عداوت بے سبب زندگی سے کون کرتا ہے
جہاں میں خود کشی اپنی مرضی سے کون کرتا ہے
زندگی خالقِ کائنات کی طرف سے عطا کردہ ایک حسین نعمت ہے ۔خالقِ کائنات نے اس وسیع و عریض دنیا میں بے شمار وسائل جانداروں کے لیے مہیا رکھے ہیں ۔کبھی یہ وسائل انسانوں کے لیے بار آور ثابت ہوتے ہیں تو کبھی اس ترقی یافتہ چکا چوند کی دنیا میں انسان کچھ اس حد تک کھو جاتا ہے کہ اسے ان وسائل کے استعمال کا صحیح ہنر نظر نہیں آتا۔
زندگی میں خالقِ کائنات نے بے شمار مراحل رکھے ہیں ۔کبھی کسی کو بے تحاشا دُکھ ملتے ہیں تو کبھی اسی انسان کی راہ میں بے شمار خوشیاں دیر پا رہتی ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان ہمیشہ سے مفاد پرست رہا ہے یعنی جو چیزیں انسان کو فائدہ دیں یا جو چیز یں انسان کو مسرت فراہم کریں، انسان ایسی چیزوں کا ساتھ نہ صرف دیرپا بلکہ ہمیشہ کے لیے چاہتا ہے اور جن چیزوں سے انسان کو پریشانی ہو یا جو مسائل انسان کی زندگی کو اجیرن بنائے، انسان ایسی چیزوں سے ہمیشہ کے لیے نجات چاہتا ہے ۔دراصل خوشیاں اور غم انسانی زندگی کے دو پہلو ہے ۔جس طرح جہاں دھوپ ہوتی ہیں وہاں وقت آنے پر چھاؤں بھی ہوتی ہے ،بالکل اسی طرح جب ایک انسان کی زندگی میں خوشیاں آئیں تو لازم ہے کہ اس کی زندگی میں غم بھی آئیں گے۔ایک انسان کو چاہئے کہ ان دو پہلوؤں کو زندگی کی حقیقت سمجھ کر ان کو قبولیں تب جا کر جدید دور کے انسان کی زندگی آسان ہو سکتی ہے ۔انسان کو چاہئے کہ خد اپر پورا یقین رکھے اور زندگی کے مسائل کا مردانہ وار مقابلہ کرے ۔مصیبتوں کے سامنے چٹان بن کے کھڑا رہیں تب جا کر یہ آلام و مصائب جو کہ ایک مضبوط انسان کو بھی کبھی کبھی نہایت نحیف بناتے ہیں ۔ہمارے راستے سے خود بہ خود دور ہوجائیں گے۔
یہ بات بالکل عیاں ہے کہ موجودہ دور میںDEPRESSION یا ذہنی تنائو ایک عام سی بات بن گئی ہے ۔اگر ہم پوری دنیا کی بات کریں تو لگ بھگ اسی فیصدلوگ اس بیماری کا شکار ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اسی کے دباؤ میں آکر خود کی جانیں بھی لینے سے نہیں کتراتے۔یہ سچ ہے کہ کوئی انسان اپنی خوشی سے اپنی جان نہیں لے سکتا لیکن خود کشی جیسا سنگین جرم کرنے سے پہلے ہمیں صرف ایک بار اپنے اور اپنوں کے بارے میں سوچنا ضرروری ہے ۔نا ہی یہ زندگی اتنی سستی ہے اور نا ہی جان۔یعنی ہمیں زندگی صرف ایک بار خُدا کی طرف سے عطیہ میں مل گئی ہے تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں بنتا کہ اس کی حفاظت کریں ۔زندگی میں نام و نمود ہی سب کچھ نہیں ہوتا ۔حال ہی میں مشہور ٹی وی اداکار’ سشانت سنگھ راجپوت ‘کی خود کشی نے میرے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔میرا ذہن زیادہ منتشر اس لحاظ سے بھی ہوا کیوں کہ اس نے حال ہی میں ریلیز ہونے والی اپنی فلم ’’چھچھورے‘‘میں خود کشی کو ایک سنگین جرم اور ایک بزدلانہ فعل قرار دے کر ڈپریشن یا ذہنی تنائو سے لڑنے کے صدہا طریقے بیان کیے۔ انسان کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ،جان تو ہر انسان کی ایک جیسی ہوتی ہے،درد تو ہر ذی روح کو ایک جیسا ہوتا ہے ،اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ ہر ایک انسان کا ایک جیسا ہوتا ہے۔اس اداکار کو چھوڑ کر اگر ہم کسی بھی عام انسان ،جس نے اپنے مسائل کا واحد حل صرف خود کشی سمجھا ہو،کی بات کریںسے ہم قطعی طور اتفاق نہیں کر سکتے ۔ہمیں چاہیے کہ اپنے دل کی باتیں کسی نہ کسی خاص شخص سے کھل کر ضرور کریں ،یعنی اپنے مسائل کو اپنے دل میں دبا کے اپنے آپ کی زندگی اجیرن نہ بنائے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو اسکولوں اور کالجوں میںذہنی صحت( MENTAL HEALTH)کا صحیح مطلب سمجھائے۔ اس سلسلے میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین کو کوشاں رہنا ہے ۔ہمیں خود بھی اپنے بچوں کو بچپن سے ہی جسم کے ساتھ ساتھ دماغی طور بھی تندرست بنانا ہوگا ،ساتھ ہی ساتھ مذہب کی تعلیم اور خُداکی عبادت سے بھی انسان کو مسائل کا واضح حل مل سکتا ہے ۔یہ سچ ہے کہ محض شہرت اور نام و نمود کا تعلق انسان کی خوشی سے قطعی نہیں ہے اور چین و سکون ایک الگ ہی چیز ہے جو کہ خدا کسی کسی کو نصیب فرماتا ہے ۔خود کشی کو تو لوگ ایک بزدلانہ فعل تو قرار دیتے ہیں لیکن یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس فعل کو انجام دینے کے لیے کتنی ہمت درکار ہوتی ہے ،لیکن اے لوگو جب بھی اس طرح کا وسوسہ کسی بھی شخص کے ذہن میں آئے تو اسے چاہیے کہ خُدا کے حضور میں سجدے کے لیے گر جائیں اور اپنے رب سے مدد مانگے ۔اتنا ہی نہیں اگر کسی شخص کو اس طرح کے خیالات آرہے ہوں تو اسے چاہیے کہ کسی ماہرِ نفسیات سے صلاح مشورہ کرے ۔اگر چہ ہمارے معاشرے میں دماغی امراض کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے جو کہ بالکل ہی غلط ہے ۔میرے خیال میں دماغ کی نشو و نما ہی جائز طریقے سے انجام دی جائیں تو شائد ہم کسی حد تک ذہنی تنائو(DEPRESSION)ُپر قابو پا سکتے ہیں ۔ساتھ ہی ساتھ اس فعل کو بھی نظر انداز کر کے اس بات پر غور کرنا ہے کہ خُدا کیا کہے گا ؟یعنی اگر اپنی جان دیں گے تو ہم اپنے رب کو کیا جواب دیں گے ۔
اس لیے ہم انسانوں کی مسائل کے حل کے لیے نہ صرف ایک دوسرے کے شانہ بہ شانہ چلنا ہو گا بلکہ ایک دوسرے کا ہر سطح پر خیر اندیش بھی بننا ہو گا تب جا کر ہم ایک ایسے سماج کی تشکیل کر سکتے ہیں جو واقعی ایک فخریہ سماج کہلانے کا مستحق ہو گا۔ہمیں اس قول کو بھی نظر انداز نہیں کرنا ہے کہ خُدا جو بھی کرتا ہے وہ ہمارے بھلے کے لیے ہی ہوتا ہے۔تب جا کر ہم زندگی جو کہ ایک امانت ہے کی بہتر طریقے سے حفاظت کر سکتے ہیں ۔ساتھ ہی ساتھ پیسہ ،جو کہ مادی دنیا کی اہم ضرورت بن گیا ہے ،کے پیچھے جا کر اپنوں کی اہمیت کو نظر انداز نہ کریں ،تب جا کر ہم صحیح معنوں میں اشرا ف المخلوقات کہلانے کے مستحق بن سکتے ہیں ۔
ریسرچ اسکالر شعبہ اردو سینٹرل یونی ورسٹی آف کشمیر
ای میل:۔[email protected]