آخر کیوں کیا جا رہا ہے ہمیں لہو لہان؟ کیوں کیا جا رہا ہے ہمیں برہنہ ؟ کیوں نوچا جا رہا ہے ہمارے جسموں کو؟ کیوں کیا جا رہا ہے ہمیں آگ کے حوالے ؟ کیا یہ سب کرنے کے لئے بیٹی بچاؤ کے نعرے بلند کئے جا رہے تھے کہ بیٹی ہم تمہیں کوکھ میں نہیں مرنے دیں گے بلکہ تجھے تو نوچ نوچ کے کھائیں گے،تجھے تو جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی برہنہ کر دیں گے،تیرا تماشہ تو دنیا بھر میں لگائیں گے کہ دیکھو بیٹی کو اس لئے بچانے کا نعرہ دیا تھا کہ بڑی ہو کر ہوس کے پجاریوں کی ہوس کا نشانہ بنے۔ آسیہ، نیلوفر، آصفہ ، دامنی، نربھیا ، حیدرآباد کی ڈاکٹر،اناؤ کی مسکین اور ہزاروں ایسی ہی بد نصیبوں کے ساتھ یہی تو ہوتا آیا ہے ۔ہر بار نئے نئے آرڈی نینس پاس ہوتے ہیں لیکن نتیجہ کیا نکلا۔؟آصفہ مظلوم کے اغوا، عصمت دری اور قتل کے بعد تو جموں کشمیر میں بھی آرڈی نینس پاس ہوا تھا ،کہ 12 سال سے کم عمر کی بچیوں کے ساتھ عصمت دری کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے گی اور 13 سال سے زیادہ عمر والی بچیوں کی عصمت دری کرنے والوں کو عمر قید کی سزا دی جائے گی لیکن کیا عملی طور پہ ایسا ہوا؟ ۔نہیں بلکہ جس آصفہ پہ ظلم ہوا اور جس کے کیس کی وجہ سے یہ آرڈی نینس پاس ہوا تھا، اسی آصفہ کے مجرمان کو کوئی موت کی سزا نہیں ہوئی ۔ارے موت کی سزا کیا ،انہیں تو کچھ برسوں کی سزا بھی نہیں ہوئی۔کسی کو ضمانت دے دی گئی ،کسی کے خلاف گواہی نہیں ملی اور کچھ کو سات آٹھ سال کی سزا ہوئی اور چند روپیوں کا جرمانہ ،بس بات ختم ۔کیس بھی بند اور ہیرو گیری بھی ہو گئی۔
اگر آصفہ کیس میں مجرمان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی برتی ہوتی ،پھانسی کا پھندا ان کے گلے تک بھی پہنچا ہوتا ،سماج کے بڑے ٹھیکیداروں نے مجرمان کی پشت پناہی نہ کی ہوتی تو تاریخ صرف دو سال کے بعد اپنے آپ کو کٹھوعہ میں ہی دوبارہ نہ دہراتی اور پھر سے 13 سالہ معصوم (نام مخفی) کے ساتھ عصمت دری نہ ہوتی۔بیشک مجرم کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے لیکن انصاف ہوگا ،اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ابھی تک؟۔جب آصفہ مظلوم کے ساتھ ظلم ہوا تھا تو ایک بہانہ یہ بھی تھا کہ مرکز کے قانون ریاست جموں کشمیر میں دفعہ 370 کی وجہ سے لاگو نہیں کئے جا سکتے لیکن اب تو وہ راگ بھی ختم ہو چکا ہے۔ اب تو مرکزی زیر انتظام علاقے کی حیثیت سے جموں کشمیر میں ایسی کوئی بندش نہیں ہے ۔اب انصاف ہونے میں دیر نہیں ہونی چاہیے لیکن دیر ہوگی۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کٹھوعہ میں صرف خانہ بدوش گجر بکروال طبقے کی کم سن بچیوں کو ہی نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے اور اکثریتی طبقے کے لوگ ہی کیوں ایسا گھناؤنا اور شرمناک کام کر رہے ہیں؟۔ جموں کشمیر کے باقی اضلاع میں بھی توغیر مسلم اکثریت ہے، وہاں ایسے گھناؤنے جرم تو نہیں ہو رہے ۔ہندوستان تو ’’انیکتا میں ایکتا‘‘کی مثال ہے، پھر ایسی کیا وجوہات ہیں کہ ایک مخصوص علاقے میں مخصوص طبقے کی بچیوں کو نو خیز کلیوں کو بری طرح سے مسلنے کی سازشیں بام عروج پہ ہیں؟۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایک 13 سال کی بچی ،جس نے ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تھا، اکیلی جنگل میں مویشیوں کے ساتھ کیوں تھی کیا ۔اس کے والدین کو اتنا شعور نہیں تھا کہ بچی کو اکیلے جنگل میں نہیں بھیجنا چاہیے۔ کیا آصفہ کی عصمت دری اور مبینہ قتل سے انہیں کوئی سبق نہیں ملا کہ بچیاں کتنی نازک اندام اور سہج سہج کے رکھنے والی مخلوق ہیں۔کیا آصفہ کا حال دیکھ کے بھی ان والدین کے دل نہیں کانپے کہ وہ اسی سماج پہ بھروسہ کر بیٹھے جس نے بار بار ان کو کچو کے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آخر یہ ان کا بھروسہ ہے، نادانی ہے کم عقلی ہے یا پچھڑے پن کی انتہا ہے۔میرے خیال میں خانہ بدوشی کی سختیوں سے جھوجھتے اس طبقے کی خواتین میں دینی اور دنیاوی تعلیم کی کمی کی وجہ سے اس طبقے کی بچیاں ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔اگر والدہ کو شعور ہوتا تو وہ کبھی بھی بچی کو اکیلے جنگل میں نہ جانے دیتی۔خانہ بدوش گجر بکروال قوم کی بچیاں سماج کی ،والدین کی اور سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے لٹ رہی ہیں۔اب لٹی سو لٹی، لیکن سماج کے ڈر سے ،لوٹنے والوں کے اثر و رسوخ کے خوف سے، رسوائی کے خوف سے انصاف کے لئے لڑنا بھی چھوڑ دیتی ہیں۔پتہ نہیں کتنی ایسے ہی ظلم کی شکار بچیاں گمنام ہی گھٹ گھٹ کے جی رہی ہوں گی یا پھر سسک کے سسک کے منوں مٹی ہو گئی ہوں گی۔ لیکن معاشرے میں بدنامت کے خوف سے ، سماج کے ٹھیکیداروں کے خوف سے اور بچیوں کو نوچنے والے درندوں کی شیطانی دھمکیوں کے خوف سے اُف تک نہ کی ہوگی۔
اکیسویں صدی میں بھی خانہ بدوش قوم کی بچیاں آج سے چودہ سو سال پہلے کے حالات میں جی رہی ہیں ،فرق صرف اتنا ہے کہ تب بچیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا لیکن آج پیدائش کا حق تو مل گیا لیکن کبھی بھی کہیں بھی ایک چیونٹی کی طرح مسل دی جاتی ہیں اور ہوس کے پجاریوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔ ان بچیوں کو ظلم اور بربریت کے اس اندھے کنویں سے کوئی نہیں نکال سکتا نہ کوئی سماج کا ٹھیکیدار، نہ کوئی قانون اور نہ سرکار جب تک ہم خواتین پڑھیں لکھیں گی نہیں دین کی تعلیم نہیں سیکھیں گی دنیاوی شعور نہیں حاصل کریں گی ۔اگر خواتین تعلیم سے آراستہ ہوں گی تبھی تو مائیں پڑھی لکھی ہوں گی باشعور ہوں گی اور اپنی بچیوں کو بھی شعور کی سیڑھیاں چڑھنے میں مدد کریں گی۔اپنی بچیوں کی حفاظت کر پائیں گی۔ اس لئے میری گجر بکروال قوم کی سبھی پڑھی لکھی اور با شعور خواتین سے گزارش ہے کہ خدا را اپنے آس پاس خواتین کو بچیوں کو گائیڈ کریں انھیں زمانے کی اونچ نیچ سے واقفیت کرائیں، بچیوں کی کفالت کا سلیقہ سیکھائیں، تعلیم کی اہمیت کو ان کے اندر اجاگر کریں ،تبھی یہ سادہ لوح قوم کی بچیاں اسطرح کے شیطانی صفت درندوں کے چنگل سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔
رابطہ :کلر راجوری جموں وکشمیر
ای میل :[email protected]