صدارتی انتخابات کے کچھ ہی ماہ قبل امریکہ کی داخلی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور ہزاروں کی تعداد میں وہاں کے لوگ نسل پرستی کیخلاف سڑکوں پر آکر احتجاج درج کرارہے ہیں ۔وہاں اسیک سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کے قتل کیخلاف احتجاج نے اب عالمی نوعیت اختیار کرلی ہے یہاں تک کہ انگلستان ،آسٹریلیا،فرانس اور دوسرے ممالک میں بھی نسل پرستی کیخلاف منظم احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔انگلستان میں مظاہروں کے غصے کو مد نظر رکھتے ہوئے وہاںکے سابق وزیر اعظم ونسٹن چرچل کے مجسمے پر بھی پہرہ بٹھایا گیا ہے۔لیکن اس کے باوجود عالمی پولیس مین دوسرے ممالک پر اُنگلیاں اٹھانے سے نہیں چوک رہا ہے۔بیشتر مبصرین اس کو دنیا میں رائج یونی لیٹرل ازم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ باقی ماندہ دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم رکھے ہوئے ہے اور اس کو مستحکم بنانے کیلئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔اہل مغرب خاص کر اُن کا حکمران طبقہ گذشتہ کچھ صدیوں سے ایسی سوچ کا حامل رہاہے کہ اُنہیں پوری دنیا کی جیسے ذمہ داری عاید ہے اوراس پس منظر میںعالمی لیڈرشپ جیسے اُنہیں ملکیت میں ملی ہے، اس کیلئے انہوںنے سیاسی حکمرانی کی سطح پر بعض ایسے اقدامات عمل میں لائے ہیں جو ابھی تک بہت ہی مؤثر ثابت ہورہے ہیں۔
’ بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ کے امریکی سفارتکار، سیم برائون بیک نے 12جون کے روز بھارت کی موجودہ داخلی صورتحال کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بھارت میں فی الوقت جو کچھ ہورہا ہے اُس پر وا شنگٹن کو تشویش لاحق ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’بھارت میں مذہبی آزادی پر قدغن اور تشدد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور بھارت میں ایسے واقعات کو روکنے کے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جو باعث تشویش ہے ‘‘۔
اس سے کچھ گھنٹے قبل امریکہ نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق2019کی رپورٹ جاری کی ۔ اس رپورٹ میں سبھی ممالک کے بارے میں مذہبی آزادی سے متعلق حقائق درج ہیں اور اس میں بھارت کے اندر حال ہی میں پاس کئے گئے شہریت ترمیمی ایکٹ،جموں کشمیر میں اور اس سے متعلق پیش آئے واقعات، گائو کشی روکنے کے نام پر غنڈہ گردی اور دائیں بازو کے بعض لیڈران کی طرف سے اقلیتوں کیخلاف سخت اور قابل اعتراض بیانات کا خاص تذکرہ موجود ہے۔ان ساری باتوں کو لیکر ’ بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ کے امریکی سفارتکار سیم برائون بیک نے واشنگٹن میںنامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایک طرف اپنی تشویش کا اظہار کیا تو دوسری طرف بھارت کی تعریفیں بھی کیں۔ انہوں نے کہا’’بھارت تاریخی اعتبار سے مذہبی رواداری کا گہوارہ رہا ہے اس لئے وہاں پیش آنے والے واقعات زیادہ تشویشناک ہیں۔‘‘انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارتی حکومت نے تشدد اور مذہبی آزادی مخالف سرگرمیوں پر روک لگانے کے ا قدامات نہیں کئے تو تشدد میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جس سے بھارت کا پورا سماجی تانا بانا متاثر ہوسکتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر جونہی بھارت کیخلاف ایسی کوئی بات سامنے آتی ہے جس میں اُس کی اندر ونی صورتحال کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہو تو نئی دلی اس کیخلاف رد عمل ظاہر کرنے میں زیادہ وقت نہیں لیتی ہے۔مرکزی وزارت خارجہ نے ’ بین الاقوامی مذہبی آزادی‘ کے امریکی سفارتکار سیم برائون بیک کے تاثرات پر بھی رد عمل کا فوری اظہار کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سروواستو نے کہا ’’ہمارا اصولی مؤقف ہے کہ کسی بھی غیر ملکی قوت کو ہمارے شہریوں کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہیں جن کے حقوق کو آئینی تحفظ حاصل ہے‘‘۔
مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ کے بارے میں سری واستو کا کہنا تھا کہ یہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ہر سال جاری کی جاتی ہے اور یہ امریکی کانگریس کی ایک سالانہ قانونی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں جمہوری قدریں اور روایات کافی مضبوط ہیں جہاں مذہبی آزادی کے حق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ بھارت نے ہمیشہ دوسرے ممالک کی طرف سے اپنے ملک پر تبصرہ کرنے کی مخالفت کی ہے اور نریندرمودی کی سربراہی والی حکومت اس پالیسی پر سختی سے کاربند ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ رواں برس کے ماہ اپریل میں امریکی سٹیٹ کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے سفارش کی کہ وہ بھارت کو ’’مخصوص تشویش کے ممالک‘‘ کے ذمرے میں رکھے۔مذہبی آزادے سے متعلق مذکورہ امریکی اداروں نے یہ سفارش پاکستان،سعودی عرب ،شام ،ایران ، چین اور دوسرے آٹھ ممالک کے بارے میں بھی کی تھی جہاں بقول اُنکے مذہبی آزادی کے بارے میں رواداری نہیں دیکھی جارہی ہے۔امریکہ میں رائج قواعد و ضوابط کے مطابق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو مذہبی آزادی سے متعلق جاری رپورٹ پر جاری ہونے کے90دنوں کے اندر اقدامات عمل میں لانے ہوتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں خود واشنگٹن پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں جن میں نسل پرستی اور دوسرے ممالک کے ساتھ مذہب کی بنیاد پر الگ الگ برتائو کے الزامات قابل ذکر ہیں۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پہلے ماحولیات سے متعلق بین الاقوامی معاہدے سے دامن چھڑا یا، اس امریکی اقدام پر ابھی بین الاقوامی نقطہ چینی کا سلسلہ جاری تھا کہ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا اعلان کرکے مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے۔انہوں نے حال ہی میں عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد بین الاقوامی عدالت جرائم (آئی سی سی) کے افسران پر پابندی عائد کردی ۔اور تو اور جارج فلوائیڈنامی سیاہ فام کے بہیمانہ قتل کے تناظر میں پیدا صورتحال کو لیکر ٹرمپ کے بیانات کوعالمی مبصرین’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے امریکہ کے بارے میں یک رائے ہیں کہ وہاں سالہا سال گذرنے کے باوجود نسل پرستی کی جڑیں انتہائی گہرائی تک پیوست ہیں اور اس انسانیت کش نظریئے کو حکومت کی طرف سے حوصلہ افزائی حاصل ہے۔
گذشتہ چار پانچ صدیوں کے اندر مغرب میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیاں ہمہ گیر ہونے کے ساتھ ساتھ عالم گیر بھی ہیں۔ ان کی لپیٹ میں حیاتِ انسانی کا ہر شعبہ اور ہر فرد آیا ہے۔ مشرقی اور مسلم ممالک نے دانستہ اور نادانستہ اْن کے اثرات کو قبول کرلیا ہے، خاص کر مغرب کے تصور آزادی نے باقی ماندہ دنیا کو بے حد متاثر کر رکھا ہے۔
’حق آزادی‘ کا دورِ جدید میں مغرب نے بہت زیادہ چرچا کیا ہے۔ اگر سارے مغربی فلسفے کا تجزیہ کیا جائے تو وہ سارے کاسارا اسی بنیاد ی حق کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔’ آزادی‘ مغرب کی قدرِ مطلق ہے جس کی بنیادپر وہ اچھائی اور بْرائی کا فیصلہ کرتا ہے۔جس تصورِ حیات میں جس قدر’ آزادی ‘کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہو، مغرب کے ہاں وہ اسی قدر اہمیت کا حامل ہے۔
ہرفکر اپنے پس منظر میں ایک گہری ثقافت رکھتی ہے۔وہ اپنے حاملین کے مخصوص تاریخی رویے کا اظہار کرتی ہے۔چنانچہ اس کے قائلین کا عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی تعبیر کو پسند کرتے ہیں جو ان کی ثقافت کو مزید تاریخی جواز فراہم کرے اور ان کی قدیم تاریخی روش کی حوصلہ افزائی کرے۔
فرانسیسی انقلاب، سیاسی تغیر و تبدل کے حوالے سے قدیم و جدید کے دوران حد ِفاصل ہے۔ اگرچہ انقلابِِ فرانس سے پہلے بھی زندگی گزارنے کے لئے بالعموم سیکولر طرزِ فکر تشکیل دیاچکا تھا لیکن اسے باقاعدہ طور پر مرتب انقلاب کے بعد ہی کیا گیا،چنانچہ اس طرزِ فکر کو سیاسی و قانونی سطح پر تحفظ دینے اور معاشرتی سطح پر اس کی ترویج و تنفیذ کے لیے جو سیاسی نظامِ متعارف کرایا گیا وہ 'جمہوریت' تھا۔جمہوریت مغرب کا نظام حکمرانی ہے جس کی داخت پرداخت ہی اس طرح کی گئی ہے کہ وہ سیکولر فلسفہ سیاست کو تحفظ فراہم کرے۔تمام مخالفتوں کے باوجوداس نظام حکمرانی کے اندر معاشرے پر یہ واجب ہے کہ وہ آزادی اور مساوات پر مبنی ہو اور اس میں ان اقدار کی قدر کی جائے۔
تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ اہل مغرب جب ’آزادی‘ اور’مساوات‘ جیسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں تو ان کے پیچھے وہ تصورات یا فلسفہ وفکر مراد نہیں ہوتے جو اسلامی دنیا کے پیش نظر ہیں کیونکہ ان کا اپنا ایک علیحدہ فلسفہ حیات اور طرزِ فکر ہے ۔مخصوص تصورات کی ادائیگی کے لیے جب اہل فن الفاظ کا انتخاب کر کے ان پر اتفاق کر لیتے ہیں تو وہ الفاظ اصطلاحات بن جاتی ہیں۔ یعنی ہر اصطلاح اپنے پس منظر میں ایک تصور، سوچ اور فلسفہ رکھتی ہے۔ اور فلسفہ وفکر کسی قوم کے صدیوں کے تاریخی وثقافتی تعامل سے تشکیل پاتا ہے۔ چنانچہ ہر قوم کا اپنا ایک فلسفہ وفکر ہوتا ہے ،اس لیے اہل علم وفن اپنے افکار ونظریات کے اظہار کے لیے اصطلاحات وضع کرتے ہیں ، ان اصطلاحات میں دوسری قوم کے ساتھ لفظی اشتراک بھی پایا جاتا ہے تاہم الفاظ کا اشتراک تصورات کااشتراک قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔
امریکہ اور بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یکساں قسم کے باعث تشویش واقعات ہیں۔مبصرین کا ماننا ہے کہ نئی دلی اور واشنگٹن کے حکمران طبقے مختلف مگر خاص ذہنیت کے حامل ہیں جن کے سیاسی اہداف کئی پہلوئوں سے ایک جیسے ہیں۔ٹرمپ کی حالت فی الوقت کافی نازک ہے اور اُن کے پاس اپنے بچائو کے اقدامات کرنے کیلئے کافی کم وقت میسر ہے کیونکہ اُن کی مدت کار ماہ نومبر میں ختم ہونے والی ہے ۔اس کے برعکس نئی دلی کے حکمران طبقے کے پاس ابھی کم و بیش چار سال موجود ہیں جن کے دوران وہ ایسے اقدامات کرسکتے ہیں جن سے سر نو انتخابی نتائج اُن کے حق میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔