سرینگر//رواں برس کوروناوائرس کے چلتے حج کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر سعودی حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔سعودی وزرات صحت کا کہنا ہے کہ فیصلہ عوام الناس کے بہترین مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔سعودی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے کہا ہے کہ حج کے حوالے سے معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے فیصلہ عوام الناس کے بہترین مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ترجمان صحت نے یہ بات ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان صحت نے کہا ’’جیسا کہ ماضی میں مختلف موقعوں پر حالات کا جائزہ لینے کے بعد ان کے تمام پہلوں پر غور کر کے فیصلہ کیا جاتا رہا اس بار بھی ایسا ہی کیا جائے گا، اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ سعودی عرب اور اسکی قیادت و عوام اور تمام ادارے ہمیشہ سے ہی حرمین شریفین اور ضیوف الرحمان و معتمرین و زائرین مسجد الحرام کی خدمت اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔تمام ادارے عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے (حج) اس حوالے سے موضوع پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں جس میں تمام پہلوں کو باریک بینی سے جانچا جائے گا اس کے بعد ہی لوگوں کے بہترین مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلہ جاری کیا جائے گا جس میں تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہو۔‘‘مزید کہا کہ 21 جون کے بعد کی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی طور پر مطلع کریں گے تاکہ کورونا وائرس سے بچائو کیلئے آئندہ کے مرحلے میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جاسکیں۔ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان صحت ڈاکٹر محمد العبدالعالی نے کہا کہ ’ کورونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے بارے میں جامع حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے.۔