شفاعت مقبول،ریسرچ اسکالر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
جموں و کشمیر کے تناظر میں دیکھیں تو ایک طالب علم کے لئے کیریر کی تعمیر دسویں جماعت کے بعد سے ہی شروع ہوجاتی ہے ۔انتخاب مجموعی طور سے سائنس ،کامرس اور آرٹس کے مضامین میں سے ہی کرنا ہوتا ہے ۔یہ مرحلہ طے ہوجاتا ہے تو بارہویں کے بعد گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے صحیح کورس اور صحیح کالج کا انتخاب کرنا اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے ۔پڑھائی کے میدان میں سے فارغ ہوکر برق رفتار دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو بہتر روزگار کی تلاش کا ایک جاں شکن سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔کیریر کے انتخاب کے حوالے سے جب بھی معاصر دنیا کے ممتاز اور اپنے شعبوں کے ماہر افراد جیسے کہ اے پی جے ابوالکلام (سابق صدر بھارتی جمہوریہ)اور سٹیو جابز(’ایپل ‘کمپنی کے بانی) سے پوچھا گیا تو مشترکہ طور پر جس بات پر انہوں نے زور دیا وہ یہ کہ کیریر کے لئے اسی میدان کا انتخاب کرنا بہتر ہے جس کے ساتھ آپ کی دلی وابستگی ہو،ایسا کرنے کے بعد ایسے شعبے میں قدم رکھئے جو اسی مضمون کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو(امریکی سماج میں اُسے Passion Hypothesisسے تعبیر کیا جاتا ہے )۔
لامحالہ اپنے لئے ایک صحیح کیریر کا انتخاب کرنا ایک ایسا عمل ہے جو مختلف پیچیدگیوں سے عبارت ہے ۔اگرچہ بھارت میں بالعموم اور جموں و کشمیر میں بالخصوص طلبہ کو کیریر کے انتخاب میںنسبتاً کم ہی اُلجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،بوجہ یہ کہ یہاں کے سماجی حلقوں میں اس بات کو قاعدۂ کلیہ تسلیم کیا جاچکا ہے کہ کسی بچے کی ذہانت جتنی زیادہ غیر معمولی ہے اتنا ہی وہ ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا استحقاق رکھتا ہے ۔یہ قاعدہ کس حد تک درست ہے؟ پھر کیا اس کے پیچھے یہ منطق کار فرما ہے کہ جو طلبہ کامرس اور آرٹس کے مضامین کا انتخاب کرتے ہیں وہ کمتر صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں؟اس کا جواب بنا کسی ابہام کے نفی میں ہی دیا جاسکتا ہے ۔تجربہ بتاتا ہے کہ کامرس اور آرٹس کے میدان میں جو طلبہ طبع آزمائی کرتے ہیں ،وہ ذہنی پختگی اور قوت ِادراک میں سائنس کے طلبہ کے ہم پلہ ہوتے ہیں اور بسا اوقات تو اُن سے بھی قدرے بہتر مظاہرہ کرتے ہیں۔لہٰذا مسئلہ دراصل زیر تعلیم طالب علموں کے ساتھ نہیں بلکہ مجموعی طور ہمارے سماج کی ذہنیت اصلاح کا تقاضا کرتی ہے ۔قوم کے معمار ہونے کی حیثیت سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان نو آموز اور ذر خیز اذہان کو فطری ارتقا کا موقع فراہم کریں اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ سازی کا مکمل اختیار دیں۔ہمیں عوام کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کرنی ہوگی کہ اگر ایک طالب علم طبیعیات (Physics)یا تشریح الاعضاء (Anatomy)کے مضامین نہیں پڑھتا تو اس وجہ سے اس کی قابلیت پر کوئی حرف نہیں آتا ۔ہمیں اپنے بچوں کے اندر یہ اعتماد پھونکنا ہوگا کہ وہ جس بھی شعبے کو اپنا میدان بنائیں گے ،اس میںاپنی قابلیت اور محنت کے جوہر دکھا سکتے ہیں۔
مذکورہ تحریر میں میرے پیش نظر کامرس اور منیجمنٹ کو بحیثیت ایک کیریرمنتخب کرنے پر روشنی ڈالنا ہے۔بھارت میں دسویں جماعت کے بعد طلبہ کثیر تعداد میں کامرس کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو بارہویں کے بعد اُن کے لئے متنوع مضامین کا دروازہ کھول دیتا ہے جس سے کہ نہ صرف انہیں قابل وقار سند مل جاتی ہے بلکہ معاشی خودمختاری بھی یقینی بن جاتی ہے ۔کامرس ایک ایسا مضمون ہے جو تجارت ،انٹر پرنیورشپ اور خرید و فروخت کے قواعد و ضوابط سے تعلق رکھتا ہے ۔مارکیٹ ،معاشیات ،صنعت کاری اور مالی امور سے متعلق منصوبہ بندی بھی اسی کے نصاب میں داخل ہیں۔ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو کامرس طلبہ کے لئے ایک بین الکلیاتی (Interdisciplinary)شعبے کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ کمپنی ،معیشت،انتظامیہ ،بزنس ،اکائونٹنسی،پرچون انسانی وسائل،مالیات،اشتہارات،بینکنگ،ای کامرس ،مینجمنٹ وغیرہ کے مضامین بھی شامل ہوتے ہیں ۔لہٰذا یہ سب موضوعات ا س بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ان کو سنجیدگی اور باریک بینی سے پڑھاجائے کیونکہ کسی بھی ملک کی اقتصادی صورت حال ان جیسے عوامل(صنعت و تجارت)ہی سے اثر انداز ہوتی ہے ۔کسی ملک کو اگر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو اس کا براہِ راست انحصار اس بات پر ہے کہ وہ تجارت اور معاشیات کے حوالے سے کیسا لائحہ عمل ترتیب دیتا ہے ۔تھامس گرےؔکے الفاظ میں :’’کامرس کسی بھی ملک کی تقدیر بدل کر رکھ سکتا ہے‘‘۔
کامرس میں کیریر کے مواقع:
بھارت میں MBAاورB.Com,M.Com،BBAکامرس کے شعبے میں بنیادی پروگراموں کی حیثیت رکھتے ہیں جو افراد آگے چل کر اختصاص حاصل کرنے کے شوقین ہوں،اُن کے لئےB.Com(Honors),B.Com E-commerce.Company Secretary(CS),Cost and Works Accountant(CMA),Chartered Finacial Analyst(CFA),Certified Management Accountant(CMA) Chartered Accountant(CA)جیسے مضامین کی ایک لمبی فہرست موجود ہے،جن میں سے وہ اپنی پسند کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔پوسٹ گریجویشن کی سطح پر MBAاورM.Comکے علاوہ،’ماسٹرس اِن فائنانشل کنٹرول‘۔’ماسٹرس آف کارپوریٹ سیکریٹری شپ‘۔’ماسٹرس اِن فائنانشل منیجمنٹ‘۔’ایم کام اِن مارکیٹنگ ‘۔’مارکیٹنگ اِن ہیومن ریسورس‘۔’ایم کام اِن کواپریٹیو منیجمنٹ‘اور ’اکاونٹنگ ٹیگزیشن‘، جیسے کورسز بھی شامل ہیں۔
کامرس اور مینجمنٹ میں روز گار کے مواقع:
ایک متنوع شعبہ ہونے کی وجہ سے کامرس اور منیجمنٹ کیریر کے حوالے سے لاتعداد متبادل فراہم کرتا ہے ۔Globalisation ,Foreign Banking e-commerceاورdemoneized financial systemکی بدولت روز گار کے مواقع میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔Chartered Accountantآج بھی صفِ اول کے پیشوں میں شمار ہوتا ہے جس کی خاطر فائنانس کے مضمون کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے طلبہ انتہائی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ایسے افراد آگے چل کر پھر Business Financial Management اوFinance,Audit,TaxationTجیسے شعبوں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔اس کے علاوہTaxationOfficer,Company Executive,Company Secretary(CS)بھی ایسے پیشے ہیں جن میں ایک جوجوان کامیاب کیریر اور بہتر روزگار کو یقینی بنا سکتا ہے۔صنعتی دنیا کے علاوہ کامرس کا ایک گریجویٹ یا پوسٹ گریجویٹ اکیڈمیکس میں بھیجاسکتا ہے کیونکہ کافی تعداد میں بزنس اسکولز اور اختصاصی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں کی بھرمار کے بعد اکیڈمیکس میں روز گار کے مواقع کثرت سے پیدا ہوگئے ہیں۔کامرس میں ڈگری رکھنے والے طلبہ اور بھی مختلف امتحانات کے لئے طالع آزمائی کرتے ہیں جیسے کہ Indian Statistical Services,Indian Economic ServicesاورRevenue departmentکے امتحانات ۔خصوصاًایسے لوگوں کے لئے کامرس انتہائی بہترین میدان ہے جو Bussiness Transactions,Numbers,Accountancy,Management,PoliciesاورCostسے متعلق چیزوں میں کسی حد تک دلچسپی رکھتے ہیں۔بینکنگ سیکٹر میں نوکری کو بھی فی الوقت ایک قابل عزت پیشہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک نوجوان کو معقول تنخواہ،مستقل روزگار اور سماجی قبولیت عطا کرتا ہے ۔دیگر پیشے جیسے کہ Consultant Investment,Insurance,Capital Market,Taxation,CompaniesLowاور ان سے ملتے جلتے میدان میں بھی قسمت آزمائی کے لئے موزون ہیں ۔اس طرح،سیلف ایمپلائمنٹ کے تحت ’اسٹاک بروکر‘۔’بزنس فرم‘۔’ٹریڈ کانسیلینٹ‘۔’فائنانشل اینالسٹ‘اور’ٹیکس کانسیلنٹ‘کی صورت میں بہت سے متبادل پیدا کئے جاسکتے ہیں۔
معاوضے کی نوعیت بہت سے عوامل پر منحصر ہوتی ہے جیسے کہ تعلیمی قابلیت،اختصاصی میدان ،ٹریننگ سے حاصل شدہ تجربہ،نوکری کی جگہ،ذمہ داریاں اور مالکان کی ذاتی توقعات۔لیکن ایک بات جو قطعی ہے ،وہ یہ کہ کسی بھی اور شعبے میں آپ کو مالی معاوضہ اتنا زیادہ اور اتنی جلدی ملنا مشکل ہے جتنا کہ کامرس اور منیجمنٹ کے شعبے میں مل سکتا ہے ۔لہٰذا چاہے حال ہی میں کوئی گریجویشن مکمل کرچکا نوجوان ہو یا پھر پوسٹ گریجویشن اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں رکھنے والا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ،دونوں کی کمائی دیگر لوگوں سے نسبتاً بہتر ہوتی ہے ۔ایک بزنس کینڈیٹ پندرہ ہزار سے لے کر چھ لاکھ روپے ماہانہ تک کوئی بھی اچھی خاصی رقم کماسکتا ہے۔ہاں لیکن کامرس کے مضمون سے تعلق رکھنے کے علاوہ ایک نوجوان کو اعداد ،کمپیوٹر ،اعداد و شمار پر مبنی ریکارڈ ،برق رفتاری سے حساب لگانے ،تنظیمی انتظام و انصرام ،شفافیت ،منطقی صلاحیت ،فیصلہ سازی کی قوت اور سرمایہ کاری کے متعلق عام معلومات ہونا بے حد ضروری ہیں۔
اگر آپ اپنے بچے میں متذکرہ بالا صلاحیتیں موجود پاتے ہیں تو یقین جانئے کہ وہ کامرس اور منیجمنٹ کے میدان میں خوب ترقی کرسکتا ہے اور سائنسی مضامین اس کی دلچسپی کے موضوعات نہیں ہیں۔آپ یہ اعتراض ضرور درج کرسکتے ہیں کہ ہماری ریاست میں اس طرح کے کیریر کے لئے مناسب مواقع میسر نہیں ہیں۔یہ بات اگرچہ درست ہے لیکن میں عرض کروں گا کہ سائنس اور انجینئرنگ کے طلبہ کے لئے بھی مستقبل فی الوقت غیر یقینی کا شکار ہے۔اس لئے محض اس وجہ سے کامرس اور منیجمنٹ جیسے شعبے سے اعراض برتنا درست نہیں ہے ۔لہٰذا ریاست کے حدود سے باہر نکل کر اگر دیکھا جائے تو کامرس اور منیجمنٹ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لئے بہتر مواقع دستیاب ہیں،اس لے ضروری ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسل کو اس طرز پر تیار کریں جیساکہ مارکیٹ ہم سے تقاضا کرتا ہے۔