کشمیر کا رُواں رُواں درد سے کراہ رہا ہے، مائیں اپنے جگرپاروں کی یاد میں گھلی جارہی ہیں، بیٹوںکو کندھا دینے والے باپ مرجھا رہے ہیں، محبوس کشمیریوں کے لواحقین در در بھٹک رہے ہیں، اور پولیس کے تعاقب کا شکار نوجوان تذبذب میں ہیں کہ وہ کون سا راستہ اختیار کریں۔ کشمیر کی صورتحال کا یہ نیوکلیس ہے۔ حاشیہ پر ایک ریاست ہے، جسکا گورنر اپنے مشیروں کے ہمراہ دورے کررہا ہے، افتتاحی تقاریب سے خطاب کررہا ہے ،اسی بیچ انتخابات ہورہے ہیں، دس فی صد سے بھی کم شرح ووٹنگ کو جمہوریت کا جشن کہا جاتا ہے۔ اِن ہی دس فی صد کو رجھانے کے لئے یہاں کی روایتی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نئے نئے لہجے اپنا کر ووٹ بٹورنے میں مصروف ہیں۔ عام آدمی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کہیں نریندر مودی، رام مادھو اور امت شاہ این سی اور پی ڈی پی کے لئے بالواسطہ انتخابی مہم تو نہیں چلارہے۔ وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ ایک ارب تیس کروڑ لوگوں کا وزیراعظم ہر جلسے میں محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو آڑے ہاتھوں لے رہا ہے۔
اُدھر مودی اور اُن کی ٹیم بار بار دفعہ 370اور دفعہ 35Aکو ہٹانے کی باتیں کررہے ہیں، اور اِدھر اس کے مقابلے میں عمرعبداللہ صدر ریاست اور وزیراعظم کا عہدہ بحال کرنے کا وعدہ کرتے ہیں جبکہ محبوبہ کہتی ہیں کہ ان دفعات کے ساتھ چھیڑا گیا تو ریاست آزاد ہوجائے گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بھاجپا کے انتخابی منشور میں شامل تھا کہ انہیں اقتدار ملا تو ریاست کی بچی کھچی اٹانومی کو ختم کرکے کشمیر کو آئینی طور ملک کے وفاقی نظام میں ضم کیا جائے گا، پانچ سال گزر گئے لیکن ایسا ہو نہیں پایا۔ اب چونکہ ملک بھر میں انتخابات ہیں اور بھاجپا اپنے برانڈ کا سارا نیشنلزم محبوبہ اور عمر کے نیم علیحدگی پسندانہ بیانات پر اُستوار کررہی ہے۔
انتخابات کے سابقہ مراحل کا جو پیٹرن رہا اس کو دیکھتے ہوئے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ چاہے مٹھی بھر لوگ ہی ووٹ کیوں نہ ڈالیں، انہیں یہ باور کرایا جارہا ہے کہ ایک نہایت خطرناک لہر آرہی ہے جسے محبوبہ یا عمر ہی روک سکتے ہیں۔اُس لہر کی خطرناکی کو مودی اور اُن کی ٹیم کے مقرر بیانات روزبروز بقدر ضرورت تقویت دے رہے ہیں۔پلوامہ اور شوپیان میں انتخابات سے قبل کرنے کی باتیں یہ تھیں کہ یہ دھرپکڑ کس لئے، جن لوگوں کے مسکن جھڑپوں کے دوران بارود سے اُجاڑے گئے انہیں معاوضہ کون دے گا، جن معصوموں کی جانیں لی گئیں، ان کے قاتلوں کو سزا کون دے گا، جن کم سنوں کا پولیس تعاقب کررہی ہے انہیں احساس تحفظ دے کر موت کے راستے پر چلنے سے کون اور کس طرح روک پائے گا۔ لیکن این سی اور پی ڈی پی ان حساس ترین اضلاع میں ووٹ بٹورنے کے لئے سطحی ہمدردی اور لفاظیت سے کام لے رہے ہیں۔ محبوبہ مودی کو للکارنے کی جرأت کا مظاہرہ کررہی ہیں اور عمر کہتے ہیں کہ انہیں احساس ہے کہ پلوامہ اور شوپیان کے لوگ کن المیوں اور ہولناکیوں سے گزرے ہیں۔ جنوبی کشمیرکی ستم رسیدہ آبادی اس قدر معصوم اور سادہ لوح بھی ہے کہ چند فی صد ہی صحیح ، لوگ اس نیت کے ساتھ ووٹ ڈال رہے ہیں کہ مودی،راجناتھ اور امت شاہ کی دھمکیوں کا جواب صرف اور صرف عمر یا محبوبہ کے پاس ہے۔ حالانکہ دنیا میں ایسے انتخابات کی مثال نہیں ہوگی جو لاکھوں افواج اور فورسز کی بندوقوں کے سائے میں منعقد ہوں، اُمیدوار انتخابی مہم نہ چلاسکیں ، ووٹنگ کے روز سناٹا ہو، پولنگ مراکز سنسان ہوں اور اِکا دُکا لوگ اُنگلی نیلی کرکے گھر کو چل دیں۔لیکن پھر بھی آزمودہ کھلاڑیوں کو نہایت چالاکی سے ایک اور موقع دیا جارہا ہے۔ بعض لوگ تو دبی زبان میں یہ بھی پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سب میچ فکسنگ ہے؟
مزاحمتی قیادت نے بائیکاٹ کی اپیل نہایت پھیکے انداز میں کی تھی۔ کشمیری قوم تاریخ کے ایسے دوراہے پر ہے جہاں معمولی چوک سفر طویل کرسکتی ہے۔ جمہوری عمل سے بیزاری عالمی سطح پر بیزاری کا سبب بنتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ انتخابات میں جہاں پارٹیوں کے نشان ہوتے ہیں وہیں None Of The Above یا NOTAکا بٹن بھی ہوتا ہے۔ انتخابی عمل کو اس قدر تحریک مخالف بنا دیا گیا ہے کہ کسی خداکے بندے کے دماغ میں یہ خیال تک نہیں آیا کہ روایتی سیاسی سٹرکچر کو’’ نوٹا‘‘کے ذریعہ اُکھاڑ پھینکنے کا یہ سنہری موقع ہے۔ اگر واقعی عبداللہ اور مفتی خانوادوں نے کشمیریوں کا وقار بیچ کھاکر اقتدار کے مزے لوٹے ہیں تو نرے بائیکاٹ سے اُن کا کچھ نہیں بگڑے گا، بلکہ انہیں اپنی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب تجارتی انجمنیں ہیں، جو صرف ٹرک بلاکیڈ اور ہائی وے پابندیوں پر واویلا کرتی ہیں۔ دلی میں یہ بیانیہ تقویت پارہا ہے کہ سات دہائیوں سے کشمیر پر دلی کی مالی عنایات ہورہی ہیں۔ چیمبر آف کامرس اور دوسرے متعلقین کو حقائق کی روشنی میں دنیا کو بتا دینا چاہیے کہ جموں کشمیر بھارت کی چند ریاستوں میں ہے جہاں ٹیکس چوری کی شرح تقریباً صفرہے، ہمارے یہاں کے قدرتی وسائل کا سارا فائدہ مرکز کو جارہا ہے،این ایچ پی سی، انڈین آئیل اور بھارت پیٹرولیم کی آمدن میں جموں کشمیر کا خاطر خواہ حصہ ہے۔ جو بھی عنایات ہوئی ہیں وہ زبان کے نام پر ریزرویشن کے ذریعہ مٹھی بھر لوگوں کو اور جغرافیہ کے نام پر لداخ کودی گئی ہیں۔ اب اگر بھاجپا ملک کو یہ بتارہی ہے کہ کشمیریوں سے بدلہ لینا ہے،ان کا قافیہ تنگ کرنا ہے تو انصاف کے کس تقاضے کے تحت؟ تاجر برادری کو حریت ٹائپ سیاست کرنے کی بجائے اعدادوشمار اور حقائق کی روشنی میں دلی اور ممبئی جاکر یہ باتیں کرنی ہیں۔ورنہ اُن کا ردعمل بھی عام آدمی کی نظر میں میچ فکسنگ ہی لگے گا۔
ہفت روزہ ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر
�������