کورونا وائرس وبائی بیماری نے انسانی حقوق کے ایک بنیادی عنصر یعنی رازداری کے حق کے تحفظ کے بارے میں ایک زبردست بحث کو جنم دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوامی صحت کی اس غیر معمولی ہنگامی صورتحال نے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے اور اربوں عالمی شہریوں کی صحت کی حفاظت کے لئے سخت ،کٹھور، قلیل مدتی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم جو چیز خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ وبائی مرض کے خاتمے کے بہت بعد یہ عارضی اقدامات سول سوسائٹی کا مستقل حصہ بن جائیں گے۔
اگست 2017 میں ، سپریم کورٹ کے نو ججوں کے بنچ نے جسٹس کے ایس پوٹاسوامی بنام یونین آف انڈیا کیس میں ایک متفقہ فیصلہ سنایا جس کے تحت اس نے ہندوستانی آئین کی دفعہ 21 (زندگی ا ور ذاتی آزادی کا حق )میں رازداری کے حق کو پڑھا۔ بنیادی حق کے طور پر رازداری کے حق کی یہ تصدیق ہندوستان کی آئینی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ آئینی (چالیسویں ترمیمی) ایکٹ 1978کے ذریعے آئین کی دفعہ359 میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ یہ بات واضح کی جاسکے کہ قومی ایمرجنسی کے دوران بھی دفعہ 21 کو معطل نہیں کیا جاسکتا ہے۔دوسرے تمام بنیادی حقوق کی طرح ، رازداری کا حق بھی مطلق نہیں ہے۔ یہ مخصوص حالات کے تحت معقول پابندیوں کے تابع ہوسکتا ہے ، خاص طور پر اگر وہ بڑے عوامی مفاد سے وابستہ ہیں ، تاہم انہیں مخصوص قانون سازی کے ذریعہ منظوری دینی ہوگی۔
ہندوستان میں ، بنیادی طور پر تین مداخلتوں کے سبب کورونا وائرس وبائی امراض کے دوران رازداری کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
قرنطین افراد کی ذاتی معلومات کو عوامی طور پر افشا کرنا
یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ حکومت ، اگر اس کا انتخاب کرتی ہے تو کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے وسیع تر عوامی مفاد میں لامحدود اختیارات استعمال کرسکتی ہے۔ تاہم یہاں ہی زیادہ سے زیادہ خطرات موجود ہیں۔موجودہ دور جیسے حساس اوقات میں حکومتیں عوام کے مفادات کی آڑ میں اپنے اختیار سے متجاوز ہوکر شہری حقوق کم کرنے کی عادی ہوسکتی ہیں۔ موجودہ منظرنامے میں جن اہم معاملات کا خیال کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ان تمام مداخلتوں کو ان مقاصد کے لئے خصوصی طور پر نافذ کردہ قانون سازی کی حمایت حاصل نہیں ہے۔
حکومت نے کورونا وائرس کیخلاف جنگ لڑنے کے لئے تجویز کردہ حلوں کے جواز کی خاطر ذیلی قوانین پر انحصار کیا ہے۔ مہاماری بیماریوں کے ایکٹ مجریہ 1897 کو راجستھان ، کرناٹک اور دیگر ریاستوں میں قرنطین کئے گئے افراد کی ذاتی معلومات کو عوامی طور پر افشا کرنے کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ ڈرونوں کی تعیناتی ،جیو فنسنگ ٹیکنالوجی کے استعمال اور کنٹیکٹ ٹریسنگ اپلی کیشنز کے استعمال کی توثیق کا جواز پیدا کرنے کیلئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ 2005 ، ائیرکرافٹ ایکٹ 1934 اور ٹیلی گراف ایکٹ 1885 کی دفعات کی سرنو تشریح کی جارہی ہے۔رازداری کے حق کو کمزور کرنے کے لئے عمومی قوانین کا استعمال از خود ناقابل دفاع ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ رضامندی کے بغیر ذاتی معلومات کا انکشاف کرکے سرکاری حکام نے شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور ان کی حفاظت سے سمجھوتہ کیا ہے۔ وہ حالات میں 'کم سے کم مداخلت کرنے والے اقدامات' استعمال کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔ پوٹاسوامی فیصلے میں یہ فیصلہ کرنے کے لئے تین مرحلوں والی آزمائش کی وضاحت کی گئی کہ آیا عوامی مفاد میں رازداری کے حق کو کمزور کرنا مناسب ہے یا نہیں:
قانونی حیثیت: پابندی والی کارروائی قانونی ہونی چاہئے ، یعنی اسے قانون کے ذریعہ منظور کیا جانا چاہئے۔
جائز مقصد:کارروائی کا ایک جائز مقصد ہونا چاہئے ، یعنی ، یہ صوابدیدی یا استحصالی نہیں ہونا چاہئے۔
جوازیت:مقصد اور اس کے حصول کیلئے اختیار کردہ اقدامات کے مابین عقلی تعلق
مذکورہ ذیلی قوانین میں کوئی اظہاری دفعات نہیں ہیں جو نگرانی کی سرگرمیوں کو مجاز بناتی ہیں۔ ریاستی حکومتوں نے ان افراد کی ذاتی تفصیلات کا انکشاف کیا جن کو قرنطین کیا گیا تھا ، ضروری نہیں کہ ان میں انفیکشن تھااور یہ سب ان کی رضامندی کے بغیرہی کیاگیا۔ خدشہ یہ تھا کہ ایسے لوگ قرنطین پابندیوں کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں اورنفیکشن پھیلا سکتے ہیں۔ حکومت کی ویب سائٹس لوگوں پر ذاتی تفصیلات کا انکشاف بدنامی میں اضافہ، بائیکاٹ اور ہراسانی کا موجب بن گیاجس سے ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اور ان کے تحفظ کیساتھ سمجھوتہ کیاگیا۔
سپریم کورٹ نے ماڈرن ڈینٹل کالج بنام ریاست مدھیہ پردیش کیس میں ایک آئینی حق کی محدودیت کی اجازت دینے کے لئے چار جہتی تناسب ٹیسٹ کی وکالت کی۔ ان میں سے ایک ('' کم سے کم مداخلت والے اقدامات '') اس بات کا جائزہ لینا کا تقاضا کرتا ہے کہ کیااسی مقصد کے حصول کیلئے ’’کم درجہ کی محدودیت‘‘کے ساتھ متبادل اقدامات دستیاب ہیںیا نہیں۔ حقائق کے تجزیے کی بنیاد پر معقول حد تک یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حکام نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ’کم سے کم مداخلت والے اقدامات‘ اختیار نہیں کیے ہیں۔ اسی مناسبت سے کورونا وائرس سے متعلق مداخلتی اقدامات عدالت عظمیٰ کے ذریعہ پیش کردہ تناسب ٹیسٹ میں ناکام ہوجاتے ہیں۔
اگر ان کارروائیوں کو ذاتی ڈاٹا کے تحفظ سے متعلق قانون 2019(پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2019) کی دفعہ 12 (رضامندی کے بغیر ذاتی ڈیٹا پر کارروائی کرنے کی بنیاد) پر انحصار کرتے ہوئے جواز پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو بھی اہم بات یہ ہے کہ اس بل کو ابھی تک قانون کے طور نافذ نہیںکیاگیاہے۔
وبائی امراض سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کو فوری طور پر ایک مضبوط اور سرشار قانون کی ضرورت ہے۔ اس طرح کا قانون خاص طور پر وبائی امراض اور صحت کی ہنگامی صورتحال کے دوران رازداری کے تحفظ سے نمٹنے کے لئے ہوناچاہئے۔ متعدد مداخلتوں کے ذریعہ حاصل کئے گئے ڈاٹا کو مخصوص کام کیلئے استعمال کیاجاناچاہئے اور اس کو رضامندی کے بغیر تیسرے فریض تک نہیں پہنچانا چاہئے۔
کورونا وائرس انفیکشن کی روک تھام کے لئے جمع کردہ ڈیٹا سے متعلق اہم خدشات میںیوں ہیں:
غلط استعمال:تیسرے فریق کو رضامندی کے بغیر ڈیٹا کا انکشاف کرنا یا اسے ریاستی نگرانی کے لئے استعمال کرنا
غیر مجاز تقسیم:مخفی رکھے بغیر غیر تجارتی مقاصد (جیسے تحقیق)کے لئے اعداد و شمار کی فراہمی
افشاء:سرکاری ویب سائٹوں اور رابطے کا سراغ لگانے والے ایپس میں سیکورٹی کے خراب خطرات، جو ڈیٹا کے رسائو یا افشاء ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اعداد و شمار کی حساسیت کی وجہ سے حکومتی حکام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جمع کی گئی معلومات کی رازداری کو برقرار رکھنے اور اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے پوری طرح سے جوابدہ ہوں۔ پوٹاسوامی فیصلے میں ، جسٹس بوبڈے نے فیصلہ سنایا تھا کہ فطری طور پر صحت کے ریکارڈ جیسے ذاتی اعداد و شمار کی تقسیم کے لئے رضامندی ضروری ہے۔ رازداری کی خلاف ورزی ہونے کے علاوہ غیر مجاز انکشاف کرنے سے بدنامی ، مقاطعہ اور ہراسانی کی صورت میں شدید معاشرتی عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔
ایک سوال اپنی جگہ پر برقرار رہتا ہے کہ جب وبائی مرض ختم ہوجائے توان اعداد و شمار کا کیا ہوگا۔ ایسے سنگین خدشات ہیں کہ انضباطی نگرانی کی عدم موجودگی میں اعداد و شمار کو نفیس نگرانی کے ایک بہتر آلے کی تعمیر کے لئے استعمال کیا جائے گا جو شہریوں کو ان کی رضامندی کے بغیر مانیٹر کرے گا۔ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود شہریوں اور شہری آزادی کی حامی تنظیموں کو خوف ہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن کے مضبوط قانون کی عدم دستیابی ایک ایسی کمزوری ہے جس کا ناجائز مقاصد کے لئے ذاتی ڈیٹا کو استعمال کرنے میں استحصال کیا جاسکتا ہے۔
میں پھر دہراتا ہوںکہ ہندوستان کو کورونا وائرس جیسی سنگین وبا ئی بیماریوں سے نمٹنے کے لئے فوری طور پر ایک مضبوط اور سرشار قانون کی ضرورت ہے۔ دیگر قواعد و ضوابط کے علاوہ اس طرح کے قانون میں مہاماری اور صحت کی ہنگامی صورتحال کے دوران شہریوں کے حقوق کے تحفظ ، بشمول رازداری کے حقوق سے متعلق معاملات طے کرنا چاہئیں۔صحت عامہ اور رازداری کو متوازن کرنے کے لئے قانون کو جائز مقصد اور جوازیت کی آزمائش پر انحصار کرنا چاہئے ، جیسا کہ سپریم کورٹ کے ذریعہ لازمی بنایاگیا ہے۔ اور آخر کار شہریوں کو یہ حق حاصل ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ڈیٹا کو حذف کرنے کی درخواست کریں جب وہ مقصد حاصل کیا گیا ہو جس کے لئے یہ اکٹھا کیا گیا تھا۔
(سید اقبال طاہر سپریم کورٹ کے وکیل ہیںاور ان سے Iqbal.tahir.lawyer.comپر رابطہ کیاجاسکتا ہے)