وادیٔ کشمیر میں سبز سونے کے کٹائو کے گراف میں تیزی سے اضافہ کی وجہ سے جہاں ماہرین ما حولیات کو سخت تشویش ہو رہی،وہی جنگلات کا صفایا،سیلاب کے خطرے میں اضافہ کر رہا ہے۔ماہرین جنگلات کے مطابق جموں و کشمیر کے جنگلات جو کبھی انتہائی گھنے ہوا کرتے تھے حفاظتی تدابیر کیے جانے والے کافی اخراجات کے باوجود تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ماہرین اس کی سب سے اہم ترین وجہ مختلف شہروں کا پھیلاؤ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری وجوہات میں بدعنوانی، جنگلات میں لگنے والی آگ اور جنگلاتی منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس باعث زمین بْردگی کے عمل میں اضافہ، مٹی کے تودوں کا گرنا اور سیلاب ہے جس سے لاتعداد انسانی جانوں اور گھروں کو خطرات لاحق ہیں ۔شیر کشمیر زرعی یونیورسٹی جموں میںشعبہ جنگلات کے سابق سربراہ ایس کے گْپتا کہتے ہیں’’ سیلاب اور جنگلات کی صفائی یا کٹائی سے سیلاب کا امکان بڑھ جاتا ہے، ایک عمل دوسرے کا سبب بنتا ہے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ درخت مٹی اور پانی کے درمیان اسفنج کا کردار ادا کرتے ہیں اور یہ سیلاب کو روکنے میں بھی غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔بیرون ریاست یونیورسٹی میں سرگرم عمل محقق ڈاکٹر شبیر احمد راتھر کا کہنا ہے اس علاقے کا اب سب سے بڑا مسئلہ غذا، چارہ اور ٹمبر یا لکڑی کی بڑھتی ہوء مانگ ہے۔ محقق ڈاکٹر شبیر کے مطابق بھارت کی قومی جنگلاتی پالیسی پہاڑی علاقوں کے جنگلات کا66 فیصد برقرار رکھنے کا ہدف طے کیے ہوئے ہے۔ تاہم انڈئن اسٹیٹ آف فارسٹ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں اب 16 فیصد سے بھی کم درخت باقی رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ 2003 اور 2012 کے درمیان جنگلاتی زمین کا دیگر مقاصد کے لیے استعمال88 فیصد تک بڑھ چْکا ہے۔ادھر ایک اور محقق ڈاکٹر اعجاز ڈار کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں جنگلات زیادہ ہوتے ہیں وہاں بارشیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ڈار کا کہنا تھا’’ درخت زمین کو کٹائو سے روکتے اور سیلابی پانی کو کنٹرول کر کے تباہی سے بچاتے ہیں،جبکہ ہر ملک کے کم از کم 25سے40 فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے۔ پانی کی قدرتی دولت سے مالا مال کوہِ ہمالیہ کے دامن میں واقع جموں کشمیر میں قلت آب کے اثرات بڑھنے لگے ہیں جبکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ کشمیری علاقوں میں بڑھتے درجہ حرارت اور ہندو کش، قراقرم میں گلیشیئر کے حجم میں بتدریج کمی کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔
قدرتی طور پر پانی کی دولت سے مالا مال کشمیر میں پینے کے پانی کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے،جس کی وجہ سے شہر اور دیہات میں لوگوں کو کافی دشواریاں پیش آرہی ہے۔ماہرین کے مطابق پانی کی قلت سے متاثرہ علاقہ خاص طور پر پیر پنجال پہاڑی رینج سے کوہِ ہمالیہ کے درمیان کا حصہ خیال کیا جاتا ہے،اور یہ خاصا دشوار گزار بھی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ برسوں سے سالانہ بنیادوں پر ہونے والی متوازن بارش سے لہلہاتا رہتا ہے جب کہ دریا اور گلیشیئر کے پانی سے میدانی علاقے سیراب ہوتے تھے، لیکن اب ماحولیاتی تبدیلیوں سے بارانی علاقے بہت زیادہ متاثر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح کے اعداد شمار کو ایک طرف کرنے زمینی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو پانی کی دولت سے مالا مال اس ریاست میں پینے کے پانی کی کمی سے انگشت بہ دنداں رہ جاتی ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے محقق محمدسلطان کا کہنا ہے کہ کشمیرکے زیریں حصوں میں فضا میں پانی کے تحلیل ہونے کے عمل میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور یہ بھی موسمیاتی تغیر میں تبدیلی کا باعث ہے۔ ناروے کے محقق اندریاس کاب کی ایک تحقیق میں بھی کشمیری علاقوں میں بڑھتے درجہ حرارت اور ہندو کش، قراقرم میں گلیشیئر کے حجم میں بتدریج کمی کا بتایا گیا ہے۔ اس مناسبت سے ایک اور محقق سے معلوم ہوا ہے کہ کشمیر کے ایک اہم دریا جہلم کو گلیشیئر سے ملنے والے پانی میں بھی کمی کا سامنا ہے۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں زراعت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک مشکل کام ہوتا جا رہا ہے،کیونکہ پانی کا حصول مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔کشمیر میں 58 فیصد زرعی رقبہ بارش کا محتاج رہا ہے جبکہ42 فیصد کو نہروں، اور آبپاشی کے دوسرے ذرائع سے سیراب کیا جاتا ہے۔ موسم سرما میں بارشوں کی کمی اور برفباری نہ ہونے کی وجہ سے اب صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے،جبکہ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسم میں تغیر و تبدیلی کے باعث ایسا ہو رہا ہے۔ ماہرین ارضیات کا کہنا ہے کہ 130سالہ موسمی اعداد و شمار سے ثابت ہو تا ہے کہ جموں وکشمیر کے اوسط درجہ حرارت میں گذشتہ ایک صدی کے دوران1.2ڈگری سیلشیس اضافہ ہوا جوعالمی سطح کی اوسط0.8ڈگری سلشیس کے اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیاتی سائنس کے سربراہ پروفیسر شکیل رامشو نے موسمی تغیرات کو عالمی تپش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ’’ ارضیاتی شبانہ درجہ حرارت میں اضافے کی بدولت موسمی تغیرات کے سبب پہاڑوں پر واقع گلیشئر اور قطبی برف کی تہہ تیزی سے پگھل رہے ہیںجس کی وجہ سے برف اور بارش کی سالانہ مقدار پراثرات مرتب ہو رہے ہیں‘‘۔رامشو نے کہا کہ گذشتہ ایک صدی کے دوران جموں وکشمیر کے درجہ حرارت میں معمول کے درجہ حرارت سے 1.2ڈگری سلشیس اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی مدت کے دوران عالمی درجہ حرارت کی اوسط میں0.8ڈگری اضافہ ہوا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر کے قدرتی وسائل برف ، پانی اور بر فانی درے تیزی سے پگھل رہے ہیں۔محکمہ موسمیات کے ماہرین بھی عالمی تپش کی وجہ سے شبانہ درجہ حرارت میں اضافہ کا اعتراف کرتے ہیں تاہم ان کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر میں درجہ حرارت کی اوسط میں اتنا اضافہ ممکن نہیں ہے۔ سرینگر میں مقیم محکمہ موسمیات کے صوبائی نظام کے مطابق گذشتہ ایک صدی کے دوران عالمی درجہ حرارت میں 0.75ڈگری سلشیس اضافہ ہوا ہے جواگرچہ برائے نام ہے تاہم مستقبل میں اس کے خطر ناک نتائج برآمد ہوں گے۔وقت کاتقاضا ہے کہ ماحول کے بچاؤ کوقومی فریضہ سمجھا جائے۔ ہرکشمیری زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرے اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ گندگی اور مضر صحت مادوں کو ٹھکانے لگایا جائے۔ نیز پولی تھین لفافوں پر پابندی لگائی جائے اور تمام اہل وطن اسے مشترکہ ذمہ داری سمجھ کر ’’ماحول بچاؤ مہم‘‘ میں اپنا کردار ادا کریں۔