غیر سرکاری تنظیم ( این جی او) قانونی حیثیت سے ترتیب پانے والا ایسا ادارہ ہوتا ہے جسے کسی بھی خطے میں عام افراد تشکیل دیتے ہیں اور ان اداروں کا انتظام ایسے افراد کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اس خطے میں رائج حکومت سے تعلق نہیں رکھتے۔ یہ تنظیمیں انسانیت اور سماجی تصورات پر مبنی خدمات انجام دیتی ہیں۔ مثال کے طور پریہ تنظیمیں بیماروں کا علاج، غریبوں کی امداد، بیوائوں اوریتیموں کی کفالت، معذوروں کی معاونت، مدارس میں مستحق طالب علموں کی تعلیم اور نادار بچیوں کی شادیاں جیسے کام کرتی ہیں۔
لوگوں میںکفالت عامہ اور امداد ِباہمی کا تصور معدوم ہونے کے نتیجے میں غیر سرکاری تنظیموںکا وجود میں آنا ایک فطری عمل ہے۔کسی بھی ملک میں این جی اوز کی اہمیت اور کردار کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے انکار ممکن ہے بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں کئی این جی اوز کی کارکردگی بے مثل اور قابل تقلید ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا سماجی و معاشرتی مسائل۔ یہ این جی اوز حکومت کے شانہ بشانہ کام کرتی نظر آتی ہیں۔ انفرادی طور پر بھی جو فریضہ انجام دیتی ہیں وہ بھی قابل تعریف ہے۔
دنیا بھر میں غیر سرکاری تنظیموں کی تعداد 10ملین کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے۔جموں کشمیر میں بھی عسکری تحریک شروع ہونے کے بعدان غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہواجن میں مقامی ،غیر مقامی یابین الاقوامی سطح کی رضاکارتنظیمیں شامل ہیں۔ 2005کے تباہ کن زلزلے کے بعد اس تعداد میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا اور پھر2014کے سیلاب نے حکومت اور عوام کوان غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون لینے پر مجبور کر دیا ۔اعداد و شمار کے حوالے سے دیکھیں تو جموں کشمیر میں این جی اوز کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے اور نت نئے ناموں سے ادارے سامنے آرہے ہیں جن میں اہل اور نااہل دونوں طرح کے ادارے اور کارندے شامل ہوتے ہیں۔ایک محتاط اندازے کے مطابق وادی کشمیر میں فی الوقت تقریباً1500 سے2000 تک این جی اوزرجسٹر ہیںجن میں ہیلپ پور والنٹری ٹرسٹ(HPVT)،والنٹری میڈی کیئر سوسائٹی (VMS)،یتیم خانہ،یتیم فائونڈیشن،یتیم ٹرسٹ،فردوس ایجوکیشنل ٹرسٹ فار آرفنز (FETO) ،کوشش،احساس،جموں کشمیر ایسوسی ایشن آف سوشل ورک(JKASW)،اتھ روٹ، ہیلپ فائونڈیشن اور جموں کشمیر والنٹری ہیلتھ سوسائٹی قابل ذکر ہیں۔ اگر دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں بے شمار ایسی کامیاب تنظیمیںو منظم سماجی ادارے ملتے ہیںجو لوگوں کی ذہن سازی کرتے رہے اور کامیابی و کامرانی کی جانب رواں دواں ہوئے۔
آج بھی بہت سے افراد کا خیال ہے کہ معاشرے کو محض سماجی بہبود کی تنظیموں کی ہی ضرورت ہے لہٰذا وہ اکھٹے ہوکر سماجی بہبود کی تنظیمیں ہی بناتے ہیں اور سلائی مشینیں، آٹا ،راشن، ادویات، کپڑے،بستے اور کتابیںجیسی ضرورت کی اشیاء مستحقین میںتقسیم کرتے ہیں۔لیکن عوامی حلقوں کا کہناہے کہ ماہانہ مفت کھانے پینے کی چیزیں دستیاب ہونے کے نتیجے میں محنت و مشقت کرنے کا جذبہ ٹھنڈاپڑتا ہے۔خیراتی نفسیات اُن سے اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد کر نے کا حوصلہ بھی چھین لیتی ہے۔مارکسسٹ خیرات کی ہر شکل کو محنت کش طبقے کے لئے زہر سمجھتے ہیں اور اس کی ہر طرح سے مخالفت کرتے ہیں۔
وادی میں سرگرم کئی این جی اوز سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ بھی اس مزاج کو ہی پروان چڑھانا چاہتے ہیں کہ ہر ایک حاجتمند یا ضرورتمندہر مہینے ہاتھ پھیلانے کے بجائے کو ئی کام کرکے خود کفیل بن جائے لیکن صورتحال یہ ہے کہ لوگ اس کیلئے تیار نہیں ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہوسکتی ہے لیکن صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ذہن سازی کی طرف توجہ دی جائے،جو لازم و ملزوم ہے۔ معاشرے میں سماجی ادارے کو وہ حیثیت حاصل ہے جو ایک ماں باپ اپنے بچے کی ولادت سے لیکر بچے کی پرورش اور اسے بڑا بناکر لائق اور سمجھدار بناتا ہے، ٹھیک اسی طرح ہر ایک معاشرے میں سماجی ادارے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔انسانیت سے پیوست ہر پہلو کی اصلاح ،فلاح اوررہنمائی کے لئے جو بھی راستہ چنا جائے گا وہ سماجی خدمت کے زمرے میں آئے گا۔
اسلام نے کمزورطبقوں کی خدمت پر زور دیا ہے اسلئے ایک حقیقی مسلمان کو سماجی کارکن کہا گیا ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ ’’اوپر والا ہاتھ (دینے والا)نیچے والے ہاتھ(لینے والا)سے بہتر ہے‘‘۔پیغمبر کریمؐ کا فرمان ہے’’ کمزورطبقوں کی خدمت کرکے میرا دل خوش کیجئے‘‘۔صاحبِ مال لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محرومِ معیشت اور ضروریاتِ زندگی سے محروم لوگوں پر اپنی کمائی خرچ کریں لیکن اس طرح تلاش کر کے کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
اگر چہ این جی اوز کی تاریخ صدیوںپرانی ہے لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں پوری دنیا اور بالخصوص پسماندہ ممالک میں اِن کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہواجس کی بنیادی وجہ سماج کو مزید ترقی دینے میں حکمرانوں کی نااہلیت ہے ۔جس طرح ہر کام میں کامیابی کے لئے نیت کی پاکیزگی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح خدمت خلق کے ہر شعبے میں نیک نیتی ضروری ہے۔اس کے لئے سب سے پہلے عوام کو سماجی شعور سے آگاہی و بیداری انتہائی ناگزیر ہے۔سماجی کارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انفرادی طور پر بھی تعمیری سوچ کو پھیلائیں اور مفادِ عامہ کے مسائل کے حل کے لئے سماجی تقاضوں کے تحت کوششیں کریں کیونکہ وہ خود بھی اس سماج کی بنیادی اکائی ہیں، زمین کے اِس ٹکڑے کواپنا گھر سمجھتے ہوئے اس کی تعمیر و ترقی و حفاظت میں بھی بھر پور حصہ لیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان این جی اوزکی ’’مانیٹرنگ‘‘کے نظام کو بھی مربوط و فعال بنایا جائے ورنہ زیادہ تر ادارے تو ترقی اور خوشحالی کے راگ الاپتے ’’نشستن، گفتن، برخاستن‘‘ کے فارمولے پرہی عمل پیرا نظر آتے ہیں۔