے پہلے ہی یہ مدعا ریاست کے چیف سیکرٹری کے ساتھ اُٹھایا ہے۔