اسی اخبار کے2 ؍جون2020ء کے شمارے میں ہم نے محکمہ اسکولی تعلیم کے اندر لائی جانے والی مجوزہ اصلاحات پر مضمون کومحققین ، استاتذہ اور والدین کی روشنی میں آخر پر یہ کہتے ہوئے ختم کیا تھا کہ ’’متعلقہ حکم نامے کے تناظر میں تمام فریقین تقریباً تقریباً ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ اگر محکمے کے پاس تمام تر تیاریاں مکمل ہیں اور باقی ماندہ مد و جزر کا خوب خیال رکھا گیا ہے تو ایسے فیصلے کی تائید ہر کوئی کرے گا۔ لیکن اس کے برعکس اگر سرکار کے روایتی رویہ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا شاید غیر مناسب نہیں ہوگا کہ جلدی کی آڑ میں اسکولوں میں رہے سہے نظم کو بگاڑنے کی فی الوقت کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘ ۔
اُس مضمون کے سلسلے میں احباب کی طرف سے کچھ تبصرے ارسال ہوئے۔ اس لیے ضرورت محسوس ہوئی کہ ِاس بات پر بھی تھوڑی بہت روشنی ڈالی جائے کہ ایسی اصلاحات کا تو اگر ہر کوئی خیر مقدم کر رہا ہے تو انہیں عملانے میں ایسی کون سی اڈچنیں پیش آرہی ہیں اور اس میں جس انفراسٹریکچر کی بات کی جارہی ہے، بھلا وہ کس چیز کا نام ہے۔ انہی سولات کی مناسبت سے آج ہم یہ جاننے کی کوشش کر یں گے کہ محکمہ اسکولی تعلیم کی طرف سے مشتہر کی گئی نوٹیفکیشن کو اگر کامیابی کے ساتھ روبہ عمل لانا ہے تو اس کے لیے ہمیں کیا کر نا ہو گا۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے پانچ اہم سوالات کی طرف رُخ کرنا ہوگا؛
۱۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے تعلیم کے فلسفے کو واضح کرنا ہوگا ۔
۲۔ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے کیوں آراستہ کر رہے ہیں اس پر پھر سے غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔
۳۔ اب جب کہ ہم نے اپنی تعلیم کا ایک مقصد قرار پالیا تو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کون سا طریقہ کار (Curriculam)اختیار کرنا چاہیے، اس پر الگ سے ایک سنجیدہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ یاد رکھنے کے قابل یہ بات ہے کہ تعلیم کے مقاصد کو دیکھتے ہوئے ہی طریقہ کار کو وضع کیا جا سکتا ہے۔
۴۔ اب جب کہ طریقہ کار کو واشگاف انداز میں پیش کیا گیا تو اس طریقہ کار کو عملانے کی خاطر کس طرح کے انسانی وسائل(Human Resoruce) کی ضرورت ہے، یہ پھر سے ایک حل طلب معاملہ بن جاتا ہے۔
۵۔ اب جب کہ مخصوص انسانی وسائل کی کھیپ کو بھی منتخب کر دیا گیا، تو ایک اور سوال سامنے آجاتا ہے کہ اس انسانی وسائل کی کھیپ کو کون کون سے آلات سے مسلح کیا جائے کہ وہ اپنا کام صحیح طور پر انجام دے سکیں، یہ بھی ایک حل طلب مسئلہ سامنے بن کر آجاتا ہے۔
ان پانچ سوالات کے جوابات آنے کے بعد ہمارے سامنے مجرد ایک خاکہ آجاتا ہے۔ یہ سوالات ہماری رہنمائی ان اصولوں کی طرف کریں گے جو ہماری قدم قدم پر مدد کریں گے۔ اب اگر ان سوالات کے ضمن میں ہم جموںوکشمیر کی بات کریں گے تو شاید یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہاں کے نظام تعلیم کا کوئی مقصد ہی نہیں ہے۔ صدیوں سے ایک لگا بندھا نظام چلتا آرہا ہے اور ہم بھی اپنی نائو کو اسی سمت چلا رہے ہیں۔ جب ڈھانچہ ہی لڑکھڑا رہا ہے تو اس کے اندر اصلاحات لانے کی بات کہاں کی عقلمندی ہوسکتی ہے ۔ ایک ایسی کشتی جس کی نہ کوئی منزل ہو، نہ کوئی متعین راستہ ہو، نہ کوئی سنجیدہ مزاج ملاح ہو۔ اس کے بعد نائو بھی ایسی ہو کہ جس کا کسی بھی وقت ڈوب جانے کا خطرہ اپنی جگہ برقرار ہو، بھلا اس کشتی کی طرف لوگوں کو سفر کرنے کی خاطر راغب کرنے کے لیے یہ نعرہ لگا دینا کہ ہماری کشتی میں کھانے پینے کی اعلی سہولیا ت دستیاب ہیں، جم خانہ ہے، سویمنگ پول ہے ، کھیلنے کودنے کے لیے وافر سامان ہے، وغیرہ وغیرہ کہاں کی عقلمندی ہوگی اور ایسے حسین نعروں کی زد میں احمقوں کے بغیر اور کون آ سکتا ہے۔ حالیہ نوٹیفکیشن انہی حسین نعروں کے مصداق ہے۔ اس طرح سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ پہلے ڈھانچے کو کسی قدر سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی باقی چیزوں پر دھیان دیا جا سکتا ہے۔
ویسے یہ بات سمجھنے میںکوئی دقعت نہیں ہونی چاہیے کہ جس کلاس روم میں بچے بنا کسی کتاب کے استاد سے سبق لے رہے ہوں، وہاں اُس کانعم البدل استاد اور آلات(Equipments) کی صورت میں ہوتا ہوگا۔ یہ استاد ہمارے روایتی اساتذہ کی طرح نہیں ہوںگے۔ یہ استاد واقعی وہ استاد ہوں گے جن کو انسانی وسیلے کے لقب سے نوازا جاتا ہو۔ ہوں گے تو یہ ہماری ہی طرح کے انسان ، لیکن استاد کے پیشے کے ساتھ ان کی شخصیت کی ایسی مطابقت ہوگی کہ جب بھی بچے کے سامنے آجائے تو اُن تمام تر لوزمات کے ساتھ آجائے جس کا کلاس تقاضا کر تا ہو۔ اسی طرح سے اگر آلات کی بات کی جائے تو ہمارے جانے مانے اسکول بھی ابھی تک ان کا استعمال نہیں کر رہے ہیں۔ جدید آلات کی تو دور کی بات ، ہمارے اسکولوں میں بچوں کو ڈھنگ کی جگہ بیٹھنے کو نصیب تک نہیں ہو رہی ہے، بھلا ایسے اسکول جدید قسم کے آلات کس طرح اور کہاں سے لائیں گے۔
کشمیر میں لوگ ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ چھٹیاں ان کے لیے بچوں کو سنبھالنے کا اضافی بوجھ بن کر آتی ہیں۔ اس لیے والدین کی کثیر تعداد اپنے بچوں کو تعلیم کے بہانے اسکول یا ٹیویشن سینٹر میں زیادہ وقت دلواتے ہیں۔ اس نفسیات کے بیچ اگر یہ کہا جائے کہ بچے کے لیے کوئی ہوم ورک نہیں ہو گا تو یہ والدین پر گراں گذر جائے گا۔ لیکن اس ضمن میں والدین کے بھی تحفظات ہیں اور وہ حق بجانب بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کے لیے جب کھیل کود کی کوئی سہولیت ہی دستیاب نہ ہو، گھومنے پھرنے کے لیے جب حالات ساز گار ہی نہ ہوں، اپنے معصوم جذبات کو ظاہر کرنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات ہی نہ ہوں، تو اس ماحول میں بچوں کا کسی غلط راستے پر نکل جانا خارج از امکان نہیں ہے۔ اس لیے والدین اپنے بچوں کو پڑھائی ہی میں ہی مصروف رکھنا چاہتے ہیں۔ اس طرح سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ بچوں کے لیے اگر کوئی ہوم ورک نہ ہو تو اس کے لیے نہایت ضروری ہے کہ انہیں وہ سہولیات دی جائیں جس کی وجہ سے وہ کسی غلط راستے پر نہ چل پڑیں اور اپنے جذبات کی بھر پور تسکین بھی کر سکیں۔ اس نقطے کو لے کر اگر ہم اپنی وادی کی بات کریں، بچہ تو کیا یہاں پر بڑوں کے لیے بھی کبھی ایسا سازگار ماحول میسر نہ ہو رہا ہے۔
ہم تیسری دنیا کے ممالک (Third World Countreis) اپنی سماجی منصوبہ بندیوں (Social Planning/Policies) کو لے کر اکثر مغربی ممالک کی نقالی کرتے ہیں اور شاید اسی وجہ سے ’’تیسری دنیا‘‘ کے لقب سے نوازے گئے ہیں ۔ مغربی ممالک میں کوئی منصوبہ اگر کامباب ہوجائے تو ضروری نہیںہے کہ وہ ہمارے ہاں بھی ویسے کا ویسا ہی کامیاب ہو جائے۔ حالاںکہ یہ بات صحیح ہے کہ مجوزہ اصلاحات مغربی ممالک میںکامیابی کے ساتھ روبہ عمل ہو چکی ہیں۔ وہاں سے کسی ماڈل کی نقالی میں میں تو کوئی حرج نہیںہے ، لیکن اُسے یہاں روبہ عمل لانے سے پہلے یہ دیکھنا ہے کہ آیا ایسا ماڈل ہمارے ماحول میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ سماجی منصوبہ بندی میں مقامی منظرنامے (Local Prespective) کو کلیدی اہمیت ہوتی ہے۔ کسی دوسری جگہ کے ماڈل کو مقامی منظر نامے میں ڈھالنے کی ہمیشہ ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے اسکولوں میں جب برقی سفید بورڈ (Digital Whiteboard)، کمپیوٹرز، پرجیکٹرز، ویڈیو کانفرنسنگ کے آلات ، موبائیل فونز ، ٹیلی ویژن ، 3ڈی پرنٹنگ، کیمرہ، برقی ٹیبل، برقی کتابیں، برقی کاپیاں، وغیرہ کی سہولیات دستیاب ہی نہیں ہیں تو بھلا ایسی اصلاحات کہاںتک کامیاب ہو سکتی ہیں۔ اس پر مستزاد، ان ساری چیزوں کو جو ایک چیز حرکت دلاتی ہے، یعنی کہ انٹرنیٹ ،وہ یہاں پچھلے ایک سال سے مفقود ہے، تومتعلقہ نوٹیفکیشن میں مذکوراصلاحات کا سرکاری حکمناموں کے علاوہ کہیں پر دکھائی دینے کا امکان فی الوقت نظر نہیں آرہا ہے ۔