عید کے بعد کشمیر میں کورونا انفیکشن کے پھیلائو کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔کورونا معاملات نے یہاں چار ہزار کی حد عبور کردی ہے۔ متعدد عوامل دستیاب ہیں جو اس حالیہ لہر کو ایک ’شدید خطرے‘ کی طرف بڑھنے کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ جموں خطہ سے 10فیصد کی نسبت 90 فیصد سے زیادہ معاملات مقامی ہیں۔بظاہر معاملات کسی حد تک خوفناک ہوچکے ہیں کیونکہ نئی جگہوں سے کووڈ19کے معاملات سامنے آرہے ہیں جو غیر مبہم انداز میں اس بات کی وضاحت ہے کہ وائرس کمیونٹی میںداخل ہوچکا ہے اور اب کمیونٹی منتقلی کا مرحلہ چل رہا ہے کیونکہ وائرس سے متاثرہ بڑھتے ہوئے معاملات میں اکثریت مقامی ہیں۔ اچانک اس پھیلاؤ کو یہ حقیقت مزید پیچیدہ بنا رہی ہے کہ کشمیر میں خاملہ خواتین بھی کورونا سے متاثر ہورہی ہیں اور صرف4جون کو ضلع بانڈی پورہ میں 20معاملات(5جون تک کل 181معاملات )سامنے آئے جو کشمیر میں کورونا معاملات میں تشویشناک اضافہ کا تجزیہ کرنے کی دعوت دینے کے علاوہ اس بات پر بھی غور کرنے پر مجبورکردیتا ہے کہ کس طرح چیزوں کا غلط حساب لگایا گیا اور لوگوں نے صورتحال کو مزید خراب کرتے ہوئے لاک ڈاؤن پروٹوکول پر عمل کرنے کا 'غیر حقیقی اور غیر معقول' طریقہ اختیار کیاجس سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ ان ’نئی‘ جہتوں سے خوف و ہراس پھیل رہا ہے کیوں کہ وائرس پہلے سے ہی بھاری بوجھ سے جوجھ رہے طبی سیکٹرپر حاوی ہوسکتا ہے۔
صورتحال سے غلط نتیجہ اخذ کرنا
عید سے پہلے عام طور پرکورونا پھیلائو کی شدت اور نئے معاملات کا پتہ جنوبی کشمیر کے منتشر کلسٹروں سے لگایا جاتا تھالیکن گزشتہ چند روز سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ رجحان تلپٹ ہوچکا ہے۔پہلے بانڈی پورہ خاصاخبروں میں رہا تھا کیونکہ وولر کے متصل علاقہ (حاجن ،نائد کھئے)اس وائر س کی لپیٹ میں آئے تھے تاہم بعد میں نئے واقعات کی سامنے آنے کے رجحان میں خاصی کمی ہوئی تھی۔ لوگوں میں عمومی غلط فہمی تھی کہ یہ وبائی بیماری اب سست ہوکر ختم ہورہی ہے اور انہوںنے بازاروں ،رشتہ داروں اور دیگر بھیڑ بھاڑ والی جگہوں کا رخ کرنا شروع کیا،خاص کر عید کے ایام میںاس کے جابجا نظارے دیکھنے کو ملے۔ اس غلط اور ناقص سماجی ملن یا بھیڑ بھاڑ کو سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرنے کیلئے جب بانڈی پورہ ضلع کے تناظر کو بنیاد بناتے ہیں توعوامی اور حکومتی سطح پر نااہلی اور بدانتظامی کے کئی سوالات پیدا ہوجاتے ہیں۔اس دلیل کی حمایت کرنے والی ایک مثال یہ ہے کہ اہم شریف (زیارت کیلئے مشہور)میں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔2جون کو ضلعی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے نظر ثانی شدہ اقدامات کے ساتھ بندشوں کا حکم نامہ جاری کیاتاہم اس حکم نامہ او ر زمینی سطح پر اس کی عمل آوری کی حکمت عملی میں مکمل قطع تعلق تھا اور دونوں میں کوئی ربط نہیں تھا۔بانڈی پورہ کو ’’کورونا سے پاک‘‘علاقہ سمجھ کراور صورتحال کی سنگینی کو سمجھنے میں ناقابل فہم غلطی کی وجہ سے وسیع پیمانے پر لوگوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ایسی بھی اطلاعات تھیں کہ کورونا ٹیسٹنگ کا عمل کم ہی نہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہورہا ہے جو وبائی پھیلائو اور صحت کی دیکھ بال کی سطحوںکو دیکھ کر حیران کن تھا۔یہ سب نقصان دہ ثابت ہوا اور اب ایک ایسی صورتحال پیدا کرگیا کہ گزشتہ دو دنوںمیںضلع میں 20سے زیادہ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ یقینایہ ایک اگلی لہر کی طرف بڑھنے والا ہے اور لوگوں کی غلط مہم جوئی اس خطے کے لئے ایک بحران کے لمحے میں بدل جائے گی۔ اس نئے منظرنامے سے منطقی انجام کا نتیجہ بظاہر ہمیں کمیونٹی ٹرانسمیشن کے بارے میں متنبہ کرتا ہے کیونکہ لوگوں کے مابین رابطوں کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ رہا ہے جو دو دنوں سے دیکھا گیا ۔
یہ کیسے سنگین معاملہ ہے ؟
بانڈی پورہ میں پچھلی لہر جغرافیائی پھیلاؤ اور آبادی کے ربط کو دیکھتے ہوئے کچھ بکھرے انداز میں تھی۔ اس بار یہ رجحان تشویشناک ہے کیونکہ ان علاقوں سے واقعات کی اطلاع آرہی ہے جو ضلع کے آدھے سے زیادہ آبادی پر مشتمل حصے ہیں۔بانڈی کے مرکز سے شمال ،مشرقی اور مغربی اطراف سے نئے معاملات سامنے آئے ہیں اور غالب امکان یہ ہے کہ بازار جانے اور دیگر کاموں کیلئے لوگ مرکز کی جانب نقل و حرکت کریں۔ کمیونٹی سطح پر وائرس کی منتقلی کے شدید خطرہ کے بیچ لوگوں کا یہ متنازعہ کردار ،جو ضلع کے مرکز کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ،صورتحال کو مزید پیچیدہ بنادیتا ہے۔ ریکارڈ شدہ معاملات کی جغرافیائی رسائی کے ساتھ اعدادوشمار کو دیکھیں تو اس خطے کی تقریباً 40 40فیصد آبادی کو اس وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ ہے اگر یہ اسی رجحان کے ساتھ چلتا ہے اور یہ انتظامیہ اور محکمہ صحت کے لئے ایک 'سنجیدہ' چیلنج میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
ہم زنجیر توڑ سکتے ہیں!
پہلے مرحلے کے دوران بانڈی پورہ میں کافی بڑی تعداد میں کورونا معاملات دیکھنے میں آئے اور ایک دفعہ یہ جموںوکشمیر میں کورونا کیسوںکے پائیدان پر پہلے نمبر پر تھا۔ انتظامیہ کے ذریعہ موثر انتظام اوروضع شدہ پروٹوکول پر سختی سے عمل درآمد کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کو قابو کرنے کیلئے قابل تحسین کام انجام دیا گیااور یوں ضلع میں رپورٹ شدہ کیسوں کے معاملہ میں 10سے نیچے لایاگیا۔ صحت سے میڈیا تک سبھی باہم مربوط لوگوںنے عالمی ادارہ صحت اور علاقائی صحت اداروںکی جانب سے مشتہررہنما ہدایات اور اقدامات کے بارے میں عام لوگوں کو آگاہ کرکے قابل تحسین کام کیا۔موجودہ نئے سلسلہ کو توڑنے اور کورونا کے بڑھتے رجحان پر پھر قابو پانے کیلئے وہی پرانا ماڈل دہرانے کی پھر سے ضرورت ہے۔
کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
اس متعدی زنجیر کو توڑنے کے لئے بنیادی اور ضروری اقدام یہ ہے کہ جسمانی فاصلوں کو برقرار رکھنا ہے جوعوامی رابطوں کو کم سے کم کرکے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کی ایسی حکمت عملی ہے جس میں دوائیوں کا استعمال نہیں ہوتا ہے۔ وائرس کی غیر معمولی ’متعدی صلاحیت‘کو دیکھتے ہوئے انفیکشن میں اضافہ کی شرح کو کم کرنے اور منتقلی کی رفتار سست کرنے کے واضح اہداف ہونے چاہئیں۔ خطرے کے پیمانوں پر مبنی زون بندی سکیموں کو انفیکشن منتقلی کے رجحان کے عین مطابق مضبوطی سے چلایا جانا چاہئے۔ انفیکشن کے بڑھتے ہوئے معاملات پچھلے ہفتے کی شفایابی کی شرح سے کہیں زیادہ ہیں۔یہ انفیکشن کے اس نئے ابھار سے نمٹنے کیلئے ایک متبادل حکمت عملی کا متقاضی ہے۔ جغرافیائی خطوط پر مبنی خطرات پر مبنی زون بندی کے علاوہ یہاں بھی سب سے زیادہ متاثر ہونے کے امکانات سے دوچارگروپوں (حاملہ خواتین ، مختلف امراض میں پہلے سے مبتلا مریضوں) کے لئے خصوصی مراکز کی تشکیل کی جانی چاہئے۔ اس مطالعے میںمکمل یا تقریباًمکمل لاک ڈاؤن کے اوقات میںتذویراتی فاصلاتی تدابیر پر روشنی ڈالی گئی ہے جو طبی نظام پر بوجھ سے بچنے اور اس خطرناک کے سرنو پھیلائوکے سائیکل سے باہر نکلنے کی خاطر انتظامیہ کے ساتھ تعاون کے طور ہر فرد اور تنظیم کوبطور احتیاطی اقدامات روبہ عمل لانے چاہئیں۔وائرس کی عدم موجودگی میں حکومتوں کو معاشی سے لے کر معاشرتی معاملات تک متعدد اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ابھی یہ واضح نہیں ہورہاہے کہ ان پابندیوں کو کب کم کیا جائے اور معاشروں کو بحفاظت دوبارہ کھول کر معمولات بحال کئے جائیں۔ ایک بار پھر اس مطالعے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک منظم باہمی طریقہ کار روبہ عمل ہے جوکووڈ۔19 کے معاملات کی شرح کو کم کرنے میں بے حد مددگار ثابت ہوگا ’’خلاصہ یہ ہے کہ انسانی برتائو کے سیدھے سادھے ضوابط اس رجحان پر قابو پانے میں کافی مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں…ہمارا طریقہ کار یا اپروچ تین آسان حکمت عملیوں سے افراد ،حکومتوں اور تنظیموں کو کام کرنے کی نئی روشنی دیتا ہے۔وہ ہیں،مماثلت تلاش کرنا؛ برادریوں کے مابین رابطوں کو مضبوط بنانا اور پیش رفت کویقینی بنانے کے لئے ایک ہی لوگوں کے ساتھ بار بار بات چیت کرنا‘‘۔
اختتامیہ
ہمارے اوپر لٹک رہے خطرات سے بچنے کے لئے عملی اور اختراعی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ عید کے بعد کشمیر میں ایسے معاملات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ حاملہ خواتین میں انفیکشن کے تناسب اور مقامی سطح پروائرس کے پھیلائو کو دیکھتے ہوئے کشمیر کو اس نئی لہر سے نمٹنے کے معمول کی حکمت عملی سے آگے بڑھناہوگا اور ہمیں قابل عمل اور سمارٹ انتظامی فعال پذیری کواپنا ناہوگا ۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے اوردونوں، لوگوں کے مابین اور عوام اور اُن فرنٹ لائن ورکرز کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کاوقت ہے جو اس ’شدت سے بڑھتے ہوئے بحران‘ سے نمٹنے میں سب سے آگے ہیں۔
(میر سجاد جامعہ کشمیر کے ایک محقق ہیں)