ذرائع ابلاغ عامہ کے معاشرے پر اثرات کی اہمیت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کیونکہ یہ تعلیم ِ عامہ کا سب سے بڑا ذریعہ بھی کہلاتا ہے ۔ ہر ادوار میں ذرائع ابلاغ کی اہمیت اور افادیت کووسعت ملتی رہی ہے جبکہ موجودہ ابتلائی وبائی دور میںاس کی وسعت اور اثر پذیری میں بے حد اضافہ ہوا ہے،جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو، جو اس کی رسائی سے باہر ہے۔ اس کا ایک فایدہ ،جو سبھی کو پہنچ رہا ہے، یہ ہے کہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اطلاعات و معلومات پہنچانا ممکن ہوگیا ہے ۔دنیا میں کہیں بھی کوئی واقعہ پیش آئے ،اس کی اطلاع ذرائع ابلاغ عامہ سے نشر ہوتے ہی گھر گھر پہنچ جاتی ہے ۔بعض اوقات تو لوگ ایسے واقعات کو براہ راست رونما ہوتے ہوئے بھی دیکھتے رہتے ہیںتاہم ذرائع ابلاغ کے بُرے تاثرات سے معاشرے کی روایات اور اقدار پر اثر انداز ہونے والے خطرات بھی نظرا ٓرہے ہیں۔جس کے نتائج ہم دیکھ رہے ہیںاور محسوس بھی کرتے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے منفی اثرات سب سے زیادہ نوجوان نسل پر مرتب ہورہے ہیں ۔ذرائع ابلاغ کی اثر اندازی سے ہماری نوجوان نسل نے بہت سی ایسی عادتیں اپنائی ہیں جوکہ ہماری تہذیب و تمدن اور قدروں کے بالکل برعکس ہیں۔ایک عام تاثر یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ جرم و تشدد کو بڑھانے کا باعث بن رہے ہیں،ایک رائے یہ بھی ہے کہ ذرائع ابلاغ پر زندگی کی حقیقتوں سے زیادہ چمک دھمک (گلیمر)دکھائی جارہی ہے اور اس طرح ذرائع ابلاغ معاشرتی قدروں کو سامنے رکھ کر اپنا کردار متعین کرنے پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے بلکہ ایک طرح سے اس نے دوسروں کی نقالی کو ہی اپنے کردارپر متعین کرکے اس پر قناعت کرلی ہے۔جس کی مثال تقریباً تمام ٹی وی چینلوں پر بولی جانے والی اور اخبارات میں لکھی جانے والی زبان ہے۔جس میں بلا وجہ اور بلا ضرورت دوسری زبانوں کے لفظ ٹھونسنے کا رجحان روز افزوں بڑھ رہا ہے۔بغور دیکھا جائے توبھارتی ذرائع ابلاغ جہاں اپنی قومی زبان کا کوئی پاس و لحاظ مدنظر نہیں رکھ رہا ہے وہیں بھارت بھر میں بولنے والی زبان اُردو کا بھی ستیا ناس کررہا ہے۔اردو زبان میں بھی بلاوجہ اور بلا ضرورت انگریزی اور دوسری کئی مقامی زبانوں کے الفاظ ٹھونسنے کے رجحان سے اس کا حلیہ بگاڑ رہے ہیںاور اس طرح حقیقی معنوں میں وہ بذات ِخود مغربی ثقافتی یلغار کا ہدف تو بن چکی ہے ،ساتھ ہی وہ دوسروں کو بھی مغربی ثقافت کی یلغار کا نشانہ بنا رہی ہے۔ذرائع ابلاغ کے اس طرز عمل سے کسی بھی طرح کسی زبان خاص طور پر اردو زبان کی کوئی خدمت نہیں ہورہی ہے بلکہ اس زبان کو زک پہنچانے کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں تواتر کے ساتھ جاری رکھی ہوئی ہیں۔
اب ذرااپنی اس وادیٔ کشمیر کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہاں کی مادری زبان کا بھی بُرا حال ہوگیا ہے ۔ کشمیریوں نے خود ہی اپنی مادری زبان سے کافی حد تک ناطہ توڑدیا ہے اور اس زبان میں دوسری زبانوں کے الفاط ٹھونس کر اس کا حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے ۔ایک طرف جہاں اس زبان میں بلا وجہ اور بلا ضرورت دوسری زبانوں خاص طور پر انگریزی ،پنجابی ،بنگالی اور بھارت کی کئی دوسری ریاستوں کی مقامی زبانوں کے بعض اچھے اور زیادہ تر لچر الفاظ ٹھونس ڈالے ہیں وہیں دوسری طرف ٹی وی چینلوں کے ذریعے کشمیری زبان میں دکھائے جانے والے ڈراموں ،سلسلہ وار سیریلز کے ساتھ ساتھ گیت سنگیت،ناچ نغمے اور دوسرے پروگراموں میں نہ صرف کشمیری زبان کا کوئی لحاظ ہوتا ہے بلکہ کشمیری تہذیب و تمدن اور کشمیری روایات کا بھی جنازہ نکال دیا جاتا ہے ۔تعجب کا مقام ہے کہ کہ اب کشمیریوں کی ایک خاصی تعداد اپنی مادری زبان بولنے میں شرم محسوس کرنے لگی ہے ،تقریباً ہرطبقہ اور ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی زیادہ ترکشمیری خواتین تو اب اپنے آپ کوشاید کشمیری نسل ہی نہیں سمجھتی ہیں۔افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ وقفہ وقفہ کے بعدمختلف موقعوں پر مختلف مجلسوں اور محفلوں میں کشمیر میں کشمیری زبان کو فروغ دینے کے لئے واویلا مچانے اوراپنے آپ کو کشمیری زبان کا غمخوار جتلانے والے بیشتر کشمیری ادیب ،نقاد اور شاعر بھی اپنے گھروں میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ کشمیری زبان میں بات کرنا حماقت سمجھتے ہیںاور اپنی مادری زبان’کشمیری‘ سے دور رکھ کر اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت شہرت یافتہ انگریزی اور مشینری سکولوں میں ہی دلواتے رہتے ہیں۔اس سلسلے میں جب ان کشمیر ی زبان کے نام نہاد غمخواروں سے بات چیت کی جاتی ہے تو بلا جھُجک یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کرتے کہ ہمارے بچوں کو بانہال پار بھی تو جانا ہے ،کشمیری زبان کس کام کی چیز ہے؟ظاہر ہے کہ ان سب باتوں کی بنیادی وجہ فکری افلاس ہی ہوسکتی ہے جو مَنوں اور ٹَنوں وزن کے کتابوں کے پڑھنے سے بھی دور نہیں ہوسکتا جبکہ دوسری وجہ ذہنی مرعوبیت بھی ہوسکتی ہے ۔
ذرائع ابلاغ اور الیکٹرانک میڈیا کی وساطت سے ہماری سرکاری زبان اُردو اور ہماری مادری زبان کشمیری کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یادانستہ طورپر کیا جارہا ہے وہ بہر حال ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔بے شک ہمارا معاشرہ کئی برائیوں اور خرابیوں کی زد میں آچکا ہے تاہم اپنے معاشرتی اقدار کے سبب ابھی بھی کافی حد تک مختلف بُرائیوں اور خرابیوں سے صاف و پاک ہے۔اس لئے اپنے معاشرتی اقدار کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے، جس کے لئے ذرائع ابلاغ والیکٹرانک میڈیا پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا بہترین کردار ادا کریں۔لیکن تاحال وہ اس جانب توجہ مرکوز نہیںکررہی ہیں۔ یا د رہے کہ ایک انسان کی شرافت اس کے اعمال اچھے ہونے سے ہی ظاہر ہوتی ہے ،بُرا اور بخیل آدمی شیطان کا مددگار ہوتا ہے ۔ہماری معاشرتی قدروں میں سے ایک بڑا تصور حیا کا بھی ہے کیونکہ حیا نصف ایمان ہے، لیکن اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کو دیکھیں تو ان کے ذریعے پیش کیا جانے والا تصور بالکل بے حیاہے ۔ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیںکہ اصولی طور پر جو بات غلط ہے وہ کبھی بھی عملی طور پر صحیح ثابت نہیں ہوسکتی،جبکہ عقل مند لوگ کبھی اپنے اصول و اقدار کی پیروی نہیں چھوڑتے ہیں۔اس لئے یہ کہنا پڑرہا ہے کہ معاشرتی اقدار کے تحفظ کے لئے ذرائع ابلاغ کے کردار کو صحیح سمت میں متعین کرنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ وہی معاشرہ اچھا کہلاتا ہے جس کے اخلاق اچھے ہوںاور معاشرے کے مروجہ اصولوں و اقدار کی خلا ف ورزی کا دُکھ صرف کردار کی مضبوطی کے بل بوتے پر ہی برداشت کیا جاسکتا ہے اور اس کے اسباب کے بارے میں فکر مند رہنا عقلمندی ہے۔