کورونا جیسے طوفانی لہروں کے قہر سے ابھی دنیا کو نجات نہیں مل پا رہی ہے کہ دوسری آفت براعظم افریقہ سے ٹڈی دَل (Locust) کی شکل میں نمودار ہوگئی ہے جو کھڑی ہری بھری فصلوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ ان کے راستے میں جو بھی رکاوٹ آرہی ہے، اس سے صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کا ایک چھوٹا موٹا لیکن طاقت ور فوجی دستہ ہے جنہیں انسانیت کو ایک معبود کی طرف توجہ مبذول کرنے اور اس کے فرمان کی بجا آوری کے لیے وقتاً فوقتاً بطور تنبیہ کے خاطربھیجا جاتا ہے۔اس وقت ٹڈی دَل جیسی مصیبت نے افریقہ کے فصلوں کو تباہ و برباد کیا ہے۔ وہاں کے لوگوں کا جینا محال بنایا ہے۔ اب ان کا رخ دوسرے ممالک کی طرف بھی بڑھنے لگا ہے اور آہستہ آہستہ ان کا پھیلاؤ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں ہو چکا ہے جن میں ہریانہ، راجستھان اور مدھیہ پردیش قابل ذکر ہیں۔ پنجاب اور جموں و کشمیر میں احتیاطی تدابیر کی ہدایات کے طور پر حکومت کے ذمہ داروں نے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ جموں و کشمیر کی اعلیٰ سطحی اجلاس میں ماہرین کی ایک ٹیم کو تشکیل دیا گیا ہے جو کہ ٹڈی دَل سے قبل از وقت نمٹنے کے لیے مؤثر طریقہ اپناکر ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں گے۔
سرینگر کی معروف اداکارہ زائرہ وسیم نے کو حال ہی میں اس وقت دوبارہ سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں کے تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب آپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر زندہ و دائمی معجزہ، شک و شبات سے پاک، ہدایت کی کتاب قرآن کریم کی روشنی میں سورۃ الاعراف کی یہ آیت مبارکہ تحریر کر کے پوسٹ کردی"پھر ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اورخون جو الگ الگ نشانیاں تھیں، پھر بھی انہوں نے تکبر و سرکشی ہی اختیار کر کے رکھی اور وہ نہایت مجرم لوگ تھے"۔ (الاعراف: ۳۳۱)
زائرہ نے خاموش رہ کر نہ صرف اس تنقید کو برداشت کیا بلکہ واپس کوئی جواب دیئے بغیر ہی اس پوسٹ کو فوراً اپنے اکاؤنٹ سے مٹا (Delete) بھی دیا ہے۔ حالانکہ دیکھا جائے تو اس نے آئین ہند کی طرف سے دی گئی اظہار خیال کی آزادی کا حق حاصل ہونے کا استفادہ کیا تھا۔ آپ نے ٹڈی دل سے پیدا شدہ صورتحال کو قرآن میں ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ تو آپ کو متذکرہ بالا آیت مبارکہ کی طرف توجہ مبذول ہوئی۔
عربی لغط کے لحاظ سے لفظ "الجَرَادْْ" کے اردو معنی ہیں 'ٹڈی' اور انگریزی زبان میں 'Locust' کہتے ہیں۔ واحد کے لیے جَرَادَۃ استعمال ہوتا ہے جس کا اطلاق نر یا مادہ دونوں پر ہوتا ہے۔ قیامت کے منظر کی تصویر کشی کرتے ہوئے رب الزوالجلال نے قرآن کریم میں قبروں سے نکل کھڑے ہونے پر مزید سمجھانے کے لئے یہاں ٹڈیوں سے تعبیر کر کے لفظ "جراد" نازل فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :"اس دن یہ اپنی آنکھیں جھکائے قبروں سے اس طرح نکل کھڑے ہوں گے جیسے ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہوں"۔ (القمر: 7)
یہاں قارئین کے لئے لفظ 'جراد' کو مزید توسیع دینا چاہوں گا تاکہ 'جراد' یا 'ٹڈی' ایک ہی چیز کا نام ثابت ہونے میں کوئی شک باقی نہ رہے۔ مروان کا پوتا مسلمۃ ابن عبد الملک جو آرمینیہ اور آزربائیجان کے گورنر بھی رہ چکے ہیں، صاحب الرائے، بہادر اور جری آدمی تھے ان کا لقب 'جرادالصفراء ' یعنی 'زرد رنگ کی ٹڈی' تھا۔ امید کرتا ہوں کہ لفظ 'جراد' کو سمجھنے میں اب کوئی دقعت محسوس نہیں ہوگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا کہ یہ 'ٹڈی' کیا ہے؟۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کے درجواب میں یوں ارشاد فرمایا کہ : "ٹڈی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر (فوج) ہے۔ (سنن ابن ماجہ؛ 3219)
یہاں اگر دنیا کے رسم و رواج اور قانون سے فوج کے کام کاج کا غور و خوض کیا جائے تو قدرت الٰہی کے فطرت قانون کی اس فوج کے کام کاج کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طاقت، عظمت، قدرت، مشیت وسیع ہے جس کا ذہن میں سوچا بھی نہیں جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ 'کن فیکون' جیسے اوصاف کاملہ سے ابابیل، مکڑی و مچھر جیسے حقیر چیز سے بھی بڑے سے بڑا کام لے سکتا ہے۔اللہ کے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹڈی کی ہلاکت کی دعا مانگی ہے۔ (ابن ماجہ؛ 3221)
امام دمیری رح نے سائینس کی دنیا کا خیال ظاہر کر کے اپنے ایک قول کے مطابق ٹڈی کا لعاب نباتات کے لیے زہر قاتل قرار دیا ہے اور فرمایا کہ اگر اس کا یہ لعاب کسی نباتات پر پڑ جاتا ہے تو اسے ہلاک کر کے چھوڑ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جس کھیت میں جاتی ہے اس کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔ علامہ دمیری رح فرماتے ہے کہ ٹڈی کے عدم قتل کا حکم اس وقت صحیح ہے جب تک یہ کھیتی وغیرہ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔
تاریخ اسلام میں یہ واقع سنہرے حروف سے تحریر کردہ مل جاتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعلی عنہ کے دور خلافت میں ایک سال ٹڈیاں غائب ہوگئیں جس کا امیرالمؤمنین کو بہت غم لاحق ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ٹڈیوں کی تلاش کے لیے اپنے چاروں اطراف و اکناف میں سوار بھیجے۔ کسی کو شام کی طرف بھیجا، کسی کو عراق کی طرف اور کسی کو یمن کی طرف بھیجا تا کہ وہ ٹڈی کے متعلق دریافت کریں کہ آیا وہ کہیں نظر آئی ہیں۔ یمن کی طرف جانے والا سوار مٹھی میں ٹڈیاں لے کر آیا اور انہیں امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پھیلا دیا، جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں دیکھا تو خوشی سے 'نعرہ تکبیر' بلند کیا، اور فرمایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے؛ ’' بے شک اللہ عزوجل نے ہزار قسم کے حیوان پیدا فرمائے ہے، ان میں سے چھ سو سمندر میں ہیں، اور چار سو خشکی میں، اور ان میں سے سب سے پہلے ٹڈیاں ہلاک ہوں گی، جب ٹڈیاں ہلاک ہو جائیں گی تو اس کے بعد ہار کی ڈوری ٹوٹنے کے بعد موتیوں کے گرنے کی طرح باقی امتیں (اقسام) ہلاک ہوں گی۔" (مشکوٰۃالمصابیح؛ 5463)
اسی طرح 1747 میں دمشق کے شہر میں ٹڈیوں کا لشکر 'کالی آندھی کی صورت بن کر' نمودار ہوئی اور ملک کے اردگرد پورے فصل کو تباہ و برباد کر گئی ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران1951میں ملک شام پر ٹڈی دل نے حملہ کیا، باغات اور فصلوں کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے قحط آگیا اور ایک خلقت موت کے گھاٹ اتر گئی۔ اس دوران ایک شخص کا باغ بالکل محفوظ اور تروتازہ رہا۔ ٹڈی دل نے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ چنانچہ لوگوں نے حکومت سے شکایت کی کہ اس شخص کے پاس ٹڈی دل کو مارنے کی دوا موجود تھی لیکن اس نے کسی کو اس کا نہیں بتایا۔ حکومت وقت نے اس سے بلایا اور پوچھا کہ تم نے اس کرمکش کی دوائی کو حکومت اور عوام سے کیوں مخفی رکھا؟ وہ شخص بولنے لگا کہ جو دوا میں استعمال کرتا ہوں ،وہ سب کو معلوم ہے لیکن کوئی بھی اسے استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ حیران ہو کر اس سے پوچھا گیا کہ آخر وہ دوا کیا ہے؟ اس نے جواب دیا وہ دوا ’’زکٰوۃ‘‘ ہے۔پوچھا گیا کہ کیا ٹڈی دل زکٰوۃ دینے اور نہ دینے والے باغ میں فرق کر سکتا ہے؟ وہ شخص کہنے لگا تجربہ کر کے دیکھ لو۔ چنانچہ ٹڈیاں لائی گئی، اس کے باغ میں ڈال دی گئی لیکن وہ وہاں سے بھاگ جاتی تھیں۔ اس کے بعد اس شخص نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مبارک انہیں سنائی، ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ:’’اپنے مال کی حفاظت زکٰواۃسے کرو، مرض کا علاج صدقے سے کرو اور بلاؤں کی لہروں کا استقبال اللہ کے سامنے عاجزی و آہ و زاری سے کرو۔‘‘
قرآن کریم کے بیان کردہ اس تاریخی پس منظر میں آج پوری دنیا کی عمومی صورتحال کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جب قوموں کے طرزعمل، نفسیات، سرکشی، بغاوت، ظلم اور نا انصافیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تو اللہ رب العزت پہلے تنبیہ کرتے ہیں مگر جب اس تنبیہ اور سرزنش سے قوموں کا رویہ دوبارہ تبدیل نہیں ہوتا تو پھر اس سے زیادہ سخت عذاب سے دوچار کر دیتے ہیں جو دائمی ہوتا ہے۔ پھر توبہ اور واپسی کے سب دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ اللہ کرے کہ ہمیں ہدایت نصیب ہو جائے اور دنیا کو خوشحالی لوٹا دے۔ آمین
رابطہ: ہاری پاری گام ترال
فون نمبر۔ 9858109109