علم طِب (میڈیکل سائنس) کے چھوٹے سے پودے کو یونان سے لے کر اُنہوں نے اُسے شجر پْر بہاربنا دیا اور عرصہ تک دنیا اُس کی چھائوں میں سکون محسوس کرتی رہی۔ایک انگریز مصنف جان ولیم ڈریپر کے الفاظ میں ’’مسلمان عربوں نے سائنس کے میدان میں جوابتدائی تحقیقات اور ایجادات کیں وہ بعد میں اہل یورپ کی ذہنی اور مادی ترقی کا باعث بن گئیں۔صرف ڈریپرہی نے نہیں بلکہ کئی یورپی محققین و مصنفین نے دُنیائے سائنس میں مسلمانوں کی خدمات اورجہد مسلسل کو سراہا ہے۔یوں سمجھئے کہ آٹھویںصدی سے بارہویں صدی عیسوی تک مسلمان اس میدان میں چھائے رہے اور باقی دنیا اس دوران جہالت کی تاریکی میں ڈوبی رہی تھی۔اس دور میں ابو بکر محمد ذکریا الرازی پیدا ہوا،جو923عیسوی کو دنیا سے کوچ کر گیا اور طِب کی فن پر لکھی گئی اُن کی کتب چہار دانگ عالم میں شہرت پاگئیں۔اُس کی تصانیف میں برالاعظم اور المنصور یہ سب سے زیادہ معروف ہیں اسے دس حصوں میں تقسیم کیا گیا۔اُن کی کتابوں کا کئی بار لاطینی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔1509 میں وینس میں،1528 میں پیرس میں چیچک کے بارے میں لکھی گئی اْن کی تصنیف1745 میں شائع کی گئیں۔رازی کی تصانیف مدت تک یورپ کی دانش گاہوں میں شامل نصاب رہیں اور مبصرین نے اِن کو اس تحسین کی نظر سے دیکھا کہ اس حوالہ سے اطباء یونان کی تصانیف کی چمک دھمک ماند پڑ کے رہ گئی۔تاریخ کے بقول رازی اواخر عمر میںموتیا بند کی وجہ سے بصارت سے محروم ہوگئے تھے،لوگوں نے آنکھیں بنانے پر اصرار کیا تو کہا کہ بس اب دنیا بہت دیکھ چکا ہوں اور اب میں اس سے اس قدر نفرت کرتا ہوں کہ کسی افسوس کے بغیر میں اسے دیکھنے سے دست کش ہوتا ہوں۔روشنی پرابن الہثیم نے ’’المناظر‘‘لکھی تو دْنیا چونک اٹھی ،پن ہول کیمرے کا اصول ایجاد کیا۔ا بن الہثیم کو ان کے کارناموں کی وجہ سے بابائے بصر یات کہا جاتا ہے۔
علمِ طِب میں سب سے زیادہ شہر ت جس مسلم سائنسداں کے حصہ میں آئی وہ بو علی سینا ہے۔عرب کے طبیبوں نے اِسے ملک الاطبامان لیا ہے۔پیدا 980عیسوی میں ہوئے اور وفات1037ء میں ہوئی۔اِن کی ’’القانون فی الطب‘‘صدیوں یورپ کی دانش گاہوں میں طب وحکمت کا نور بکھیر تی رہی ،اس کتاب میں علم ہَیت،علوم حفظ صحت ،بیماریا ں اور اْن کا علاج اور ادویات کے خواص کی خوب خوب تشریح کی گئی ہے۔تقریباً دنیا کی ہرجاندار زبان میں اس کے تراجم موجود ہیں ،دسویں صدی تک یورپ اس سے استفادہ کرتا رہا ،اٹھارویں صدی تک یورپ اور اس کی دانش گاہوں میں بوعلی سینا کی تصانیف کا چلن رہا۔فرانس میں تو کوئی سوسال پہلے تک یہ کتاب پڑھا ئی جاتی رہی ،بو عی سینا کی کتاب’’الشفا‘‘نے تو دْنیا میں تہلکہ مچادیا ،جس میں حیاتیات ،کیمیا طبعیات،فلسفہ اور موسیقی پر بیش بہا مضامین موجود ہیں۔’’ورنیر‘‘ نامی آلہ بھی بوعلی سینا نے ہی ایجاد کیا اپنے کلام میں اقبال نے بھی بطور خاص بوعلی سینا کا ذکر کیا ہے۔قرطبہ کے ’’البقاسس‘‘نے توفن جراحی میں اپنا لوہا منوالیا تمام اطباء سے پہلے انہوں نے پتھری خارج کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔اس حوالہ سے ایک کتاب بھی لکھی جس میں آنکھوں کی سرجری،بچے جنانے اور پتھری کے اخراج کا مفصل بیان ہے۔ہاں البیرونی تو البیرونی تھا۔دنیااُس کا ثانی پیدا کرنے سے قاصر رہی ہے۔ البیرونی بیک وقت طبیب بھی تھا،ادیب بھی ،شاعر بھی تھاسخنور و سخن داں بھی۔ماہر طبعیات بھی تھا اور لسانیات کا جانکار بھی۔ریاضیات کا ماہر بھی تھا اور ارضیات کا بھی۔محقق بھی تھا اور جغرافیہ داں بھی۔مورخ بھی اورکیمیاداں بھی۔فلسفہ و منطق کا پانی بھی خوب پی چکا تھا۔ڈیجیٹل سائنس پر اس کا عبور محوحیرت کر کے رکھ دیتا ہے۔زمین کا نصف قطر تو اْسی نے معلوم کر لیا ہے۔زمین کا محیط نا پنے کے لئے البیرونی نے ہی فارمولا پیش کیا۔علم فلکیات پر اْن کا گہرا درک و دستریں ایک مسلمہ بات ہے اس حوالہ سے اْن کی معروف تصنیف ’’قانون المسعودی فی الہیت و النجوم‘‘معرکتہ الآرا ہے۔روشنی کی رفتار آواز کی رفتار سے زیادہ ہے،یہ بات بھی اْسی نے ثابت کر کے دی ہے۔
ابوالقاسم زاھراوی کو کون نہیں جانتا۔جد ید سرجری کی دنیا میں ہوئی ترقی تو اْن ہی کی رہین منت ہے اور اْنہیں فنِ جراحت کا امام (Father of Surgery) کے نام سے جانا جاتا ہے۔سرجری کے موضوع پر اْن کی تصنیف ’’التصریف‘‘اپنے زمانہ میں دھوم مچا چکی ہے۔کتاب میں مثانے سے پتھری نکالنے ،بدن کے مختلف حصوں کی چیر پھاڑ اور زخم وغیرہ کو ٹانکا لگانے کے تعلق سے معلومات درج ہیں۔یورپی یونیور سٹیوں میں یہ کتاب مدتوں شامل نصاب رہی۔عمر خیام سے بھی کو ن واقف نہیں۔اْن کی شاعری کا ڈنکا بجتا ہی رہا،وہ عمر خیام بلند رتبہ ریاضی دان اور ماہر فلکیات بھی تھا۔’’التاریخ الجلالی‘‘کے نام سے اْن کا تیار کردہ کیلنڈر بھی اپنی حقانیت ثابت کر چکا ہے۔یہ نظر یہ بھی کہ ’’پہاڑوں کی تشکیل پانی میں ہوئی‘‘اْسی کا پیش کردہ ہے۔
ابو نصر محمد فارابی بھی کوئی گمنام شخصیت نہیں ۔اْسی نے ابتدائی سائنسی تحقیق کے تحت موسیقی کا ایک ایسا آلہ ایجاد کیاکہ اْسے سیف الدولہ کی مجلس میں ایک بار بجایا تو مجلس ہنستے ہنستے زعفران زار بن گئی ،سازبدل دیا تو پھر آہ و بکا اور نالہ و شیوں کی صدائیں سنائی دینے لگیں۔فارابی کو اس کے کارناموں کی وجہ سے’’ارسطوئے دوم‘‘کا نام بھی دیا جاتا ہے۔
ابو جعفر محمد بن موسیٰ الخوارزمی اپنے دور کا عظیم سائنس داں گذرا ہے۔ریاضی ،فلکیات اور جغرافیہ کے میدان میں اْس کی خدمات کو تاابد یاد کیا جاتا رہے گا ،گنتی کا موجودہ رسم الخط اْسی کا ایجاد کردہ ہے۔گنتی میں صفر کا استعمال سب سے پہلے اْس نے کیا۔علم الجبر امعلوم کیا اور مثلث کا موجد بنا۔
ابن یوسف نے ’’گلیلیو‘‘سے پہلے پنڈولم کا اصول دریافت و ایجاد کیا۔یہ بھی نہ بھولئے۔عربوں نے فن جراحت کو جو ترقی دی وہ حیرت انگیز ہے،جب انگریزی کا نام ونشان نہ تھا تو گیارہویں صدی عیسوی میں عربوں نے آنکھوں میں عمل جراحی کرنے میں نام پیدا کیا تھا۔یہ جو کلو روفارم کی موجودہ بے ہوشی کی دوا ہے یہ آٹھ سو برس قبل عربوں میں رائج تھی۔
علوم حفطِ صحت کے حوالہ سے عربوں کی خدمات کچھ کم نہیں۔جن امراض کا علاج ممکن نہ تھا اِن سے بچنے کے لئے گوکوئی مدون کتاب نہیں تھی لیکن تجربات اور اطباء کے ملفوظات سے استفادہ کیا جاتا تھا ،چنانچہ ایک ماہر طبیب کا قول تب سے آج تک عربوں میں زبان زد ہے کہ ’’بوڑھوں کے لئے ماہر باورچی اور جو ان عورت زہر ہے‘‘۔شفاخانوں کا قیام بھی اْن ہی کا رہین منت ہے۔جن میں مریضوں کے لئے بڑے بڑے کمرے،ہال اور طلباء کے لئے ہوسٹل ہواکرتے تھے۔
یہاں یہ بات رازی کے حوالہ سے اور عرض کروں کہ اْس سے جب شفاخانے کی تعمیر کے حوالہ سے بات کی گئی کہ وہ اس کے لئے کسی اچھی جگہ کا انتخاب کرے تو اْس کے حسن انتخاب کی داد دیجئے کہ اْس نے بغداد کے مختلف مقامات پہ تازہ گوشت کا ایک ایک ٹکڑا الٹکوا دیا اور جس جگہ کا ٹکڑا دیر سے سٹرا،وہی جگہ ہسپتال کی تعمیر کے لئے منتخب کی۔
اِسے ہماری بد قسمتی ہی کہیے کہ بارہویں صدی عیسوی کے بعد جب ہر شعبہ زندگی میں ہمارا انحطاط شروع ہو ا تو اس میدان سے بہت حد تک بلکہ اس حد تک ہم نظروں سے اوجھل رہے کہ ان سبھی علوم کے امام ہونے کے باوجود پچھلی صف میں بھی بہت عرصہ تک اپنی جگہ نہ بنا سکے۔اسلاف اور بزرگوں نے میدان طب و سائنس اور علوم جدیدہ میں جو بیش بہا خدمات انجام دیں تو ہماری تفرقہ بازیوں،آپسی سرپھٹول،رنگ و نسل کے خانوں میں بٹنے کے عمل اور مسلکی تنازعات میں گھرے رہنے کی وجہ سے یورپ نے اْن کو اپنے ساتھ منسوب کیا اور ہم تھے کہ عرب و عجم میں دَم بخود یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے پھر آگے بڑھنے اور میدان علم میں پھر اپنی فتح کا جھنڈا گاڑھنے کے بجائے ایک دوسرے سے دست بہ گر یباں رہے۔خوامخواہ کی بحثوں اور لایعنی باتوں اور خود پیدا کردہ مسائل میں اْلجھے رہے اور یورپ ہمیں سْلا کر ہمیں تاریخ سے بھلانے کے گْل کھلاتا رہا۔ہائے!کہاں وہ دور کہ یورپ ہماری ہر میدان میں خوشہ چینی کرتا رہا اور ہمارے اسلاف و آباء کی کتب کو سرمہ بصارت بناتا رہا۔کہاں یہ زمانہ کہ ہر میدان کی طرح علم و سائنس کے میدان میں بھی ہمیں ایسے آنکھیں دکھارہا ہے جیسے اِس میدان میں ہمارا کوئی وجود نہ تھا۔بھلا قصور کِس کا ہے؟اپنی قوت کے بل پر ہر مسلم ملک کو تگنی کا ناچ نچوارہا ہے،بھلا کو ن موردِالزام ہے ؟تحقیق و تجس کے میدان سے ہماری غیرت کو للکاررہا ہے،بھلا خاطی کون ہے۔تدبیرو تدبر اور دانش و حکمت سے عاری اِس قوم پر پھبتیوں کے کچو کے لگارہا ہے تو ذمہ دار کون ہے؟تھوڑا سر بگر یباں رہیے کھلے ذہن و دِل سے سوچئے کہ ہمارے فہم و ادراک پر گرائی جانے والی اِن بجلیوں کی اصل وجہ ہماری دو عملی ،نفاق،ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا عمل،اور رنگ و نسل اور مسلکی خانوں میں بٹ جانے کا کر یہہ طریقہ کار ہے۔۔۔۔۔اس بات پر ہم ضرور فخر کریں کہ علم و علوم و سائنس کے امام رہے لیکن یہ دولت کیسے ہم سے چھینی گئی اس پر بھی کف افسوس ملیں،اور پھر یہ علم ہاتھوں میں لینے کے جتن کریں یہی آج کی تاریخ کا سب سے بڑا اتقاضا ہے۔ یہ ورثہ محرومی ہی اقبال کو بھی ساری عمر رْلاتی رہی اور وہ نوحہ کناں رہے۔
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آباء کی
جو دیکھیں اُن کو یورپ میں تودِل ہوتا ہے سیپارا
�����������
رابطہ۔9419080306