کوالالمپور//خبررساں ایجنسی رائٹر کے دوصحافیوں کو یانگون کے مضافات میں 500دنوں تک جیل میں بندرکھنے کے بعد منگل کو رہا کردیا گیا۔ ان پر سرکاری راز داری سے متعلق قانون توڑنے کاالزام تھا۔33سالہ والون اور 29سالہ کیاوسو او کو صدر کی طرف سے معافی دیے جانے کے بعد رہا کیا گیا۔ انھیں ایک ایسے معاملہ میں ستمبر میں قصوروارقراردیکر سات سال جیل کی سزاسنائی گئی تھی ،جس نے میانمار کی جمہوریت کی طرف پیش رفت پر سوال اٹھائے اور سفارکاروں اور حقوق انسانی کے حامیوں نے آوازبلند کی ۔والون نے یانگون میں انسین جیل کے باہر کہا،‘‘ میں ایک صحافی ہوں اور مین اپنا کام جاری رکھونگا۔"انھوں نے مزید کہا‘‘ میں اپنی فیملی اور اپنے ساتھیوں سے ملکر انتہائی خوش پرجوش ہوں ۔میں اپنے نیوزروم جانے کا اور انتظار نہیں کرسکتا۔رپورٹ کے مطابق ان صحافیوں کو دیگر ہزاروں قیدیوں کے ساتھ رہاکیاگیاہے ۔یہ اجتماعی معافی کاحصہ ہے جو ہرسال میانمار کے سال نو کے موقع پر دی جاتی ہے ۔رائٹر کے ایڈیٹر ان چیف اسٹیفن جے ایڈلر نے کہاکہ یہ صحافی پریس کی آزادی کی علامت بن گئے تھے ۔انھیں اپنی رپورٹنگ کے لیے گزشتہ ماہ اہمیت کے حامل پلتزر انعام سے بھی نوازا گیاتھا۔ایلڈر نے مزیدکہا،‘‘ ہمیں اس بات پر بے حد خوشی ہے کہ میانمار نے ہمارے بہادر صحافیوں کورہاکردیاہے ۔"یواین آئی ۔