ہم سب اس بات سے آگاہ ہیں کہ ہر سال۱۲؍جون کو بچوں کی مزدوری کے خلاف دن منایا جاتا ہے، جس کا خاص مقصد لوگوں کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ دنیا کے اکثر مقامات میں معصوم اور کمسن بچوں کے ساتھ حد سے زیادہ ظلم ہوتا ہے اور ان سے کم عمری میں کام لیا جاتا ہے۔
اس بات کے انگ انگ میں یہ حقیقت بسی ہے کہ ننھے منّے بچے ہرسماج کے لئے آسمان کے تاروں کی مانندہوتے ہیں اور یہ تارے بغیر کسی سرحد کے ہر دل اور ہر مزاج کو قبول ہوتے ہیں۔جہاں یہ شگوفے اپنے ماں باپ کے نور نظر ہوتے ہیںوہیں ہمارے کل کی ضمانت بھی ہوتے ہیں ۔بچوں کی دنیا نرالی اور بہت خوبصورت ہوتی ہے.یہ وہ دنیا ہے جہاں پر فکر وغم,دکھ درد,کینہ وبغض وغیرہ جیسے چیز موجود ہی نہیں ہوتے بلکہ اونچ نیچ ,امیر وغریب,کالے گورے کی کم خیالی کے بغیر مزاج کا موسم بہت خوبصورت ہوتا ہے۔ہر قوم کا وجود ,مقصد اور منزل اس قوم کے بچے ہوتے ہیں۔ بچے قوم کا وہ سرمایہ ہوتا ہے جس سرمایے کو صحیح استعمال میں لا کر قوم کی عزت و وقار اور ترقی آسمان پر ڈھیرا جما سکتی ہے اور اسی سرمایے کو غفلت کے ہاتھوں استعمال کرنے والی قوم اپنی بربادی کی خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ وادی کشمیر کے لوگ اس جرم میں کتنے آگے ہیں اور بچہ مزدوری کی شرح یہاں کیوں زیادہ ہے، اس چیز پر اگر غور کیا جائےتو یہ سوال بار بار دل میں اُبھرتا رہتا ہے کہ وہ بچہ مزدوری کرنےکیوں نکلتا ہے، جس کے کھیلنے کودنےاور ابتدائی تعلیم و تربیت کے حصول کے دن ہوتے ہیں۔ اس سوال کا واحد جواب ہے، زندگی کی مجبوریاں۔ مجبوری کو سمجھنا اور اس کا حل ڈھونڈ نکالنا وہ قدم ہے جس سے ہم بچوں کے تئیں خیر خواہی کا اظہار کرسکتے ہیں ورنہ کھوکھلے نعروں اور کاغذی تحریروں سے ہم ان شگوفوں کےلئے خیر خواہ ثابت نہیں ہوسکتے۔ جموں کشمیر میں بچہ مزدوری کی شرح حد سے زیادہ تجاوز کر گئی ہے۔اس معاملے میں اگر چہ سرکاری لباس میںملبوس چند غیر سنجیدہ لوگوں کے بے معنی جملے سننے کو ملتے رہتے ہیںلیکن سب فضول اور بے سود ہی ہوتے ہیں۔ اس عمل کو قابو میں لانے کے لیے سماج کے ہر ذی حِس انسان کو آگے آنا ہے۔ اس پر سنجیدگی کا ادراک کرنا ہوگا کیونکہ یہاں کےطویل نامساعد حالات نے لاکھوں بچوں کی خوشیوں کے سہارے اِن سے چھین لئے ہیںاور یتیموں کی ایک بڑی تعدا دبے سہارا پڑی ہوئی ہے۔ یتیمی ہی وہ خاص وجہ ہے جس سے یہاں کے شگوفوں کی زندگی ویران راہوں پرپڑچکی ہیں۔ جب کسی گھر کے ذمہ دار ہی موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں پھر اس گھر کےمعصوموں کو زندگی کے گاڑی کی ا سٹیرنگ اپنےمعصوم ہاتھوں میں پکڑنی پڑتی ہے۔انہیں وقت کے حالات کے ساتھ لڑنے کے لیے اپنے نازک کاندھوں پر زندگی کابھاری بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔یہاں کے حالات اس بچہ مزدوری کے لیے ذمہ دار ہیں، یہاں بچوں کو اگر قالین کےکارخانوں, ہوٹلوں, ورکشاپوں, دکانوں, سڑکوں یا کھیت کھلیانوں میں مزدوری کرنےسے نجات دلانا ہے اور حقیقت میں ان پر رحم کا حکم جاری کرنا ہے تو اس کے لیے انتظامیہ اور عوام کو ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا، جس کے سائے تلے یہ بچے خود کو بے سہارا محسوس نہ کرسکیں، اگرچہ بیشتر لوگوں کے لئے یہ ایک کاروبار بن گیا ہے کہ وہ بچوں کو پڑھانے لکھانے کے برعکس کسی کام میں لگاتے ہیں اور اُن کے ذریعے چند پیسے حاصل کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتے ہیںتواس پر قابو پانے کے لیے ہمیں ان بچوں یا ان کے والدین کو قانون کی بولی سے نہیں دھمکانا چاہئے کیونکہ یہ طریقہ ظلم و جبر ہی کہلائے گا بلکہ ہمیں ایک ایسا لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس سے ہم ان پریشان اور مجبور بچوں کے لیے راحت دلانے کے کام کرسکیں ، یہ کام محض کسی ایک جماعت کے لیے مخصوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کام کو انجام دینے کے لیے ہر ذمہ دار شخص کو کمر بستہ ہونا ہے۔کاغذی تحریروں کو یکطرف رکھ کر اس درد کی دوا بننے کے لیے ہمیں میدانِ عمل میں لازماً آناچاہئے۔جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک ہماری ساری باتیں فضول ثابت ہونگی۔ہمیں اس میدان میں عملی مزاج کو متحرک کرنا ہوگا کیونکہ ہم اس زمین پر رہنے والے لوگ ہیں جہاں ہمیں ہی ہر آفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری بات۔ کچھ بچے جبری مزدوری میں ہوتے ہیں یعنی ان کے والدین ان سے مجبوراً مزدوری کرواتے ہیں۔ اس کے لیے بھی انتظامیہ کا رول سخت ہونا چاہیے جس کے بدولت وہ بچے انصاف حاصل کرسکیں۔ تعلیم یافتہ طبقے کو اس حوالے سے اپنے آپ میں بیداری لانی چاہئے کیونکہ یہی معصوم پھول ہمارے کل کا چمن ہوتےہیں ،ان ہی کے وجود پر اپنے قوم کا کل تشکیل دے سکتے ہیں۔مشکلات اور مجبوریوں میں قید بچوں کے لیے ایک ایسا پروگرام ترتیب دینا ہوگا، جس سے ہر بچہ بچپن کی مٹھاس حاصل کرسکے اور والدین کو اس بات سے آگاہ کرنا ہوگا کہ اگرچہ وہ زندگی کے حالات سے بے شک مجبوربھی ہیں لیکن بچوں کے معاملے میں دلیری کا اظہار کریں ۔ان والدین کو سوچنا چاہیے جو اپنے ننھے منوں کو کچھ پیسوں کی خاطر مزدوری کرنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔اپنے بچوں کے لیے شفیق بنیں، اس سے پہلے اللہ آپ سے اس معاملے میں پوچھ تاچھ کرے۔
اے مسلمان !تو اپنی اولاد کو دین و دانش دونوں سکھا، تاکہ اسکی زندگی کا نگینہ چاند اورستاروں کی طرح چمکے،اگر تو اسے ہنر یعنی دنیوی علوم سکھادے تو اس کی آستین میں یدبیضا کا سا معجزہ پیدا ہوگا۔
آپ کی تربیت وطریقہ ایساہونا چاہیے کہ بچے زندگی کے ہر معاملے میں خود کو مثبت طریقے پر پیش کرسکیں۔بقول شیخ سعدیؒ
’’بچے کولازماً کوئی ہُنر سکھائیں اگر وہ ہنر مند ہوگا تو برے وقت میں بھی اسے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہ پڑے گا اور وہ اپنے ہنر سے مدد لے گا‘‘۔
تمام سیاسی, سماجی اور باقی انجمنوں کو اس معاملے میں آگے آنا چاہیے اور ان غریب اور مایوس دل معصوموں کے چھو لینے والے چہروں کی بہبودی کے لیے کوئی ثمر دار لائحہ عمل اپنایاجاسکے ورنہ حالات کے سائے میں ہر شگوفے کو اس مصیبت کا شکار ہونا پڑے گا۔انتظامیہ سے جڑے ہر محکمہ کو آگے آنا چاہئے تاکہ وہ اپنی خدمات ان بچوں کی ترقی کے لیے پیش کریں۔
اپنے بچوں کو ابتدائی ایام میں ہی ایسے تربیت سے نوازیں کہ یہ زندگی کے ہر راز سے واقف ہوکر ایک نڈر اور حالات کے سامنے ایک مضبوط دیوار کی طرح ہمیشہ رہیں ان کو ڈاکٹر اقبال کی نصیحت سے باخبر رکھا جائے۔
نہنگے بچہ خود راچہ خوش گفت
بہ دین ماحرام آمد کرانہ
بہ موج آویزواز ساحل بہ پرہیز
ہمہ دریاست مارا آشیانہ
ایک مگر مچھ نے اپنے بچے سے خوبصورت بات کہی کہ ہمارے دین میں ساحل حرام یعنی ساحل آرام کرنا ہماری زندگی کیلئے نقصان دہ ہے۔اس لیے موج سے اُلجھ جا اور ساحل سے دور رہ ،کیونکہ سارا سمندر ہی ہمارا آشیانہ ہے۔
اُن تنظیموں کو بھی وفاداری سے کام نبھانا چاہیے جو بچوں کے نام پر لاکھوں کروڑوں جمع کرتے ہیں، ان اداروں کو بھی اس فکر میں پڑنا چاہیے کہ یہ پریشانی وادی میں اب کیوں بڑھ رہی ہے۔بچہ مزدوری کے حوالے سے جو قانون مرتب ہوئے، وہ قانونی کتابوں میںکاغذ کیڑوں کی غذا بن گئے ہیں۔ قوم کے ہر فرد کو اس پریشانی کے حوالے سے سنجیدہ ہونا ہے۔ چند پیسوں کے خاطر کسی کی زندگی تباہی کے شاہراہ پر کیوںکھڑی ہوجاتی ہے، اس حوالے سے ہم سب کو فکر و ادراک کرنا چاہیے۔ہمیں بحیثیت والدین ان سبی بچوں کو قوم کاانمول سرمایہ سمجھ کر ایسی تربیت سے ہمکنار کرنا ہےکہ آنے والے کل میں یہ قوم کیلئے ایک با وقار فرد ثابت ہوجائیں۔
اللہ ہمارے بچوںکو ایسے تربیت سے منور کرے کہ یہ اس مظلوم قوم کی تباہ کن کشتی کو پار لگانے کے اہل ہوجائیں۔والدین حضرات بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہو?ئےان شگوفوں کو ہمیشہ اپنی بالغ نگاہوں سے دیکھتے رہیں۔
پھلا پھولارہے یارب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالےہیں
بہرام پورہ کنزر
رابط : 8082706173