کورونا وائرس کی عالمگیر وباء کو پھیلنے سے روکنے کیلئے وزیراعظم نریندرمودی نے 24مارچ کو ملک گیر لاک ڈائون کا اعلان کیا ۔لاک ڈائون کے نتیجے میں ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیرمیں بھی کاروباری ،تعلیمی اور دیگر تمام سرگرمیاں بند ہوگئیں۔سرکاری ونجی دفاتر،بازار،سنیما ہال،مال ،مذہبی مقامات ،تفریحی جگہوں پرتالے چڑھائے گئے۔ظاہر ہے کووِڈ – 19کی روکتھام کیلئے یہ تمام اقدام لازمی تھے۔ان کے نتیجے میں ہماری روزمرہ کی زندگی کے تمام شعبے ٹھپ ہوگئے۔اِس لاک ڈائون کے نتیجے میں دیگر شعبو ں کے ساتھ ساتھ ہمارا تعلیمی شعبہ بھی متاثر ہوا۔وادی میں اسکولوں میں کام کاج گزشتہ برس اگست میں پیدا ہوئی صورتحال کے بعد مارچ مہینے میں دوبارہ بحال ہوا تھا لیکن ملک گیر لاک ڈائون کے ساتھ ہی اسکول پھر بند ہوگئے اور تاحال بند ہیں اور یوں ہمارا تعلیمی شعبہ گزشتہ نوماہ سے زیادہ عرصے سے متاثر ہے۔
اسکول اگرچہ بندہیں،لیکن کچھ عرصے سے نجی اسکول خبروں میں آنے لگے ہیں۔وہ اس لئے کہ کئی اسکولوں نے طلبہ سے فیس ادا کرنے کاتقاضاکیا ہے۔اس پر والدین نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بچے اسکول گئے ہی نہیں تو فیس اداکرنے کاکیاجواز ہے۔والدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاک ڈائون کی وجہ سے اکثر لوگوں کی اقتصادی حالت کمزور ہوچکی ہے اور ان حالات میں بچوں سے فیس کاتقاضا کرنا زیب نہیں دیتا۔اسکول منتظمین کا کہنا ہے کہ اگر والدین بچوں کی فیس ادا نہیں کریں گے تو وہ اساتذہ کو تنخواہ نہیں دے پائیں گے۔ایک پرائیویٹ اسکول کے پرنسپل نے کہا کہ اکثرنجی اسکولوں میں متوسط اورغریب طبقے کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہ اسکول بھی ان سے قلیل فیس ہی وصول کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ والدین کے تعاون کے بغیر اکثراسکول اساتذہ کو ماہانہ تنخواہ بھی وقت پرادانہیں کرسکتے۔یہ بھی تاہم سچ ہے کہ وادی کے کئی نامی گرامی اسکول والدین سے لاکھوں روپے ڈونیشن کے طور وصول کرتے ہیں اور ماہانہ فیس بھی یہ سکول ہزاروں میں وصول کرتے ہیں ۔ ان اسکولوں کیلئے اساتذہ کو لاک ڈائون کے دوران تنخواہ دینا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
والدین کو اُس وقت حیرت ہوئی جب حکومت نے نجی اسکولوں کو لاک ڈائون کی مدت کے دوران صرف ٹیوشن فیس وصول کرنے کی اجازت دی۔حکومت نے اس حکم کیلئے یہ جواز پیش کیا کہ اسکولوں کو اساتذہ کوتنخواہ دینی ہے جولاک ڈائون کے دوران باضابطہ طورآن لائن بچوں کو پڑھاتے ہیں ۔والدین نجی اسکولوں پرزیادہ فیس وصول کرنے کاالزام لگاتے ہیں اورنجی اسکول اساتذہ کو تنخواہیں دینے کا بہانہ بنا کرپروالدین سے بچوں کی فیس اداکاتقاضا کرتے ہیں۔نجی اسکول تاہم اساتذہ کو دیئے جانے والے تنخواہ کی رقم ظاہر ہی نہیں کرتے۔والدین کی مسلسل مانگ پر بھی کسی ایک بھی اسکول نے ابھی تک اساتذہ کو دی جانے والی تنخواہ کی تفصیلات عوام کی آگاہی کیلئے مشتہر ہی نہیں کی ،تاکہ وہ اپنے مطالبے کو جوازبخشتے۔حقیقت یہ ہے کہ اساتذہ کو یہ اسکول بہت ہی قلیل تنخواہ دیتے ہیں اور والدین سے موٹی رقم فیس کے طور وصول کرتے ہیں، اس میں اساتذہ کی تنخواہ کے علاوہ دوسرے مدوں پر بھی اخراجات کو شامل کرکے اسکول معقول منافع حاصل کرتے ہیں ،لیکن ان اسکولوں میں کام کررہے اساتذہ کی حالت زار کی طرف شاذ ہی کبھی کوئی توجہ دی جاتی ہے۔والدین سے فیس وصول کرنے کے بعد ان اسکولوں کی انتظامیہ اپنے منافع کاجواز اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے سے پیش کرتے ہیں لیکن اساتذہ جو سرکاری اسکولوں کے اساتذہ سے بہت زیادہ محنت کے ساتھ بچوں کو درس دیتے ہیں ،شکایات کرتے ہیں کہ ان کی تنخواہ کم ہے،تنخواہوں میںسالانہ اوردیگر مراعات تو ان کیلئے ایک خواب ہی ہے ۔سرکاری اعداوشمار کے مطابق جموں کشمیرمیں7010نجی اسکول ہیں جن میںکشمیرمیں 2710اورجموں میں4300ہیں۔ان میں سے وادی کشمیرمیں1542پرائمری سطح تک تعلیم دیتے ہیں جبکہ2135مڈل اسکول ہیں اور1338ہائی اسکول اور444ہائراسکینڈری اسکول ہیں ۔ نجی اسکولوں میں زیرتعلیم کل بچوں کی تعدادساڑھے سات لاکھ ہے۔یہ اسکول 40000 اساتذہ اور ڈرائیوروں اورہیلپروں سمیت25000 غیرتدریسی عملہ کوروزگار فراہم کرتے ہیں ۔ محفوظ روزگارکی کسی ضمانت کے بغیر ان اساتذہ کوعموماًحکومت کی طرف سے روزانہ اُجرت پر کام کرنے والوں سے کم تنخواہ دی جاتی ہے ۔اکثر ان اساتذہ کی خدمات مارچ میں حاصل کی جاتی ہے اور اکتوبر میں انہیں نوکری سے کسی بہانے فارغ کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جائے۔اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اساتذہ کو موسم سرما میں دی جانی والی تنخواہ کو بچت کیا جائے۔اس کیلئے اسکولوں کی انتظامیہ اساتذہ کیلئے اسکول میں کام کرنے کو کسی بہانے مشکل بنا دیتی ہے جیسے انہیں کوئی اور کام بھی دیا جاتا ہے یا ان پر ذہنی دبائو ڈال کر انہیں نوکری چھوڑنے پر مجبور کیاجاتا ہے ۔ان اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کے مطابق انہیں 7000سے8000روپے ماہانہ دئیے جاتے ہیں ماسوائے چند ایک اسکولوں کے جو نجی اسکولوں کی مجموعی تعداد کا ایک یادوفیصد ہوں گے،جواپنے اساتذہ کو20000سے30000تک ماہانہ تنخواہ ادا کرتے ہیں۔
نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو قریب سے گزشتہ دس بارہ سال سے دیکھنے کے بعد یہ بات عیاں ہے کہ ان اسکولوں میں کام کرنے والے اکثر اساتذہ کااسکول انتظامیہ استحصال کرتی ہے۔تاہم اسکول انتظامیہ اس کاالزام والدین پر عائد کرتے ہیں کہ وہ وقت پر فیس ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے اسکول انتظامیہ کواساتذہ کو ہر ماہ وقت پر تنخواہ اداکرنے میں دقت ہوتی ہے،چہ جائیکہ دیگر مراعات۔دوسرے طرف اساتذہ کاالزام ہے کہ ان اسکولوں میں تنخواہ کی کوئی معیاری حد بندی ہی نہیںہے جس کی بنیادپراساتذہ کی تنخواہوں میں سالانہ اضافہ کیاجاتا۔جس طور سے نجی اسکولوں کی انتظامیہ اساتذہ سے برتائو کرتی ہے، اس سے یہی اخذ کیاجاسکتا ہے کہ نجی اسکولوںکو یہ گمان ہے کہ وہ کسی کے سامنے اس کیلئے جوابدہ نہیں ہیں اور سالہال سال سے اس استحصال کا کسی نے نوٹس نہیں لیاہے اور عین ممکن ہے کہ مستقبل میں بھی اس کی طرف کسی کا دھیان نہیں جائے گا اور یہ جاری رہے گا۔تقریباًہرسال نجی اسکول بچوں کی فیس میں قانونی یاغیرقانونی طور آٹھ سے دس فیصد تک اضافہ کرتے ہیں اور اس کے لئے کسی بااختیار حاکم سے اجازت بھی نہیں لی جاتی ہے لیکن اساتذہ کی تنخواہوں میں اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں میں کام کرنے والے تدریسی اور غیرتدریسی عملہ کی تنخواہوں کو باضابطہ بنانے کیلئے کسی نظام کو مرتب ہی نہیں کیا ہے ۔حال ہی میں لیفٹنٹ گورنر کی صدارت میں ایک میٹنگ میں نجی اسکولوں کی طرف سے طلبہ سے وصول کئے جانے والے فیس اور ان اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں کے معاملے پرغور کیا گیا۔میٹنگ میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی کاجائزہ لیتے ہوئے لیفٹنٹ گورنرنے نجی اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کومالی مدد دینے کیلئے ان اسکولوں کی طرف سے وصول کئے جانے والے فیس کی تفصیلات طلب کیں،جوان اسکولوں نے فراہم کی ہیں،تاکہ اسی بنیاد پر ان اسکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ کوامداد فراہم کی جائے۔اس فیصلے سے قلیل تنخواہ پانے والے ہزاروں اساتذہ کی اُمیدیں جاگ اُٹھنے کاامکان ہے لیکن سبھی کی نظر حکومت پر ہے کہ کیا حقیقی معنوں میں نجی اسکولوں میں کام کرنے والے مستحق اساتذہ کواس سے فائدہ ہوتا ہے۔اُمید کی جاسکتی ہے کہ اپنی نوعیت کے اس پہلے فیصلے کوزمینی سطح پر عملایا جائے گااوراگر اس پر عملدرآمد کیاگیا تو نجی اسکولوں کے مستحق اساتذہ کوفائدہ ہوگا۔