اس وقت عالم انسانی کا سب سے بڑا مسئلہ عدم برداشت ہے جوتقریباً ہر قوم ، ہر ملک ، ہر مذہب اور ہر سماج کو بری طرح سے اپنی پلیٹ میں لے چکا ہے ۔عدم برداشت کی اس عالمی بیماری نے ہی دنیا کو فسادات اور قتل وغارت کا جہنم بنا کر رکھ دیا ہے ۔اکیسویں صدی کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے عروج کے دور میں عدم برداشت کی یہ نفسیات کیوں پیدا ہوئی اورکیسے مقبول عام بھی ہوئی اس پر دنیا بھر کے دانشور حیران ہیں ۔ کیا اس کی جڑیں تاریخ کی ان خونریزیوں سے سیراب ہوکر تناور ہوئیں جو تہذیبی ٹکراو سے دوسری جنگ عظیم تک مسلسل جاری رہیں ؟۔کیا طاقتور قوموں نے مختلف ملکوں اور قوموں کو سازشوں اور جارحیت سے کمزور اور پامال کرکے ردعمل کی یہ نفسیات پیدا کی ۔یا کئی قوموں نے صدیوں کے عروج کے بعد زوال سے دوچار ہونے کے سانحوں سے بپھر کر دوبارہ عروج حاصل کرنے کی تمنا میں یہ راستہ اختیار کیا ۔ ان سوالوں جواب حاصل کرنے کی بہت کم کوششیں کی جارہی ہیں اور ساری توجہ اور سارا زور اس بات پر صرف ہورہا ہے کہ عدم برداشت کے اس طوفان کو کس طرح سے کچلا جائے ۔ یہ بھی ایک طرح سے عدم برداشت کے مقابلے میں عدم برداشت کا ہی جواب ہے جو سرکاری سطح پر دیا جارہا ہے اور اس نے عدم برداشت کو قبولیت عام بحش دیا ہے ۔اس طرح عدم برداشت موجودہ دور کے انسانوں کی تہذیب کا حصہ بن چکا ہے ۔افغانستان ، عراق اور لیباء میں امریکی فوجوںکی جارحیت اور نیوزی لینڈ کی مساجد میں خونریز حملوں سے سری لنکا کے ایسٹر حملوں تک حیوانیت کا ننگا ناچ اس دنیا کو آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا کرچکا ہے ۔ کبھی بھی یہ آتش فشاں پھٹ کر دنیا کے خاتمے کا بھی باعث بن سکتا ہے ۔
سرد جنگ کا طویل دور بڑی طاقتوں کے درمیان ٹکراو کا دور تھا ۔چھوٹی قومیں اور چھوٹے ملک ان طاقتو ں کی حلیف بن کر اپنے غصے اور اشتعال کے بوجھ کو اتارا کرتے تھے اور فتح کی امید سے اطمینان بھی حاصل کرتے تھے ۔سرد جنگ کے خاتمے نے غصے اور اشتعال کے بہاد کے راستے بندکردئیے اور امیدوں کی شمعیں بھی بجھادیں ۔اشتعال اور ناامیدی سے غیر سرکاری قوتوں کا جنم بھی ہوا اور ان کا عروج بھی۔اسرائیلی جارحیت نے غیر سرکاری مسلح قوت کی صورت میں تنظیم آزادی فلسطین کوجنم دیا ۔ سوویت یونین کی جارحیت نے افغان ملی ٹنسی پیدا کردی اور اس میں مذہبی سوچ اور نظریات کو منظم طور پر استعمال کرنے میں امریکہ نے سب سے اہم کردار ادا کیا ۔سوویت یونین کے خاتمے نے ملی ٹنسی میں فتح مندی کا احسان پیدا کیا اور یہ سوچ بھی اسی کے ساتھ پنپنے لگی کہ غیر سرکاری ملی ٹنسی عظیم قوتوں کو بھی شکست سے دوچار کرسکتی ہے اس سوچ نے ملی ٹنسی کے عالمی عروج کی راہیں ہموار کردیں اور اس نئی قوت کا حدف اس کے بعد عرب مطلق العنانیت جس کی سرپرستی امریکہ کررہا تھا بنا اور نتیجے کے طور پر امریکہ بھی دشمنوں میں شامل ہوا اور جب امریکہ کیخلاف اندوہناک حملے ہوئے تو اس نے اپنی فوجوں کو مسلم دنیا کے کئی ملکوں جو ملی ٹنسی کی حمایت کررہے تھے کو تاراج کرنے کا بیڑا ٹھالیا ۔ صدام حسین اور کرنل قدافی اس کا شکار بنے ۔ اس کے ردعمل میں یورپ میں حملے ہوئے اس طرح سے جو صورتحال پیدا ہوئی اس نے ملی ٹنسی کو منظم اور بامقصد مسلح جدوجہد سے دور کرکے انتشار اور مقاصد کے گرداب میں پھنسادیااور رفتہ رفتہ وہ سماج جہاں ملی ٹنسی پیدا ہوئی خود ہی اس کا شکار بن گئے ۔ باہمی ٹکراو کا دور شروع ہوا جس میں عدم برداشت کی نفسیات کو فروغ حاصل ہوا چنانچہ عدم برداشت کا پھیلاو اب قوموں اورتہذیبوں کے ٹکراو تک ہی محدود نہیں رہا ہے بلکہ قوموں ، مذہبوں اور تہذیبوں کے اندر بھی داخل ہوکر سماجوں کو قتل و غارت گری کا اکھاڑہ بنا چکا ہے ۔یورپ کے اندر بھی عیسائیوں کے مختلف گروپ ایک دوسرے کیخلاف برسر پیکار ہورہے ہیں ۔ مسلمان بھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں۔اوردیگر قوموں کے اندر بھی یہ خونریزیاں انسانی زندگیوں کو جہنم بناچکی ہیں۔اس عالمی صورتحال نے ہندوستان میں سیکولر نظریات کو اکھاڑ کر آر ایس ایس کی انتہا پسندانہ سوچ کو عروج دیا ۔عالمی سطح پر اس صورتحال کا سب سے زیادہ مسلم ممالک اور مسلم سماجوں کو بری طرح سے متاثر کیا ۔یہ صورتحال کا وہ تجزیہ ہے جو معروف بھی ہے اور معتبر بھی سمجھا جاتا ہے لیکن عدم برداشت کیا سیاسی اور عسکری حالات کی پیدا کردہ نفسیات ہی ہے ۔اگر اسے ہی درست مانا جائے تو وہ نسل جس کا نہ سیاست سے کوئی سروکار ہے نہ ملی ٹنسی سے کیوں اپنے گھروں میں اپنے والدین کی بات بھی برداشت نہیں کرتی ۔ کیوں بیٹا باپ کی نصیحت کو قطعی برداشت نہیں کرتا ۔ کیوں بیوی شوہر کی بات اورشوہر بیوی کی بات برداشت نہیں کرتا ۔ کیوں ایک دوسرے کا احترام کرنے کی تہذیب جس پر مشرق کو خاص طور پر فخر تھا اب باقی نہیں رہی ہے ۔یہ صورتحال کا وہ پہلو ہے جسے عدم برداشت کے عالمی رحجان سے الگ رکھا جاتا ہے ۔کشمیر کو اپنی منفرد تہذیب پر جتنا ناز تھا اتنا شاید ہی کسی قوم کو تھا ۔ اسے کشمیریت کا نام دیا جائے یا کچھ اور لیکن یہ ایک منفرد تہذیب تھی جو رواداری اوربرداشت کی بنیاد پر کھڑی تھی ۔ آج اسی سماج میں قتل و غارت گری کا طوفان برپا ہے ۔اس تہذیب کی ساری روایتیں ملیا میٹ ہوچکی ہیں ۔ اب اس سماج میں سیاسی اورمذہبی اختلاف انسانی زندگیوں کے چراغ گل کرنے کا باعث ہورہے ہیں ۔
عدم برداشت جس کسی بھی قوم یا سماج کا حصہ بنتا ہے اس میں انسانی قدریں نابود ہوکر رہ جاتی ہیں اور اس وقت تک یہ قوم یا سماج خاک و خون میں غرق رہتا ہے جب تک نہ ایک بڑی تباہی اس کو اپنی لپیٹ میں لیکر لوگوںمیں یہ احساس پیدا نہیں کرتی کہ عدم برداشت ہی وہ رویہ ہے جو کامیابیوں کی راہیں مسدود کرتا ہے اور ناکامیوں و نامرادیوں کو مقدر بناتا ہے ۔ہر قوم اور ہر سماج افراد کا ہی مجموعہ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی اپنی ایک سوچ ہوتی ہے وہ غلط بھی ہوسکتی ہے اور صحیح بھی اور قدرت نے ہی انسان کو اس اختیار کے ساتھ آزاد چھوڑا ہے کہ وہ خود صحیح اور غلط کا انتخاب کرے اور وہ جو بھی فیصلہ کرے گا اس کے بارے میں روز حساب کو اس سے پوچھ تاچھ ہوگی۔ اللہ ہی اس کے اچھے برے عمل کے مطابق سزا اور جزا دینے والا ہے چنانچہ جو لوگ دنیا میں ہی کسی کے غلط یا صحیح ہونے کا فیصلہ اپنی صوابدید کے مطابق کرتے ہیں اور سزا اورجزا کا اختیار بھی اپنے ہی ہاتھوں میں لیتے ہیںاس طرح وہ دراصل نعوذ باللہ اللہ کاختیار اپنے ہاتھوں میں جانے انجانے لینے کا گناہ کرتے ہیں۔کشمیر کا سماج آج بے شمار سیاسی اور مذہبی گروہوں میں بٹا ہوا ہے ۔ مذہبی گروہ بھی ایک دوسرے سے غیر معمولی اختلاف رکھتے ہیں اور سیاسی گروہ بھی ۔یہ اختلاف کبھی کبھی قتل و غارت کا بھی باعث بنتے ہیں ۔ کئی بڑی مذہبی شخصیتیں بھی اس اختلاف کی بناء پر قتل ہوئی ہیں اور کئی سیاسی شخصیتیں اور ارکان بھی اس اختلاف کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں ۔یہ سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں اس بات کاامکان ہے کہ آگے چل کر یہ اختلاف بے شمار انسانی جانوں کو موت کی آغوش میں گم کردے گا ۔ہر سماج کی طرح کشمیر میں بھی اختلاف سیاسی سطح پر بھی اور مذہبی سطح پر بھی ہمیشہ سے رہا ہے لیکن ایک وقت تھا جب یہ اختلاف برداشت کی حدوں میں تھا ۔ جس وقت ڈوگرہ شاہی کے خلاف آزادی کی تحریک قوت حاصل کررہی تھی یہ اختلاف اس وقت بھی موجود تھا لیکن اس اختلاف کے باوجود بھی کوئی ایسی حرکت نہیں کی جاتی تھی جس سے اس تحریک کو کوئی زک پہونچتا بلکہ تحریک کے مفاد میں سبھی ایک دوسرے سے تعاون کرتے تھے ۔ جس کے نتیجے میں یہ تحریک ایسا عروج حاصل کرگئی کہ ڈوگرہ راج کی بنیادیں ہل گئیں ۔ ڈوگرہ اقتدار ختم ہونے کے بعد سیاسی سطح پر شیر اور بکرا اختلاف عوامی سطح پر ٹکراو کا باعث بنا ۔ مذہبی سطح پر سکیولر ازم حامی اور مخالف اختلاف اپنی جڑیں پھیلانے لگا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اختلاف وسیع تر ہوتا چلا گیااور اس میںرفتہ رفتہ شدت پیدا ہوتی رہی ۔کسی کو بھی پتہ نہیں چلا کہ کشمیر کی منفرد تہذیب ، کشمیری کا فطری برداشت اور رواداری کب اپنی موت مرگئی اوراس کی جگہ عدم برداشت کا رویہ جنم لینے لگا ۔عسکری تحریک کے بعد اس عدم برداشت نے عسکر یت مخالف عسکریت کو بھی جنم دیاجس کے نتیجے میں بہت سی جانیں گئیں ۔ عسکری تنظیموں کے آپسی ٹکراو میں بھی بہت سے قتل ہوئے ۔ سیاسی ونظریاتی اختلاف کے ساتھ ساتھ برتری کے حصول کی کوشش میں بھی لوگ موت کے گھاٹ اتارے جاتے رہے۔ قتل و غارت کے طویل دور میں بھی کسی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اس طریقہ کار کا انجام کسی کی بالادستی یا برتری کی صورت میں بھی سامنے نہیں آسکتا ہے اور نہ کسی سوچ کو ہمیشہ کے لئے نابود کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی نظرئیے کو فنا کیا جاسکتا ہے ۔ جس سوچ کو جتنا دبایا جائے اتنا ہی اس کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جتنا کچلا جاتا ہے اتنا ہی اس کا پھیلاو ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ منفی سوچ مثبت سوچ کے مقابلے میں زیادہ وسعت حاصل کرگئی ۔کشمیر میں اب ایسی سیاسی قوتیں بھی پھیل رہی ہیں جن کی موجودگی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا ۔ ان قوتوں کا نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی ان کی کوئی سوچ ہے یہ فقط وقتی مفادات کے حصول کیلئے سرگرم ہیں ۔ انہیں واجب القتل قرار دیکر قتل کیا جاتا ہے لیکن ایک قتل ایسے ہی کئی افراد کے پیدا ہونے کا باعث بنتا ہے ۔ اوردھیرے دھیرے ایک قوت وجود پاتی ہے جس کے مقابلے میں وہ قوتیں کمزور ہوتی ہیں جو انہیں موت کے گھاٹ اتارکر نیست و نابود کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔مثبت سوچ اور منفی سوچ کا فرق یہی ہوتا ہے کہ مثبت سوچ اپنی پاکیزگی اور عظمت ثابت کرتی ہے جس کے نتیجے میں دوسری قوتوں کا خود بخود خاتمہ ہوجاتا ہے ۔جو سوچ اپنے آپ کو ثابت کرنے میں ناکام ہوتی ہے اسے ثبات حاصل نہیں ہوتا ہے یہی تاریخ کا وہ سبق ہے جو ہر نسل کے لئے مشعل راہ ہوتا ہے ۔اب عالمی سطح پر عدم برداشت دنیا کی کیا حالت بنا تا ہے اس سے قطع نظر کشمیر کی کیا حالت ہوتی ہے اور اس کا مستقبل پر کونسی آفتیں نازک ہوں گی یہ فکر و تشویش کا ایک اہم معاملہ ہے جس پر کھل کر بات ہونی چاہئے تاکہ بچاو کی کوئی صورت پیدا ہو۔
ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر