جموں// اپنی مسلسل ہفتہ وار ادبی سرگرمیوں کے تحت گذشتہ روز غزل گلوکاری کے بادشاہ مہدی حسن کے ساتویں یومِ وفات کے موقعہ پر کثیر اللسانی معروُف ادبی تنظیم ’ادبی کُنج کے اینڈ کے‘ کی جانب سے اِس کے ادبی مرکز کِڈ ذی سکوُل تالاب تِلّو جموں میں ایک خصوُصی مترنّم ادبی نِشست کا اِنعقاد ہُوا۔ جِس کی صدارت کے فرائض تنظیم کے صدر شام طالبؔ نے سر امجام دِئے۔ جبکہ نِشست کی نظامت کے فرائض اُردوُ کے غزل گو شاعرعبدال جبار ؔبٹ نے انجام دِئے۔ نِشست کا آغاز کرتے ہوئے تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ اور صدرِ شام طالبؔنے آبروُئے غزل مہدی حسن کی حیات کے مختلف پہلوؤں پر عقیدت بھری روشنی ڈالی۔ مقرّرین نے کہا مہدی حسن اُردو غزل گلوکاری میں ایک ایسی شخصیّت تھے جِس کا مدِّ مقابل کوئی نہ ہو سکا۔ مہدی حسن نے اُردوُ غزل کو اپنی طلسماتی صدابندی کے ذریعہ دُنیائے موسیقی کو جو مقام عطا کِیا وہ رہتی دُنیا تک یاد رہے گا۔ روُح کو تازگی عطا کرنے والی اُن کی آواز زندہ جاوید رہے گی۔ مہدی حسن کا جنم18جولائی 1927ء میں راجستھان کے لوُنا علاقہ میں ہُوا تھا۔ جبکہ ایک طویٖل علالت کے بعد13 جوُن 2012ء کے روز وہ اِس جہانِ فانی سے کوُچ کر گئے۔آج اُن کو یاد کرتے ہوئے جموں کے ریڈیو ٹی وی گلوکار چمن سگوچ نے اُن کی گائی ہوئی معروُف غزل ’گُلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے‘ گا کر محفل میں وجد طاری کر دِیا۔اِسی طرح جانے مانے گلوکار وید اُپل نے بھی اُن کی گائی ایک غزل ’اب کہ بِچھڑے شائد کبھی خوابوں میں مِلیں‘ اپنی سُریلی آواز میں گا کر پیش کی۔ مہدی حسن کو اُن کی گلوکاری خدمات کے عوض میں دُنیا بھر میں متعدد اِنعامات سے نوازا گیا۔ پاکستان میں اُنھیں حلالِ اِمتیاز اور بھارت میںسہگل ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔اِس موقعہ پر ایک شعری نِشست کا بھی اہتمام ہُوا۔جِسمیں اُنھوں نے اپنی اُردوُ اورپنجابی زبان میں غزلیں پیش کیٖں۔ نِشست حِصہ لینے والے شعراء حضرات کے اِسم گرامی اِس طرح ہیں:۔ آرشؔ دلموترہ، عبدال جبّارؔ بٹ، ویدؔ اُپّل، بِشن داس خاکؔ،ایم ایس کامراؔ، چمن سگوچؔ، کے آر سلگوترہ، سنجیو کُمار اور شام طالبؔ۔ اِس تقریب کااِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔