للت مہاجن بڑی براہمناں انڈسٹریز ایسو سی ایشن کے صدر منتخب
جموں // بڑی براہمناں انڈسٹریز ایسو سی ایشن کا ہفتہ کے روز 2019-21 سال کی مدت کے لئے الیکشن کمشنروں سدھیر کمار، ترنجیت سنگھ ساہنی، رام لنگر، ایس ایس وزیر،اور ونود جموال کی قیادت میں انتخاب منعقد کیا گیا۔انتخاب میں کل 232موذوں ووٹروں میں سے 210 ووٹروں نے اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا۔للت مہاجن کو 2019-21 سال کی مدت کے لئے تیسری مرتبہ صدر منتخب کیا گیا ،جس نے 189 ووٹ حاصل کرکے راکیش بھٹ کو شکست دی ،جس نے 18 ووٹ حاصل کئے ،جبکہ 3ووٹ ناجائز قرار دئے گئے۔ترن سنگلہ کو سینر نائب صدر منتخب کیا گیا ،جس نے 170 ووٹ حاصل کرکے پرویندر سنگھ جگی کو شکست دی جبکہ 8 ووٹ ناجائز قراردئے گئے۔جن امیدواروں کو بلا مقابل کامیاب قرار دیا گیا ،اُن میں نائب صدراجے لنگر، جنرل سیکرٹری ویراج ملہوترہ، سیکرٹری راجیش جین،خزانچی وویک سنگھل شامل تھے۔انتخاب پر امن فضا میں منعقد کئے گئے ۔
اکھنور میں منشیات مخالف سمپوزیم کا اہتمام
جموں // محکمہ اطلاعات و عوامی تعلقات کی کلچرل ونگ نے جی ایچ ایس ڈھوک خالصہ میں ہفتہ کے روز ”منشیات مخالف “ ایک سمپوزیم کا اہتمام کیا ۔ایک بیان میں کہا گیا کہ سمپوزیم میں سکول کی نویں جماعت کی طالبہ انا میکا شرما کو بہترین مقرر قرار دیا گیا جبکہ سمپوزیم میںنویں جماعت کی کاجل دیوی اور دسویں جماعت کی شوالی شرما کو بالترتیب دوسرا اور تیسرا بہترین مقرر قرار دیا گیا ۔۔اس موقعہ پر سکول کے ہیڈ ماسٹر جوگیندر سنگھ مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے طلاب کو عوام میں منشیات کے مضر اثرات کی جانکاری پھیلانے کی تلقین کی اور محکمہ اطلاعات کی جانب سے طلاب اور مقامی لوگوں میں منشیات کے خلاف بیداری پیدا کرنے کےلئے سکول کے احاطہ میں ایسا پر وقار پروگرام منعقد کرنے کی ستائش کی۔سمپوزیم میں سکول کی08 طالبات نے شرکت کیاور منشیات کے مضر اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔بعد ازاں ، مہمان خصوصی نے شرکا میں انعامات تقسیم کئے،مقابلہ کے دوران کلدیپ سنگھ ،نرمل کماری اور پون کمار نے بطور جج اپنے فرائض انجام دئے جبکہ سریش کمار نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ اس مووقعہ پر کلچرل ونگ کے کلاکاروں اور میزبان سکول کے طالبات نے دلکش ثقافتی پروگرام اور منشیات مخالف ایک ڈرامہ بھی پیش کیا ،جس کی سامعین نے کافی سراہنا کی۔
جموں کورٹ کمپلیکس میں لوک عدالت کا اہتمام
جموں//ضلع کورٹ کمپلیکس جانی پور،جموں میں ہفتہ کے روززیر قیادت چیر مین ضلع لیگل سروسز اتھارٹی (پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج)ایک لوک عدالت کا انعقاد کیا گیا ۔ لوک عدالت میں کل 323 معاملات میں سے 250 معاملات کا نپٹارہ کیا گیا اور 84893607 روپے رقم کو حل کیا گیا ۔لوک عدالت میں چھ بینچ قائم کئے گئے،جن میں سے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جموںوی سی کول ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بینک کیسز جموں نگہت سلطانہ اور سوئم ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ٹاڈا، پوٹا حق نواز پر مشتمل پہلا بینچ تھا۔دوسرا بینچ سپیشل جج انٹی کورپشن سی بی آئی کیسزجموں موہن لعل منہاس، اور ایڈیشنل سیشن جج انٹی کورپشن جموں تسلیم عارف ،پریزائڈنگ افسر ایم اے سی ٹی جتیندر سنگھ جموال پر مشتمل تھا۔ سٹی جج جموں سریندر سنگھ ،سب۔جج جموں پون شرما اور منصف جے ایم آئی سی جموں آرتی دیوی پر تیسر ابینچ مشتمل تھا ۔سپیشل ریلوے مجسٹریٹ جموں یحیی ٰ فردوس آہنگر،سپیشل موبائیل مجسٹریٹ پی اینڈ ٹی جموں منجیت رائے اور فارسٹ مجسٹریٹ جموں پر چوتھا بینچ مشتمل تھا ،جبکہ پانچواں بینچ سیکرٹری DLSA جموں نوشاد احمد خان اور سپیشل موبائیل مجسٹریٹ دنیش گپتاپر مشتمل تھا ۔لوک عدالت کو چھٹا بینچ میونسپل مجسٹریٹ جموںمنوج پریہار اور ایڈیشنل موبائیل مجسٹریٹ جموں صلاح الدین احمد پر مشتمل تھا۔
جے اینڈ کے پردیش کانگریس نے
ڈیلی ویجروں کو فارغ کرنے کا مدعا اُٹھایا
جموں//جے اینڈ کے پردیش کانگریس کمیٹی نے مختلف کٹیگریوں کے ڈیلی وئیجروں، نیئڈ بیسڈ ورکروں ، کنٹریکچول اور کنسالڈیٹڈ و دیگ رکٹیگریوں کے ورکروں اور ملازمین کو جو 2010, سے وقت وقت پر مشغول کیا گیا تھا ،کو فارغ کرنے کا مدعا اُٹھایا ہے اور لوک سبھا انتخاب اختتام پذیرہونے کے بعد اس فیصلہ پرسوال کھڑے کئے،جب کہ انہیں بی جے پی نے باقاعدہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔سرکار کے اس حکم پر اپنے رد عمل میں پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا کہ تمام یہ ورکر کئی سالوں سے بہت ہی قلیل اجرت پر ،وہ بھی سال میں کئی وفہ کے بعد ، اور سابقہ سرکار خصوصاً بی جے پی کی جانب سے انہیں باقاعدہ بنانے کے وعدہ کے بعد انہیں فارغ کرنا باعث حیرانی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکار کو انہیں فارغ کرنے کےلئے کئی سال لگ گئے ۔اور اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اس حکم کے آڈ میں ہزاروں بیروز گار ورکروں جنھیں نئیڈ بیس پر تعینات کیا گیا تھا ،کوبغیر کسی وجہ کے بے دخل کیا جائے گا۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے یہ بات یقینی بنانے کو کہا ہے کہ اس حکم کے تحت مجاذ حکام کی جانب سے معمور کئے گئے افراد کو بے دخل نہ کیا جائے ،جو برسوں سے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ2014تک تقریباً 61000 ورکروں کو باقاعدہ بنانے کی نشاندہی کی گئی تھی لیکن اس میں وقت وقت پر تاخیر کی گئی ۔
جموں کی مسلم بستیاں انتظامیہ کے امتیازی سلوک کا شکار:شوکت چوہدری
جموں//جموں وکشمیرصاف ستھرامومنٹ نے جموں میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسلم بستیوں میں بجلی وپانی کی قلت پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے حکومت پرمسلم بستیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کاالزام عائد کیاہے۔ یہاں جاری پریس بیان میں جموں وکشمیرصاف ستھرامومنٹ کے صدر شوکت چوہدری نے کہاکہ حکومت نے رمضان سے پہلے ماہ رمضان کے دوران مسلم بستیوں میں بجلی وپانی کی سہولیات مہیاکرانے کی یقین دہانی اوروعدے کئے تھے جوبالکل کھوکھلے ثابت ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماہ رمضان میں جموں کے گردونواح کی مسلم بستیوں بشمول بٹھنڈی،سنجواں،نروال ،ریکہ ،چواہدی ،اسمائیل پور، بڑی براہمناں مسلم بستی،جانی پور،پلوڑہ ،نگروٹہ ،چنور،رانجن،جنڈیال،بیلی چرانا ، گول گجرال، وجے پورگوجربستی ،ہیرانگرگوجربستی،چھنی راما ، چھنی کمالا ،سدھرا، رگوڑہ،بجالہ ،مڑھ ،درابی،دھنوں،رابطہ،بگانی ،بمیال وغیرہ میں صبح سحری،افطاراورتراویح کے اوقات میں اکثربجلی غائب رہتی ہے ۔کئی علاقوں میں ہرپندرہ منٹ کے بعدبجلی غُل ہوجاتی ہے جوکہ افسوس کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ محکمہ سے بجلی سپلائی یقینی بنانے کامطالبہ کیالیکن وہ تسلی بخش جواب نہیں دیتے ہیں ۔شوکت چوہدری نے کہاکہ ماہ رمضان میں پانی کی قلت دورکرنے کےلئے محکمہ پی ایچ ای کوپانی کے ٹینکربھیجنے چاہیئے جیساکہ گذشتہ سالوں میں ہوتارہاہے۔انہوں نے کہاکہ پرانے ٹینکراب ناکارہ ہوچکاہے اس لیے نئے ٹینکرمہیاکروانے چاہیئےَ ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت مسلم بستیاں انتظامیہ کی عدم توجہی کاشکارہیں۔ انہوں نے کہاکہ سرکارزبانی جمع خرچی میں یقین رکھتی ہے جس کی وجہ سے زمینی سطح پرعوام مشکلا ت سے دوچارہے۔انہوں نے حکومت سے پرزورمطالبہ کیاکہ صوبائی انتظامیہ جموں کوہدایات دی جائیں کہ وہ جموں کی مسلم بستیوں میں ماہ رمضان کے دوران بجلی وپانی جیسی بنیادی سہولیات کی دستیابی کویقینی بنانے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے تاکہ لوگوں کی پریشانیاں دورہوں۔