سری لنکاآج گئے مہینہ بھرپہلے ایک دہشت گردانہ حملے کا شکار ہوا ۔سال رواں کے اپریل مہینے کی 21تاریخ کے روز جب کہ ایتوار کے دن مسیح برادری کے لوگ گرجا گھروں میںایسٹر کے مقدس تہوار پہ پادریوں کے خطبات سن رہے تھے تو کئی گرجا گھردہشت گردانہ حملے کا شکار ہوئے ۔کولمبو، نگامبو اور بٹیکا کولا جیسے متفرق شہروں میں گرجا گھروں کے علاوہ کئی ہوٹلوں میں بمب دھماکے ہوئے جن میں متعدد افراد جان عزیز سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ اِن میں سری لنکا کے شہریوں کے علاوہ خارجی افراد بھی شامل تھے۔ سر ی لنکا ایک جزیرہ ہے اور یہاں کثرت سے سیاح سمندر کنارے کی تفریح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اگر چہ اس دلدوز واقع میں مرنے والوں کی تعداد پہلے کافی زیادہ بتائی گئی لیکن پھر ایک دقیق جائزے میں 250 سے کچھ بیشتر افراد کا ذکر ہوا ۔جانی زیاں کی اس تعداد کے علاوہ کم و بیش500 افراد مجروح ہوئے ۔ ابتدائی اطلاعات میں یہی سننے کو ملا کہ ایک اسلامی تنظیم نیشنل توحید جماعت (National Thowheeth Jama'ath:NTJ) ان بم دھماکوں میں مبینہ طورملوث ہے۔ ان اطلاعات کے بعد آئی ایس (IS) نے اِس وحشت ناک حملے کی ذمہ واری قبول کی۔ آیا نیشنل توحید جماعت آئی ایس کا سر ی لنکائی چہرہ ہے یا نہیں ،اس بارے میں قیاس آرائیں ہو رہی ہیں۔ سر ی لنکا کے بم دھماکوں کی تجزیہ کاری سے پہلے بہتر یہی رہے گا کہ آئی ایس کے بارے میں جانکاری حاصل ہو تاکہ اس تنظیم کے سر ی لنکا پہ پڑنے والے ممکنہ اثرات کا بہتر جائزہ لیا جا سکے۔
ابو بکر البغدادی جو کہ آئی ایس کے سر براہ بتائے جاتے ہیں، کئی سالوں کے بعد کچھ دنوں پہلے منظر عام پہ آئے اور ایک ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ سری لنکا میں جو سانحہ پیش آیا وہ نیوزی لینڈ میں مسجد حملے کے بدلے کی کارروائی تھی۔ آئی ایس یا داعش یہ کب ،کیسے اور کن محرکات سے معرض وجود میں آئی، یہ ابھی بھی ایک معمہ بنا ہوا ہے ۔جس سرعت سے یہ تنظیم مغربی ایشیا میں وجود میں آئی اتنی جلدی اتنی بڑی جنگی تنظیم کا معرض وجود میں آنا تعجب کی بات ہے۔آج تک کئی جانکار حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اتنی سرعت سے اتنی بڑی جنگی تنظیم کا وجود میں آنا اِس کے پس پشت کسی بڑی طاقت کے ہاتھ کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے یہ ایک وسیع تحقیق کا طالب ہے جو آج تک نہیں ہوئی ہے۔ آج تک مختلف اندازے لگائے جا رہے ہیں لیکن کوئی متفقہ رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ جس سرعت سے اس چھاپہ مار تنظیم نے عراق و شام کے وسیع علاقوں پہ قبضہ کر لیا وہ واقعی تعجب انگیز تھا ۔عراق و شام کی وسیع اراضی پہ قابض ہونے کے دوران اس تنظیم نے اپنی شدت پسندی میں کئی تاریخی مقامات کو مسمار کیا جس پہ کافی تنقید ہوئی۔ عراق و شام کی وسیع اراضی پہ قابض ہونے کے بعد یہ تنظیم اسلامک سٹیٹ آف عراق و سیریا (Islamic State of Iraq & Syria: ISIS) کہلائی۔شام لغت فر نگ میں سیریا کہلاتا ہے۔ اپنی اراضی کھونے کے بعد عراقی اور شامی حکومتیں از سر نو منظم ہوئیں اور کئی خارجی طاقتیں بھی درمیان میں آ گئیں جس سے جنگی سیاست کا پانسہ پلٹ گیا اور (ISIS)صرف آئی ایس (IS) میں سمٹ گئی لیکن کہیں نہ کہیں یہ تنظیم اپنا سر اٹھانے میں مشغول نظر آتی ہے۔
اسلامک سٹیٹ آف عراق و سیریا (ISIS) کا ایک مشرقی روپ بھی ہے جو اسلامک سٹیٹ آف خراسان کہلاتا ہے۔ خراسان اگر چہ ایران کا شمال مشرقی صوبہ ہے لیکن اُس کی ایک قدیمی تاریخی پہچان بھی ہے جو تاریخ اسلام سے وابستہ ہے۔ یہ کئی صدیوں تک اسلامی خلافت کا ایک صوبہ بنا رہا جس میں افغانستان ،ایشائی مرکزی کے کچھ حصے اور جنوبی ایشیا یعنی ہندوستان کے کچھ حصے بھی شامل تھے جو کبھی نہ کبھی خلافت اسلامیہ میں شامل ہوئے جن میں صوبہ سندھ کا نام لیا جا سکتا ہے۔ تاریخ اسلام کی پیروی میں آئی ایس (IS)کی فکر و نظر میں خراساں کا وہی تصور ہے جو تاریخ سے وابستہ ہے۔ یہ تصور افغانستان اور جنوبی ایشیا کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے وہاں آئی ایس نے شمال میں اپنے قدم جما لئے ہیں اور یہ تنظیم افغان طالبان سے نبرد آزما ہو رہی ہے گر چہ گہرائی و گیرائی میں افغان طالبان آئی ایس کی نسبت کافی بڑی تنظیم ہے البتہ کہا جاتا ہے کہ طالبان کے کچھ ناراضی دھڑے آئے ایس میں شامل ہو گئے ہیںجس سے اس تنظیم کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ جس شک و شبہ کا اظہار مشرق وسطیٰ میں کیا گیا اُسی کا اظہار افغانستان میں بھی ہو رہا ہے۔ پچھلے سال افغانستان کے سابقہ صدر حامد کرزائی نے امریکہ پہ الزام لگایا کہ وہ آئی ایس کو شمالی افغانستان میں قدم جمانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔دیکھا جائے تو روس کا بھی یہی خیال ہے اور ایران بھی یہی کہہ رہا ہے۔ اس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ آئی ایس کو افغان طالبان کے خلاف استعمال کئے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس دعوے کوئی حقیقت ہے بھی یا نہیں اُسے صرف نظر کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ روس و ایران کو اپنے دعوے کا اس قدر یقین ہے کہ دونوں نے حالیہ برسوں میں طالبان سے پینگیں بڑھانی شروع کیں، بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک سیاسی اشتراک کی صورت اختیا ر کی ہوئی ہے۔حالیہ مہینوں میں روس میں ایک افغان کانفرنس کا اہتمام ہوا جس میں طالبان کی بھر پور شرکت رہی، البتہ اشرف غنی کی سر براہی میں افغان سرکار نے شرکت سے معذوری ظاہر کی۔روس اور ایران آئی ایس کے فروغ کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اور دونوں ہی مشرق وسطیٰ میں بھی اس تنظیم کے خلاف بر سر پیکار رہے ہیں۔ مشرق وسطی کے برعکس افغانستان میں آئی ایس کا وجود اس تنظیم کو روسی سرحدوں سے قریب تر کرتے ہوئے نگرانی کا سبب بن رہاہے اور یہی بات ایران کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔
آئی ایس کے جنوب ایشیائی اثرات کے بارے میں کئی سالوں سے خبریں آ رہی ہیں ۔اگر چہ وسیع پیمانے پہ اس تنظیم کے وجود کی جنوبی ایشیا میں کوئی ٹھوس شہادت نہیں، البتہ حالیہ برسوں میں اکثر و بیشتر یہ خبریں موصول ہوتی رہی ہیں کہ جنوب ایشیائی ممالک کے اکا دُکا شہری مشرق وسطی میں آئے ایس کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ ا ن افراد میں وہ بھی شامل رہے جو جنوب ایشیائی ممالک سے ہجرت کر کے یورپی ممالک کی شہریت اختیار کر چکے ہیں ۔برطانیہ سے خاص کر جنوبی ایشیائی مہاجروں کے بارے میں یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ وہ آئی ایس میں شامل ہو رہے ہیں،جن میں کچھ خواتین بھی شامل بتائی جا رہی ہیں۔ برطانیہ سمیت یورپی ممالک سے نکل کے آئی ایس کی صفوں میں شامل ہونا واقعی تعجب انگیز ہے چونکہ جنوبی ایشیائی افراد اقتصادی بہبودی کی تلاش میں یہاں سے ہجرت کر گئے ہیں۔یہ مہاجرت 1950ء کے دَہے میں شروع ہوئی جب کہ برطانیہ کو جنگ عظیم دوم کی تباہ کاری کے بعد باز آباد کاری کی ضرورت در پیش تھی۔لیبر فورس کی کمی کے سبب جنوبی ایشیائی افراد کو مہاجرت کا موقع میسر ہوا۔برطانیہ سے جو جنوب ایشیائی افراد آئی ایس میں شامل رہے وہ اکثر و بیشتر ابتدائی مہاجروں کی دوسری بلکہ تیسری نسل سے تعلق رکھتی ہے۔ یورپ کی تابناکی کو چھوڑ کے آئی ایس کے جہادی دستوں میں شامل ہونے کی تلاش گہری تحقیق کی طالب ہے۔ مشرق وسطیٰ میں آئی ایس کی پسپائی کے بعد یہ صورت حال کیا رخ اختیار کرتی ہے اِس بارے میں جنوب ایشیائی ممالک میں سیکورٹی ایجنسیوں کی نگرانی بڑھتی جا رہی ہے ۔سری لنکا میں وحشیانہ اُفتاد کے بعد بھارتی صوبے کیرالا میں مشکوکین پر کئی ایک چھاپے سیکورٹی ایجنسیوں کی نگرانی کو ظاہر کرتی ہے۔ جو نگرانی بھارت و سری لنکا میں پائی جاتی ہے، وہی نگرانی پاکستان میں بھی ہے ۔پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے بھی حال ہی میں عندیہ دیا ہے کہ وہ آئی ایس کی کاروئیوں کو اپنی سرحدوں کے قریب آنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
سری لنکا مذہبی و نسلی اعتبار سے تضاد کا شکار رہا ہے ۔اس جزیرہ نما ملک میں کئی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں کئی نسلیں یہاں آباد ہیں۔ نسلی اعتبار سے اور مذہبی عقیدے میں مختلف ہونے کے سبب سری لنکا کے عوام الناس میں اختلافات کو جنم اور فروغ دینے کے امکانات ماضی میں بھی رہے ہیں اور عصر حاضر بھی اِس حقیقت سے مبرا نہیں ۔ سری لنکا کی واضح اکثریت سنہلی فرقے پہ مشتمل ہے ۔ یہ آبادی کا 74.8% حصہ ہے اور سنہلیوں کی واضح اکثریت بدھ مت کے عقیدے پہ قائم ہے۔ سری لنکا کی آبادی کا 11.2% تامل نسل سے تعلق رکھتا ہے اور اُن کی اکثریت کا عقیدہ ہندو دھرم پہ مبنی ہے البتہ اِن میں کچھ مسلمان بھی پائے جاتے ہیں۔تامل نسل کے لوگوں میں دو فرقے ہیں۔ ایک فرقہ اُن تامل نسل کے لوگوں پہ مشتمل ہے جو پشتی طور پہ سری لنکا کے باشندے ہیں جبکہ ایسے بھی تامل نسل کے لوگ ہیں جو بھارت سے یہاں منتقل ہوئے ہیں۔یہ مہاجرت تب انجام پذیر ہوئی جب برطانیہ سری لنکا پہ مسلط تھا اور یہ مہاجر یہاں جاگیروں پہ کام کرنے کیلئے لائے گئے۔سری لنکا میں چائے کی کافی کاشت ہوتی ہے اور چائے کے بڑے بڑے فارم یہاں پہ فرہنگیوں نے قائم کئے تھے۔ 1948ء میں سری لنکا کی آزادی کے بعد اِن میں سے کم و بیش نصف کو بھارت واپس بھیج دیا گیا اور نصف دیگر نے سری لنکا میں دائمی سکونت اختیار کی۔ وہ تامل جو پشتی طور پہ سری لنکا کے ہی باشندے ہیں اور اُن تامل افراد میں جو بھارت سے آ کے یہاں بسے ہیں فرق کرنا مشکل ہے۔ آج گئے کم و بیش دس سال پہلے تک سری لنکا کی حکومت جو ظاہر ہے اکثر و بیشتر اکثریتی سنہلی فرقے پہ مشتمل تھی اور تامل نسل کے لوگوں کے درمیان جو شمال مشرقی علاقوں میں رہتے ہیں کئی دَہائیوں تک تناؤ کا ماحول بنا رہا۔ لبریش ٹایگرس فار تامل ایلم Liberation Tigers for Tamil Eelam :LTTE)نامی جنگجو تنظیم آزادی کی متمنی تھی (ایلم تامل زباں میں آزادی کو کہتے ہیں)۔ تامل نسل کی یہ جنگجو تنظیم سری لنکا کی فوج سے نبرد آزما رہی۔ اِس خونریز جنگ میں کچھ مدت تک بھارتی افواج نے بھی راجیو گاندھی کے دور وزارت عظمیٰ میں سری لنکا کی فوج کا ساتھ دیا۔اگر چہ بھارت نے بعد میں اِس تنازعے سے ہاتھ کھنچ لیا لیکن سری لنکا کے خود کش جنگجوؤں نے بھارتی لیڈر راجیو گاندھی کی زندگی کا ایک حملے میں خاتمہ کیا۔ انجام کار تامل جنگجوؤں کے فوجی اڈے جافنا شہر پہ سری لنکن افواج کی یلغار کامیاب رہی اور تامل جنگجو لیڈر پربھا کرن سمیت متعدد جنگجو مارے گئے۔
سنہالی اور تامل نسل کے افراد کے علاوہ جو کہ بدھ مت اور ہندو دھرم پہ اعتقاد رکھتے ہیں، سری لنکا میں دین اسلام پہ عقیدہ رکھنے والے لوگ بھی رہتے ہیں ۔ سری لنکا کی مسلم آبادی اکثر و بیشتر سنی فرقے پہ مشتمل ہے اور یہ کل آبادی کا 9.7%حصہ ہے ۔حال ہی میں مسلمین کچھ شدت پسند بودھوں کے تشدد کا شکار رہے جس سے کچھ مسلم افراد بھی رد عمل میں شدت پسند بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ کچھ مسلم جماعتوں نے سری لنکن حکام کو یہ اطلاع بھی دی کہ بودھ مت کے مہنتوں کی شدت پسندی کے کھلے پرچار سے کچھ مسلم افراد بھی مجبوراً جواباً شدت پسندی پہ اُتر آئے ہیں اور اس سلسلے میں اسلامی تنظیم نیشنل توحید جماعت (National Thowheeth Jama'ath:NTJ)کا نام لیا جانے لگا۔ہو سکتا ہے کہ اِس جماعت نے آئی ایس کا تاثر قبول کیا ہو، البتہ قطعی طور پہ ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ چونکہ ابھی اس بارے میں تحقیقات چل رہی ہے اور ابھی تک کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ بھی خبروں میں آیا کہ خود کش دستہ سری لنکا کو خاک و خوں میں ڈبونے سے پہلے مبینہ طور کشمیر بھی آیا تھا لیکن بھارتی سیکورٹی حکام نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔بودھ مت،ہندومت اور دین اسلام کے ماننے والوں کے علاوہ سری لنکا میں 7.4% مسیحی افراد بھی ہیں لیکن آج تک سری لنکا میں مسیحوں و مسلمین میں ایسا کوئی تضاد سامنے نہیں آیا جسے گرجا گھروں پہ تشدد آمیز حملوں سے نسبت دی جا سکے، چناچہ یہی حالیہ خون آشام حملے سے مبصرین نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ محرکات خارجی ہیں۔
حقیقت جو بھی ہو ظاہر ہے مشکل صورت حال سے نبٹنے کیلئے سری لنکا سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں فرقہ وارانہ امن وشانتی کو قائم رکھنے اور حل طلب مسائل سے نبٹنے کی اشد ضرورت ہے۔ فرقہ وارانہ بد امنی اور مسائل کے لائنحل رہنے سے شدت پسند تنظیموں کیلئے زمیں ہموار بن جاتی ہے ۔جس صورت حال کا شکار مشرق وسطیٰ رہا ہے وہ جنوبی ایشیا میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔مسائل سے نبٹنے کیلئے جنوب ایشیائی تنظیم سارک کو فعال بنانے اور سیکورٹی ایجنسیوں کے مابین اطلاعات کے تبادلے کی اشد ضرورت کا احساس تو کیا جا رہا ہے لیکن اس سلسلے میں مثبت اقدامات نا پیدا ہیں ۔اس لا اُبالی پن سے خطے میں خدانخواستہ صورت حال پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہو سکتی ہے۔
:Feedback on: [email protected]