بلاشبہ کسی بھی قوم کی باگ ڈور اس کی نئی نسل کے ہاتھ میں ہوتی ہے،جس طرح ایک عمارت کی تعمیر میں اینٹ ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اینٹ سے اینٹ مل کر عمارت وجود میں آتی ہے،اسی طرح قوم و ملت کی تعمیر میں ہر نوجوان کی اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہماری نئی نسل ایک مصنوعی دنیا میں جی رہی ہے اور اس سے باہر آنے کو تیار ہی نہیں۔ انکی ترجیحات اور معیارات تبدیل ہوچکے ہیں۔آج کے نوجوان کا سماج فیس بک ہے۔ ٹائم لائن جسے وہ اپنی زندگی سے تعبیر کرتا ہے، اس میں وہ اپنی ذات کے خوبصورت پہلوؤں کو سامنے لاتا ہے۔ جو چیزیں اس کے دل کو بھاتی ہیں انہیںشیئر کرتا ہے۔ یہ سب چیزیں نوجوانوں کو ذہنی طور پہ تو آسودہ کر دیتی ہیں لیکن اسے علم اور اپنی ذات کی پہچان سے بہت دور لے جاتی ہیں۔
نئی نسل نفسیاتی پیچیدگیوں اور لاحاصل مسابقتوں کے بھنور میں ہے۔ اپنی جبلتوں کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو سمجھنے میں بھی ناکام ہے۔ اپنی موجودہ اجتماعی حالت سے بے نیاز انفرادی طور پر اپنے حالات سے خوشیاں کشید کرنے کی کوشش میں ہے چاہے اس کیلئے اسے کچھ بھی کرنا پڑے۔
اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ آنے والے دور یعنی مستقبل میں ہمارا کوئی بامعنی و بامقصد کردار ہو تو ہمیں تربیت کے ذریعے نسلِ نو کے شعور میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنی ہے۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ ہمیں انہیں مقصد سے آشنا کرنا ہے اور انہیں ان کے منصب کا احساس دلانا ہے۔ جب تک ہم یہ نہیں کرلیتے اس وقت تک ہمارا مقصد پورا نہیں ہوگا اور ہم جو کچھ بھی کرتے چلے جائیں وہ سارا مصنوعی یا روایتی ہو گا، اس سے کوئی واضح تاثیر نہیں ہوگی۔
ترقی ان اقوام کا مقدر بنتی ہے،جن کے نوجوانوں میں آگے بڑھنے کی لگن اور تڑپ ہوتی ہے۔ اگر نسلِ نو قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے تعمیر ملت کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں اور معاشرے میں ہر برائی کو اچھائی میں تبدیل کرنے کی ٹھان لیں ،تو تعمیر قوم کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ دریا میں تنکے کی طرح بہہ جائے گی۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کے نوجوانوں کے رجحانات اس قوم کے مجموعی مزاج کے عکاس ہوتے ہیں۔ اگر نئی نسل سیکھنے کی جانب راغب ہے تو آنے والے کل میں قوم کے مجموعی شعور میں بہتری اور پختگی کی امید رکھی جا سکتی ہے۔تعلیم اور سماج نئی نسل کے شعور کے معیار کو متعین کرتے ہیں۔جب نوجوان مخلص ہوکر اپنے ملک و قوم کیلئے محنت اور جدوجہد کرنے لگتے ہیں تو مثبت تبدیلی، ترقی اور بہتری کو کوئی نہیں روک سکتا، کامیابی ان کے قدموں کی دھول ضرور بنتی ہے۔ نوجوان ہی وہ قوت ہیں، جو اگر ارادہ کرلیں تو ملک کی باگ ڈور سنبھال کر ملک کو اوج ثریا پر پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ کامرانی ان اقوام کی قدم بوسی کرتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے لڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ خوش حالی ان اقوام کے گلے لگتی ہے، جن کے نوجوانوں کے عزائم آسمان کو چھوتے ہیں۔
سابق امریکی صد ر فرینکلن ڈی ر وز ویلٹ نے کہا تھا ’’ہم نوجوانوں کیلئے مستقبل تعمیر نہیں کرسکتے، مگر ہم مستقبل کیلئے اپنے نوجوانوں کی تعمیر کرسکتے ہیں‘‘۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر نوجوانوں میں یہ شعور اجاگر ہوجائے کہ مستقبل ان کے ہی ہاتھوں میں ہے ، ان ہی کے کاندھوں پر قوم کی ترقی کا دار ومدار ہے، وہ ہر برائی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں تومثبت تبدیلی آتے دیر نہیں لگے گی۔
اگر نوجوانوں میں یہ شعور بیدار ہوجائے کہ قوم کو بام عروج پر پہنچانے کیلئے ان کی اہمیت کیا ہے تو ہمارے آدھے سے زیادہ مسائل تو ویسے ہی حل ہو جائیں۔ لیکن آج کل ہر دوسرا نوجوان یہ شکایت کرتا نظر آتا ہے کہ یہاں ہمارے لئے آگے بڑھنے کے مواقع نہیں ہیں، نظام درست نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ نظام لوگوں سے ہی بنتا ہے۔ٹریفک سگنل پر ذرا سی دیر رکنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھا جاتا ہے،رشوت کو چائے ، افطار اور دوسرے ناموں سے اپنی جیبیں گرم کی جاتی ہیں ، یہی ساری برائیاں نظام کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔
زندگی میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، ہربڑی کامیابی کیلئے محنت بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے،ایک دم کچھ نہیں ملتا، اگر مسلسل محنت و جدوجہد کی جائے تو ضرور تبدیلی آتی ہے اور کامیابی بھی مقدر بنتی ہے۔ یہ معاملہ بھی خود میں وسعت رکھتا ہے کہ عصرِ حاضر میں صرف جذبات اور جوش کی ضرورت نہیں بلکہ حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے دانشمندی اور ہوش سے کام لینا انتہائی اہم ہے۔جذبات کی رو میں بہہ کر اکثر نوجوان مقاصد کی تکمیل نہیں کر پاتے لیکن جو نوجوان جوش کے ساتھ ہوش سے بھی کام لیتے ہیں، وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہو کر ہی رہتے ہیں۔ قوم کو نسل نوسے بڑی امیدیں وابستہ ہیں اور انہیں ان توقعات پر پورا اترنے کیلئے اپنی تمام تر ذہنی و فکری صلاحیتیں بروئے کار لانا ہوں گی۔
اپنے آپ کو بہتر بنانے کیلئے علم کو عام کرنے کی سعی کرنا ہو گی، قوم کے درد کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرنا ہو گا۔ اگر نوجوانوں کی دلچسپی کا مرکز قومی مسائل ہوں،تو قومی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بآسانی چھوٹے بڑے معاملات سے نمٹا جاسکتا ہے۔ نوجوان ہمت، عزم و حوصلے سے سرشار ہوتے ہیں، اگروہ ہر قسم کی بدعنوانی کو ختم کرنے کی ٹھان لیں ،برائی کی راہ میں رکاوٹ بننے کا پختہ عزم کرلیں، تووہ یقینا ً بدعنوانی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔صرف تنقید نہ کریں، بلکہ قدم قدم پر اپنی اصلاح بھی کریں۔ ساراسارا دن سوشل میڈیا پر دوسروں کی تنقید کے بجائے خود آگے بڑھ کر بہتری لانے کی کوشش کریں۔ دوسرے لوگوں کیلئے خود کو مشعل راہ بنانے کیلئے مہذبانہ رویہ کو اپنانا ہو گا۔
نئی نسل میں قیادت کے اوصاف پیدا کئے بغیربھی قوم کو استحکام اور دیرپا خوش حالی فراہم کرنا بے حد دشوارہے۔طلبہ میں علم و دانش اور قائدانہ صلاحیتوں کے فرو غ کے ذریعے ملک و قوم کے زوال کو کمال میں بدلا جاسکتا ہے۔چین کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’ اگر ایک سال کی منصوبہ بندی کرنی ہو تو مکئی اگاؤ، اگر دس سال کی منصوبہ بندی کرناچاہتے ہو تو درخت اگاؤ اور اگرصدیوں کی منصوبہ بندی کرنا چاہتے ہو تو اپنے عوام کی تربیت کرو انہیں بہترین تعلیم دو‘‘۔
صرف اعتراضات کرکے یا تنقید کرکے قوم کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا، ہماری نسل نو آج مختلف شعبوں سے وابستہ ہے ، اگر ہر نوجوان اپنے اپنے شعبے میں دیانت داری، محنت اور یکسوئی سے کام کرے، تو آہستہ آہستہ تمام شعبوں سے خود ہی ساری برائیاں ختم ہو جائیں گی۔اس بات سے تو انکار ممکن ہی نہیں کہ تبدیلی نوجوان ہی لاسکتے ہیں، اسلئے اگر واقعی ایک بہتر معاشرے کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں، اس کی خامیاں دور کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ کو بہتر بنائیں۔