یہ ایک حقیقت ہے کہ کرونا لاک ڈاؤن نے زندگی کے ہر شعبہ کو تقریباً مفلوج کرکے رکھ دیا ہے تاہم کچھ شعبے زیادہ ہی متاثر ہوگئے ہیںجن میں سے مزدور، دوکاندار اور ٹرانسپورٹر قابل ذکر ہیں۔ اس لاک ڈاؤن سے ملک ا قتصادی و معاشی بحران کا شکار ہواہے اور اس کی تلافی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دے رہا ہے ۔عام مزدوروں کو مزدوری نہ ملنے سے ان کی زندگی اجیرن بن گئی ہے اور ان کے بچے بھوک و افلاس سے نڈھال ہورہے ہیں مگر معاشرے میں کہیں ان کا کوئی ہمدرد و غمخوار نہیں ہے یہاں تک کہ ان کو اس وبا میں بھی کسی نے ایک عدد ماسک تک فراہم نہیں کیا۔ اس لاک ڈاؤن میں لوگوں کو مزدوروں کی ضرورت نہیں پڑرہی ہے کیونکہ عام لوگ اب اپنے ہی گھروں میں بیٹھے ہیں اور خود یہ کام انجام دیکر سمجھتے ہیں کہ کیونکر میں آج مزدور کو مزدوری پر رکھ دوں اور جو روپے مزدور کو دیا جائے وہ خود اپنے ہی جیب میں جائیں جو لوگ مزدوری پر اپنا گزارہ کرتے تھے وہ بے بس اور لاچار ہوگئے ہیں جو دن میں کماکر رات کو اپنے اہل وعیال کو کھلاتے تھے ،وہ اپنے ہی گھروں میں سکڑ کر اپنے اہل وعیال کیلئے ایک وقت کی روٹی تک میسر نہیں کررہے ہیں ۔عام لوگوں کی اور بات، گورنمنٹ بھی ان کی تئیں بے بس نظر آرہی ہے اور یہ مزدور طبقہ رات کی تاریکیوں میں اپنے بستر پر کروٹیں بدل بدل کر اب بے چینی اور بے آرامی کا شکار ہوگئے ہیں اور اپنی بے بس زندگی سے تنگ آکر اب زندگی کے بجائے موت کو گلے لگانا بہتر سمجھتے ہیں کیونکہ ان کو بچوں کی بھوک جینے نہیں دے رہی ہے۔ا گر دیکھا جائے تو سماج میں ایسے ہی ناسوروں سے کرائم ریٹ بڑھ جاتی ہے اورجرائم پیشہ افراد جنم لیتے ہیں۔ جب معاشرہ کسی شخص کو نظرانداز کرتا ہے تو وہ شخص ایسے کام کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے جس کے کرنے سے انسانیت شرمسار ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو صرف عبادت وریاضت کیلئے پیدا نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے اور کام آنے کیلئے پیدا کیا ہے مگر آج کل کے لوگ اس رحمت سے کوسوں دور ہیں۔ وہ اپنااور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے میں ہی بھلائی سمجھتے ہیں ۔اسی خود غرضی نے ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیا ہے۔ ہم بظاہر انسان ہیں مگر ہیں زندہ لاشیں کیونکہ ہم سب کچھ سنتے اور دیکھتے ہیں مگر ہم میں یہ حس یااحساس نہیں کہ ہم دوسروں کی بھلائی کے لیے سوچیں۔ اگر ہم سب صرف دس دس روپے نکال کر کسی فلاحی ادارے میں جمع کریں گے تو کوئی بھوکا نہیں سوئے گا اور کوئی پیاسا نہیں رہے گا، ہر کسی کے پاس رہنے کیلئے گھر ہوتا، ہزاروں کی تعداد میں بالغ لڑکیاں غیر شادی شدہ نہیں ہوتیں اور اسی انتظار میں نہیں مرتیںکہ ان کے ہاتھ بھی مہندی سے پیلے ہوں گے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا۔ ہم نے ان لوگوں کو پست پشت ڈال کر ان کو تنہا رہنے پر مجبور کیا۔
یہ دنیا اجتماعی زندگی گزارنے کے لئے بنی تھی جبکہ انفرادی زندگی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے مگر ہم نے اجتماعی زندگی اب انفرادی زندگی میں بدل دی اور ڈاکٹر اقبال کی خودی کے شاہین کو ہی مار ڈالااور ان کے خوابوں کو چکناچور کردیا۔آج کل کے دکھاوے نے بھی انسانیت کا بیڑا غرق کیا کیونکہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ بھی دیتے ہیں، اس کو پوری طرح سے تشہیر نہ ملنے تک ہم چین سے نہیں بیٹھتے ہیں۔ اس دکھاوے سے بھی مفلوک الحال طبقہ متاثر ہواہے کیونکہ وہ اب مدد لینے سے شرمندگی محسوس کررہے ہیں اور ایسی امداد لینے سے کترا رہے ہیں جس میں تشہیر زیادہ ہو۔ غریب غریبی سے مرنا چاہتا ہے، بھوک سے مرنا چاہتا ہے، افلاس سے مرنا چاہتا ہے مگر امداد لیتے وقت فوٹو کھینچنے سے یا ویڈیو گرافی سے مرنا نہیں چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس وسیع تر کائنات میں بہت سی مخلوقات پیدا کی ہیں مگر ان مخلوقات میں سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا ہے کیونکہ یہ واحد مخلوق ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل کی دولت سے مالا مال کیا تھااور فہم و فراست عطا کی۔اسی عقل کو بروئے کار لانے کی ضرورت تھی مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور ہم وحشی بن گئے اور اسی وحشی پن میں انسانیت بھول گئے ۔ہم میں خودستائی نے جنم لیا اور ہم میں ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پنپ رہی ہیں اور اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنے لگے اور دوسروں کے بارے میں سوچنے سے قاصر ہیں ۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اپنے آپ کو پھر سے بدلنے کی کوشش کریں اور انسانیت کا ثبوت پیش کرکے ایک دوسرے کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرنا بند کریں اور حقوق العباد کو سمجھتے ہوئے انسان کی طرح رہنا سیکھیں تاکہ نجات مل سکے۔
رابطہ : خانپورہ کھاگ،7006259067