فیس بُک پر اپنے ایک دوست کا یہ سٹیٹس مجھے بہت ہی حیران کن لگا اور میں اس سٹیٹس کے پیچھے کہ کہانی جاننے کیلئے بے تاب ہوگیا ۔ میں نے سٹیٹس پر Comment کرکے لکھا ’’کیا ماجرا ہے بھائی، کہاں دھوکہ کھایا…؟‘‘
’’زیادہ کچھ نہیں بھائی، بس میں جسے آسمان سمجھتا تھا وہ زمین نکلی، میں جیسے ہیرا سمجھتا تھا وہ پتھر نکلا ،میں جسے سمندر سمجھتا تھا وہ سحرا نکلا‘‘۔ اُس نے میرے Commentپر جواب دیا۔
میں نے پھر ایک بار پوچھا ’’بھائی صاف صاف بتائوگے بھی یا نہیں…ہوا کیا ہے؟‘‘
اُس نے جواب میں لکھا ’’یہاں نہیں بتا سکتا، Messageکر کے پوری تفصیلات بتائوں گا‘‘۔
کچھ دیر بعد اُس کا مسیج آیا اور اُس میں لکھا تھا
’’بھائی میں نے ایک ایسا دھوکہ کھایا جسے میں سب کے سامنے بیان بھی نہیں کرسکتا… Princess Gul…غلام قادرنکلا…میں کافی عرصے سے اُس کیساتھ Chatکرتا تھا،بہت گہری دوستی بھی ہوئی تھی، میں نے کیا کیا سپنے سجائے تھے ، میں تو اُس کے موبائل میں ریچارج بھی ڈالتارہا اور اُس کیساتھ بات بھی کرتا تھا… لیکن آج پتہ چلا کہ وہ ایک مرد ہے جو کسی آواز بدلنے والے سافٹ ویئر (Voice Changer App)کے ذریعے لڑکی کی آواز نکال کر مجھے دھوکہ دیتا رہا…پر اللہ کا شکر ہے کہ کوئی بڑا دھوکہ کھانے سے قبل مجھے اُس کی اصلیت پتہ چل گئی‘‘۔
فیس بُک واقعی دھیرے اور سنبھل کر چلنے کی جگہ ہے…میرا دوست خوش قسمت تھا کہ اُسے کوئی بڑا دھوکہ لگنے سے پہلے ہی جعلی پروفائل کی حقیقت معلوم ہوگئی، لیکن بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہوں نے جعلی اکائونٹوں کے ذریعے مختلف نوعیت کے دھوکے کھائے ہیں اور ابھی بھی اس جال میں پھنس رہے ہیں۔
جعلی اکاؤٹ(Fake Profile)اور اس کے مقاصد:
جعلی اکاؤنٹ وہ اکاؤنٹ ہوتا ہے جہاں کوئی شخص فیس بُک یا کسی اور سماجی رابطہ کی ویب سائٹ پر کوئی دوسری پہنچان اپنا لیتا ہے، جو وہ حقیقت میں ہوتا نہیں۔جعلی اکائونٹس مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ کچھ میں مرد خود کو صنف نازک کے طور پیش کرتا ہے تو کہیں خاتون خود کو مرد جتلاتی ہے، کوئی اپنا جنس نہیں بلکہ صرف اپنی پہچان تبدیل کرتا ہے ۔جس کا جو مقصد ہوتا ہے، وہ خود کو اُسی روپ میں ڈال کر خود کو لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جعلی اکائونٹ کے مقاصد مختلف نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ کسی کا مقصد آئن لائن فراڈ کرنا ہوتا ہے، کسی کا مقصد دھوکہ دہی کرنا ہوتا ہے، کوئی کسی کا مذاق بنانے کیلئے ایسا کرتا ہے، کوئی کسی کی مخبری تو کوئی کسی کی وفاداری پرکھنے کیلئے ایسا کرتا ہے۔ کچھ لوگ صرف اس لئے جعلی ناموں سے پروفائل بناتے ہیںتاکہ اُن کے گھر والوں اور رشتہ داروں کو پتہ نہ چلے کہ وہ بھی سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔اس کے علاوہ کچھ اشتہاری ایجنسیاں بھی بڑی تعداد میں جعلی ناموں سے مختلف پیج اور پروفائل بناتی ہیں اور پھر اپنے اس پلیٹ فارم کے ذریعے کسی چیز کی مارکیٹنگ کرتے ہیں یا پھر کسی سیاسی جماعت کا پروپیگنڈا چلاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی اس کام میں پیچھے نہیں۔اگرچہ جموں وکشمیر میں سیاسی جماعتوں کی آئی ٹی سیل کا رجحان اتنا وسیع نہیں تاہم ملکی سطح پر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی آئی ٹی سیلز بہت ہی زیادہ سرگرم ہیںجن کیساتھ سینکڑوں اور ہزاروں لوگ منسلک ہیں۔ یہاں بھی جعلی پروفائلوں اورFANپیج بنا کر اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانا اور دوسروں کو نیچا دکھانا ہوتا ہے اور جونہی مخالف جماعت کا کوئی لیڈر کوئی پوسٹ کرے تو اُس کی دھجیاں اُڑانے کا کام ہوتا ہے۔ 20مئی 2020کو عدالت عظمیٰ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران پیش کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق بھارت میں 3کروڑ 50لاکھ ٹویٹر اکائوٹ اور 35کروڑ فیس بُک اکائونٹس ہیں، جن میں سے 10فیصدی جعلی یا ڈپلی کیٹ ہیں۔ فیس بُک کے مطابق کمپنی نے 2018میں 33کروڑ جبکہ2019میں 54کروڑپرجعلی اکائونٹوں کو اپنی ویب سائٹ سے ہذف کردیا تھااور 2020کے پہلی سہ ماہی میں فیس بُک نے 17کروڑ جعلی اکائونٹس کو بلاک کیا ہے۔سوشل میڈیا کمپنی نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ اس نے لگ بھگ تمام جعلی اکائونٹوں کو ختم کردیا ہے تاہم یہ امکان نہیں کہ وہ سبھی جعلی پروفائلز کو پکڑ سکیں گے۔ فیس بُک کا اسرار ہے کہ پوری دنیا میں ماہانہ بنائے جانے والے اکائونٹوں میں جعلی اکائونٹ کی تعداد 5فیصدی کے قریب ہے تاہم دیگر غیر جانبدارانہ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد20فیصد کے آس پاس ہے۔ نیز فیس بُک پر جعلی لوگوں کی بھر مار ہے، ہر100میں 5سے لیکر20 پروفائل جعلی ہوسکتے ہیں۔
جعلی اکاؤنٹوں کا پتہ لگانا اور ان ہوشیار رہنا ضروری کیوں:
سب سے پہلے اور اہم ترین بات یہ ہے کہ جعلی اکائونٹ رکھنے والا دھوکے باز یا بھیدی سے کسی بھی صورت میں کم نہیں اور یہ بات وثوق کیساتھ کہی جاسکتی ہے کہ کوئی بھی دھوکے بازدوں کیساتھ رہنا پسند نہیں کرے گا۔اگرچہ وہ خود کو آپ کا دوست یا پھر آپ کیساتھ پیار محبت کرنے والا بھی جتلائے تاہم یہ ہمیشہ پیار محبت اور دوستی نہیں ہوتی بلکہ ان کے مقاصد اور بھی بہت کچھ ہوسکتے ہیں۔ جیسے آپ کے پیسے ، سامان ، جائیداد ہڑپنا اور آپ کے جذبات کیساتھ کھلواڑ اور آپ کا استحصال کرنا بھی ہوسکتا ہے۔
ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ دو ست کے روپ میں ایساجعلساز ہوں جو آپ کی معلومات حاصل کرکے انہیں کسی اور مقاصد کیلئے استعمال کرسکتا ہو۔جس کی مثال لاک ڈائون کے دوران دیکھنے کو ملی، جہاں جعلسازوں نے لوگوں کے نقلی(Duplicate) اکائونٹ بنائے اور اُن کے دوستوں کو اس میں Addکردیا اور کچھ وقفے کے بعد تمام دوستوں کو Messageبھیجی کہ ’’میں فلاں جگہ پھنسا ہوا ہوں، مجھے پیسوں کی سخت ضرورت آن پڑی ہے، میرے اس اکائونٹ نمبر میں کچھ پیسے ڈال دو‘‘۔
جعلی اکاؤنٹس اور دھوکہ کھانے سے کیسے بچیں:
اجنبیوں سے بات نہ کریں۔ وہ لوگ جن کو آپ نہیں جانتے، ان کی Friend Requestکو قبول کرنے سے پہلے غور سے سوچیں۔ پہلے دیکھئے کہ جو آپ کو Friend Requestبھیج رہا ہے کیا وہ آپ کے کسی دوست کا دوست ہے؟ جسے ہم Mutual Friendکہتے ہیں۔اگر ہیں تو اپنے دوست سے اس شخص کے بارے میں جانچ پڑتال کریں۔ اگر آپ کے درمیان کوئی Mutualدوست نہیں تو اُن سے پوچھیں کہ انہیں آپ کا دوست بننے کی کیا ضرورت ہے؟انہیں آپ کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟کیا وہ آپ کے کسی دوست کو جانتے ہیں؟ اگر نہیں جانتے تو اُ س نے کس مقصد کیلئے آپ کو Friend Requestبھیجی ہے؟ایسے سوالات پوچھیں جن سے آپ مطمئن ہوں اور اگر آپ مطمئن نہیں ہوں تو دوستی کی یہ درخواست قبول کرنے پر بڑا سوالیہ ہے۔اپنی سطح پر تحقیقات اور جاسوسی کریں۔ Friend Requestبھیجنے والی کی پروفائل کو غور سے پڑھیں۔ ان کے دوستوں کو چیک کریں۔ کیا ان کے دوست عالمی سطح کے ہیں یا مقامی؟ دوست جتنے زیادہ مقامی ہوں ، اس شخص کے حقیقی ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔ بہت کم یا کوئی مقامی دوست نہ ہونا مشتبہ ہونے کی گھنٹی ہے۔
پروفائل غور سے پڑھنے سے جعلی اکائونٹ کا پتہ لگانے کی ایک مثال (جس کا Screen Shotساتھ میں شائع کیا گیا ہے)ہے۔ اس میں ایک شخص خود کو لڑکی جتلا رہا ہے۔ پروفائل کی تفصیلات میں سب ٹھیک ہے تاہم ایجوکیشن کی جگہ یہ جعلی اکائونٹ بنانے والے نے ایسی غلطی کی جس سے اس کے جعلی ہونے کی نشاندہی آرم سے ہوجاتی ہے۔ اکائونٹ بنانے والے نے اگرچہ خود کو Femaleقرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی سکول کی جگہ Brun Hall درج کیا ہے جبکہ برن ہال سکول میں صرف لڑکے پڑھتے ہیں، لڑکیاں نہیں ۔
یہ ضروری نہیں کہ سبھی جعلی اکائونٹ بنانے والے ایسی غلطی کریں۔ اگرآپ جعلی اکائونٹوں سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے بل پر تحقیقات کرنا ہوگی اور اس کیلئے مختلف طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا ۔جب تک آپ 100فیصدی مطمئن نہ ہوں،اُس وقت تک کسی کو اپنے Friend Listمیں Addنہ کریں۔اگر آپ نے ماضی میں اس طرح کے لوگوں کو بنا جانچ پڑتال کے Addکیا ہے تو آپ اولین فرصت میں انہیں Unfriendکریں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ دھوکہ کھانے سے بچیں۔ اگر آپ کا کوئی دوست پیسوں یا کسی اور مدد کا تقاضا کرے یا آپ کو کہیں ملنے کیلئے بلائے ،آپ اس کی بھی جانچ پڑتال کریںکہ کیا واقعی یہ آپ کا دوست ہی ہے یا اُس کا اکائونٹ کسی نے Hackکیا ہے یا پھر کسی نے اُس کا جعلی اکائونٹ بنایا ہے۔ ایسی احتیاطی تدابیر سے ہی ہم دھوکہ دہی اور جعلسازی کیلئے بنائے گئے جعلی اکائونٹوں سے بچ سکتے ہیں۔
چوکس رہئے…ہوشیار رہئے…محفوظ رہئے…!