ملا نصیر الدین کا بیوی کے ساتھ چٹکلہ
ملا نصیر الدین کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ وہ حورتو نامی گاوں میں پیدا ہوئے۔ یہ گاوں ترکی کے صوبے حشار میں واقع ہے۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم ہے۔ ملانصیرالدین کے ویسے تو بہت سے قصے اور کہانیاں مشہور ہیں جن میں سبق آموز اور مزاحیہ بھی ہیں۔ اسi طرح کا ایک واقعہ ہے۔
ملا نصیرالدین خود کافی خوبصورت اورجیہہ و شکیل تھے جبکہ انکی بیوی خوبصورت نہ تھی۔
ایک روز بیوی کو غور سے دیکھ کر ملا کہنے لگے :’’بیگم تم بھی جنتی ہو اور میں بھی جنتی‘‘۔
بیوی نے پوچھا ’’ یہ اندازہ کیسے لگایا ؟ ‘‘
ملا نصیر الدین بولے
’’ اس لئے کہ جب تم مجھے دیکھتی ہو تو اللہ کا شکر ادا کرتی ہو جب میں تمہیں دیکھتا ہوں تو صبر کرتا ہوں ‘‘۔
نظم
گوری کا سالن
تھیلے میں سبزی کے بیٹھے
گاجر نے خاموشی توڑی
آلو چا چا آلو چا چا
دھیرے دھیرے گاجر بولی
آلو بولا کیا ہے گاجر
وہ بولی بات کرو چاچا
کتنے خوش تھے بولا آلو
ہم تم تھے مٹی کے اندر
اب گوبی نے بھی منہ کھولا
دونوں کو سمجھا دے کھیرا
بولوں کیا میں بولا کھیرا
دم گھٹتا تھیلے میں میرا
بینگن روتے روتے بولا
بننا ہے ہم سب کو سالن
ہانڈی پہ چڑھائیں گے ہم کو
کھائے گا گوری کا ساجن
اشرف عادل
کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر
ر ابطہ: 9906540315
دلچسپ معلومات!
اپنے بچوں کوپروں میں اٹھا کر اڑنے والاپرندہ
بچو! یہ تو اپ کو معلوم ہوگا کہ کینگرو اپنے بچوں کو ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں لیکن آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک پرندہ ایسا بھی ہے، جس کا نر اپنے بچوں کو بچانے کی ہرممکن کوشش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایک ساتھ کئی بچوں کو اپنے پروں میں چھپاکر اس وقت تک سفر کرتا ہے جب تک کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں مل جاتا۔ اس پرندے کا نام کومب کرسٹیڈ جیکانا ہے ۔وہ بصورت پرندہ کنول بھری جھیلوں میں رہنا پسند کرتا ہے اوراپنی خاص ٹانگوں کی بدولت باآسانی پتوں پر دوڑتا رہتا ہے۔ ایک وقت میں یہ چار بچوں کو اٹھا کر چل سکتا ہے اور وزن بانٹنے کیلئے یہ انہیں دائیں بائیں رکھتا ہے۔
جیکانا کنول کے بیج، پانی کے کیڑے اور دیگر کیڑے مکوڑے رغبت سے کھاتا ہے۔ماہرین کے مطابق نرپرندے کا یہ رویہ بہت انوکھا ہے۔ یہ بہت شرمیلا جاندار ہے۔جیکانا پرندے نیوگنی، آسٹریلیا اور بورنیو میں پائے جاتے ہیں۔نر ہی ان بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کرتا ہے۔پرندے کے 80 فیصد گھونسلے بچوں کی آمد تک تباہ ہوجاتے ہیں یا بکھر جاتے ہیں اور اسی بنا پر یہ بار بار گھونسلہ بناتا ہے اور اس کے لیے بچوں کو اٹھا کر ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتا ہے۔ بسا اوقات جیکانا انڈوں کو بھی ایک سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔
Flower Mantis
یہ کیڑاPraying Mantis نامی کیڑوں کی ان اقسام میں سے ایک ہے جو بالکل کسی پھول کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کیڑے پودوں کے اوپر اس وقت تک چڑھتے رہتے ہیں جب تک یہ اپنے مطلوبہ پھول تک نہیں پہنچ جاتے اور اپنے شکار کے انتظار تک پھول پر ہی براجمان رہتے ہیں۔
بوجھو تو جانیں…!
1۔منہ سے تو وہ کچھ بھی نہ بولی اک اک بات مگر ہے کھولی
ہے وہ علم کا اک خزانہ رکھے پاس اسے ہر دانا
2۔غور کرو اور دیکھو بھالو چاہے پی لو چاہے کھالو
3۔گرچہ وضو کرتا نہیں دیتا ہے اذانیں
کیا نام ہے اس شوخ کا بتلائوتو جانیں
4۔کالے بن کی کا لی ماسی
ہے وہ سب کے خون کی پیاسی
5۔گوداموں میں مال چھپائے پہرا دے ، کچھ نہ بتائے
پتھر دل سے پڑ گیا پالابوجھ سکھی کیا ہے یہ نرالا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گُد گُدیاں…!
خط
ماں: بیٹا! یہ کیا لکھ رہے ہو؟
بیٹا: سلیم کو خط لکھ رہا ہوں۔
ماں: مگر تم کو تو لکھنا نہیں آتا۔
بیٹا: تو کیا ہوا سلیم کو بھی پڑھنا نہیں آتا۔
٭…٭…٭
ٹیلی ویژن
ایک بوڑھا: میرا خیال ہے کہ ٹیلی ویژن اخبار کی جگہ لے لے گا۔
دوسرا: احمق کہیں کے، بھلا ٹیلی ویژن سے بھی کبہی مکھیاں اُڑا سکتا ہے؟
٭…٭…٭
ٹھنڈا پانی
بڑی سخت سردی تھی۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نو پوچھا تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟
بیوقوف بولا: پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا۔
٭…٭…٭
لیکچر
نئے پروفیسر نے سینئر پروفیسر سے پوچھا۔ " کلاس کو لیکچر کیسے دیا جاتا ہے۔"
سینئر پروفیسر نے کہا: "بہت آسان ہے کلاس میں جا کر کھڑے ہو کر آہستہ سے لیکچر شروع کر دو۔ جب لیکچر ختم ہو تو احتیاط کے ساتھ کلاس سے نکل جاؤ۔"
نئے پروفیسر نے کہا: "احتیاط سے کیوں؟"
سینئر پروفیسر نے کہا: "اس لیے کہ کہیں کلاس تمہارے جوتوں کی آواز سے نہ جاگ جائے۔
٭…٭…٭
ٹیسٹ
ایک بیوقوف اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا، چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے کہا: "ان کا ٹیسٹ ہو گا۔"
بیوقوف نے کہا: "ٹیسٹ چھوڑیں، ون ڈے کروالیں۔"
لاک ڈائون
کہانی
اسحاق عباس
جوں جوں منزل قریب ہوتی جا رہی تھی، عقیدت کی پھوار اس کی آنکھوں میں چمک کی صورت پھوٹ رہی تھی، کچھ بعید نہیں تھا کہ سفر کی طوالت اس کے معصوم سے دل کو کچوکے لگا کر زخمی کر دے اور جو رقت اس پر طاری تھی آنسووں کے سیلاب میں بدل جائے۔
گاڑی جب چوک سے بائیں جانب مڑی تو سنہری حروف میں جگمگاتا ہوا نام، وہ نام جس کو دیکھنے کی تمنا نے کتنے ہی دن اسے الجھائے رکھا، ماضی کی ان حسین یادوں نے کتنی ساعتیں اس کو کھلی آنکھوں سپنے بننے پر مجبور کئے رکھا، اس نام کو اپنی نگاہوں کے سامنے پا کر وہ بیخود سی ہو گء، اسے اپنی آنکھوں پر چنداں یقین نہ آتا اور وہ ان لمحوں کو بھی خواب گردانتی اگر ڈرایور گاڑی روک کر نہ کہتا کہ "بی بی جی آپ ادھر اتر جائیے آگے کافی رش ہے‘‘۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ منظر، وہ عمارت، وہ نام کسی طویل اور صبر آزما تیزو تند آندھیوں اور ابر آلود موسموں کے بعد ابھرنے والے پرکشش سورج کی مانند اپنی بھرپور آب و تاب کے ساتھ ایک بار پھر دمک رہا ہو۔
اس کی بھرپور آنکھوں نے وہ تمام مناظر اس ایک عرصے کے بعد جب دوبارہ دیکھے تو آنسووں کی ایک لڑی جس میں خوشی اور آزادی کی آمیزش تھی، اس کے رخسار سے پھسلنے لگی اور وہ کسی ننھے بچے کی طرح کبھی ادھر کبھی ادھر پلٹ جھپٹ کر آس پاس کے نظاروں سے ایسے لطف اندوز ہونے لگی جیسے وہ شاہراہیں، وہ گاڑیاں، وہ دکانیں، وہ سب کچھ کسی طلسمی دنیا کے شاہکار ہوں، اور وہ خود کبھی بہت پرانے زمانوں میں ان کا حصہ رہی ہو اور افتخار عارف کا مشہور مصرع اس کی زبان پر رقص کرنے لگا ۔
یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
جب سے لاک ڈاون کے خاتمے کا اعلان ہوا تھا یہ پہلی بار تھی کہ اس نے گھر سے باہر قدم رکھا تھا۔
سخت کرفیو اور باہر پھیلتی ہوئی بیماری کے خوف نے اس کی شدید ترین خواہشات پر ایک عرصہ سے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ اس لئے آج جب کہ اس کے انتظار کی یہ گھڑیاں ختم ہونے کو تھیں وہ اپنے جزبات کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بلاوجہ ہی کھل کھلا کر ہنس رہی تھی۔ گاڑی جونہی اس جگمگاتی عمارت کے سامنے رکی وہ بے اختیار اس سے اتری اور تیز قدموں سے چلتی ہوء عمارت کے بلند و بالا بیرونی دروازے کی جانب لپکی اور شدت جزبات میں آکر اس کے مرمریں فرش کو کسی عقیدت مند کی مٹی سے عقیدت کی طرح چومنے لگی اور اس کی رقت آمیز سسکیاں زار و قطار رونے میں تبدیل ہوتی گئیں اور وہ روتے روتے بیہوش ہوگء۔
آج مہینوں بعد اس کے ہر دلعزیز شاپنگ پلازہ کے کھل جانے کی خوشی اور اس جگمگاتے ہوئے بلند و بالا مال(mall) کی بہال ہوتی چکاچوند اور ایک بار پھر خریداری کی مردہ ہوچکی خواہشات کے زندہ ہوجانے سے اس کے اعصاب پر بہت گہرا اثر پڑا تھا۔
گزشتہ ہفتہ کے صحیح جوابات۔۔۔
پہیلیاں
1: کرین(بوجھ اٹھانے کا آلہ)
2: قلم
جملے صحیح ترتیب میں
اترپردیش ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست ہے۔
گلاب کا رنگ لال ہے۔
میں جموںوکشمیر میں رہتا ہوں۔
یہ گرمی کا موسم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہے بڑی کی ریاست سب اترپردیش سے ہندوستان
رنگ کا لال گلاب ہے
میں جموںوکشمیر ہوں رہتا میں
موسم یہ گرمی ہے کا
مکمل محاورے
1۔اپنے منہ میاں مٹھو
2۔کھودا پہاڑ نکلاچوہا
3۔مگرمچھ کے آنسو
4۔دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا
5۔آسمان سے گرا،کھجور میںاٹکا
صحیح جوابات دینے والے
بلال سہیل بذریعہ ای میل ایڈرس [email protected]
نوٹ
صحیح جوابات دینے والوں کے نام اگلے شمارے میں شائع کئے جائیں گے ۔بچے اپنے نام اور پتہ کے ساتھ صحیح جوابات [email protected] پر ارسال کرسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ بچے اپنے فن پارے ،نظمیں،چھوٹی کہانیاں بھی اشاعت کیلئے اس ای میل ایڈرس پر بھیج سکتے ہیں۔