گزشتہ روز عطیہ خون کا عالمی دن منایاگیا۔ ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے اُن8 دنوں میں سے ایک دِن ہے جو ہرسال عالمی ادارہ صحت کی طرف سے منایا جاتا ہے۔ امسال یہ دن ’’خون کا عطیہ کریں اور دنیا کو صحت مند مقام بنائے‘‘ کے نعرہ اور ’’محفوظ خون زندگیاں بچاتا ہے‘‘ کے عنوان کے تحت منایاگیا یعنی لوگوں میں زیادہ سے زیادہ خون عطیہ کرنے کا شعور اجاگر کرنا اس سال کا خاص موضوع تھا۔ اس موضوع سے یہ بھی واضح ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ خون عطیہ کرکے قیمتی جانوں کا ضیاع روک سکتے ہیں۔ یہ دن 14جون 1868 کوآسٹریلیا کے ڈاکٹر کارل لینڈ اسٹینئرکے یوم پیدائش کی مناسبت سے ہر سال14جون کو منایاجاتا ہے جنہوں نے خون کے اجزاء کو 4گروپوں میں تقسیم کیا تھا جس پر انہیں نوبیل انعام بھی ملا تھا۔ انتقال خون کا پہلا تجربہ 1930میں ماسکو کے سکی فوسوکی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس میں ہوا جہاں ایک 60 سالہ شخص جو ایک حادثے میں مر گیا تھا ، 12گھنٹے کے اندر اس کا خوان ایک ایسے نوجوان کے بدن میں منتقل کیاگیا اور اس کی جان بچائی گئی جس نے دونوں کلائیاں کاٹ کر خود کشی کی کوشش تھی۔1933میں انتقال خون کا دوسرا تجربہ میو کلینک انگلستان میں ہوا۔1941میں ریڈ کراس نے بلڈ بنک کے قیام کا آغاز کیا۔1943میں ڈاکٹر پال بی سن نے اس نکتے کو دریافت کیا کہ یرقان وغیرہ کے حامل خون کے انتقال سے مرض بھی انتقال ہوتا ہے۔لہٰذا خون کے عطیہ سے پہلے خون کی باقاعدہ تشخیص ہونی چاہئے۔1948سے پہلے انتقال خون کے لئے شیشے کی بوتلیں استعمال ہوتی تھیں مگر 1948کے بعد ڈاکٹر کیپری والٹر نے پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال شروع کیا۔ایک صحت مند شخص 3ماہ بعد خون عطیہ کرسکتا ہے اور اس کا کوئی نقصان بھی نہیں۔ دنیا میں ہر سال 20 فیصد خون کے عطیات حاصل کیے جاتے ہیں جس کا نصف ترقی یافتہ ممالک سے حاصل کیا جاتا ہے جہاں دنیا کی صرف 15 فیصد آبادی مقیم ہے۔ ماہرین طب کے مطابق خون کا عطیہ 18سال سے 60سال کے افراد دے سکتے ہیں، خون کی ایک بوتل سے 4 انسانوںکی جان بچائی جا سکتی ہے۔
دنیا بھر میں طبی سائنس خون کا نعم البدل ایجاد نہیںکرسکی ،یہی وجہ ہے متاثرہ مریضوںکی جان بچانے کیلئے خون کے عطیات کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا میں 112.5ملین پوائنٹ خون اکٹھا کیا جاتا ہے جس میں سے 47فیصد خون ترقی یافتہ ممالک میں اکٹھا ہوتا ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا میں 57فیصد ملکوں میں100فیصد خون بلامعاوضہ خون عطیہ کرنے والے لوگوں سے لیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ عطیہ کیا گیا خون بہت سی طبی پیچیدگیوں، قدرتی آفات اور عمل جراحی کے دوران بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ماہرین امراض خون کے مطابق ایک صحت مند انسان کو سال میں زیادہ سے زیادہ 3 بار خون کا عطیہ دینا چاہئے۔ خون کا عطیہ دینے والے مختلف امراض سے محفوظ رہتے ہیں۔ماہرین کا خیال ہے کہ ہر انسان کے جسم میں 3 بوتل اضافی خون کا ذخیرہ موجود رہتا ہے۔عطیہ دینے والے کا کولیسٹرول لیول بھی قابو میں رہتا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ تین ماہ کے دوران نیا خون ذخیرے میں پہنچ جاتا ہے۔اس لئے نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ اس انسان کے جسم کی قوت مدافعت میں تیزی آ جاتی ہے۔خون کا عطیہ دینے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ عطیہ کنندہ کے خون کی باقاعدگی سے جانچ ہوتی رہتی ہے اور اْسے دیگر افراد کی نسبت مہلک بیماریوں اور ان سے بچائو کے بارے میں آگاہی ملتی رہتی ہے۔جہاں خون کا عطیہ کر نا، جانیں بچانے کے لئے بہت ضروری ہے وہیں اِس کے ساتھ ساتھ اس عطیہ کئے گئے خون کی اسکریننگ (یعنی خون کو جراثیموں سے پاک) کرنا بھی بہت ضروری ہے۔خون کا عطیہ دینے سے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے، خون کی روانی میں بہتری آتی ہے، دل کے امراض لاحق ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور فاضل کیلوریز جسم سے زائل ہوتی ہیں۔
جموں کشمیر میں بہت سے فلاحی ادارے خون کی فراہمی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ خون عطیہ کرنے کا عالمی دن ہم سے اس بات کا متقاضی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خون عطیہ کر کے مریضوں اور فلاحی اداروں کی معاونت کی جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔ لہٰذا اگر ان جوانوں کو عطیہ خون سے متعلق آگاہی دی جائے کہ خون عطیہ کریں زندگی کیلئے ، ایک بوتل خون دینے سے جسم کے اوپر کسی بھی طرح کی بیماری لاحق نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی کمزوری واقع ہوتی ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ ان کی ایک کی بوتل خون سے تھیلے سیمیا کا مریض دیگر علاج کے ساتھ تین دن اور جیتا ہے لہٰذا انہیں چاہئے کہ وہ آگے بڑھیں اورخون عطیہ کرنے کا نہ صرف فیصلہ کریں بلکہ اس پر عمل کریں۔خون عطیہ کرنے والے شبیر حسین خاکی جنہوں نے اپنی زندگی میں 160بار خون عطیہ کیا ، خون کے عالمی دن کے حوالے سے بتایا کہ جسم کے خون میں موجود اجزاء میں بعض اجزاء کی کمی سے تھیلیسیمیااور ہیمو فیلیا جیسی بیماری سامنے آتی ہے جس کا انجام سانسوں کا رک جانا ہے۔ان کا کہنا ہے’’ میرے خون سے اگر بچے کو چند لمحے بھی زندگی کے میسر آجائیں تو میرے لئے اللہ کی جانب سے یہ بہت بڑا اجر و انعام ہوگا۔ خون دینے کے بعد میری صحت پر آج تک کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘‘۔خاکی کا مزید کہنا ہے کہ زندگی کے سبھی فرائض بحسن و خوبی سرانجام دے رہا ہوں۔ حکومت کو چاہئے کہ جہاں وہ اس طرح کی تقریبات منعقد کراتی ہے جن سے عوام میں خون عطیہ کرنے کا ذوق بیدار ہوتا ہے، ایسی تقریبات میںشبیر حسین خاکی جیسے شہریوں کو بھی بلا کر نہ صرف اعزازات دیئے جانے چاہئیں بلکہ ان کی گفتگو اور خیالات کے ذریعے خون عطیہ کرنے کے جذبہ کو بھی پروان چڑھانا چاہئے۔جموں کشمیر کی سر زمین خون کے عطیات کے حوالے سے بھی زرخیزہے، وادی میں خون کے عطیات کے لئے لوگ پرجوش ہیں۔یہاں کتنے افراد موجود ہیں جنہوں نے 50سے زائد بار خون کا عطیہ دیا ہے۔ سماجی اور اخلاقی اعتبار سے خاندان کے جملہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے کام آئیں۔
خون کے عطیات سے ہر سال لاکھوں انسانوں کو نئی زندگیاں ملتی ہیں ۔ اگر مریض کو بروقت خون نہ مل پائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ ایسے حالات میں کسی انسان کو خون کا عطیہ دینا اسے نئی زندگی دینے کے مترادف ہے۔لوگوں کی رگوں میں دوڑتے خون سے انسانی زندگی کی ڈور بندھی ہوئی ہے۔ یہ احساس شدت سے اس وقت ہوتا ہے جب کسی بیماری یا حادثے کی صورت میں ہمارے کسی پیارے کو اچانک خون کی ضرورت پڑ جائے۔لائق تحسین اور قابل فخر ہیں وہ لوگ جو انسان کی جان بچانے خون کا عطیہ دیتے ہیں۔ رضاکارانہ خون عطیہ کرنے والے افراد کا کردار کسی فرشتے سے کم نہیں جو کسی نفع ،نقصان اور رشتے کے بغیر اپنا خون دے کر ایک انسانی زندگی کو بچاتے ہیں۔ کسی بیمار کو خون دینا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ اس سلسلے میں شعور اور آگاہی کے لیے 14 جون کو خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ خون کے عطیہ کے تعلق سے دیہی علاقوں کے عوام میں بیداری لانے کی اشد ضرورت ہے۔ حادثات کے موقع پر بری طرح زخمی ہونیوالے افراد کیلئے خون کا عطیہ کرتے ہوئے ان کی جان بچانے کیلئے اہم کردار نبھانے کاجذبہ دلوں میں پیدا ہوناچاہئے۔ انسانیت کاجذبہ اگر دلوں میں ہو تو اس سے کئی افراد ک بچایا جاسکتا ہے۔